بچپن سے سنتے آئے تھے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جو گندم ، کپاس چاول اور کماد جیسی بنیادی ضروریات زندگی کی حامل فصلوں میں خود کفیل ہے۔ان سے ناصرف ہم اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ دوسرے ممالک کو ایکسپورٹ کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی کماتے ہیں۔اب حالات یہ ہیں کہ ملک میں کبھی گندم اور چینی کا قحط پڑ جاتا ہے تو کبھی کپاس امپورٹ کرنی پڑ جاتی ہے۔ حکومتی بے حسی ، کسان دشمن پالیسیوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانا والا شعبہ زراعت گذشتہ کئی سالوں سے مجرمانہ غفلت کا شکار ہو رہا ہے جس کے اب بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ فصل اچھی ہو جائے تو مناسب قیمت نہیں ملتی اور کسان اپنی فصل بیچنے کیلئے در در دھکے کھاتا ہے۔ فصل اچھی نہ ہو تو بھی کسان ہی رلتا ہے۔اس کے پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہو پاتے۔ دونوں صورتوں میں معاشی طور پر تباہی کسانوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔ایک وقت تھا پیپلزپارٹی کسانوں کیلئے ہمدردی رکھتی تھی اور اس کی پالیسیوں میں زراعت اور کسان مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کی ایک وجہ شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی حلقوں میں اس کا ووٹ بینک بھی تھا۔ جنرل ضیاء نے شہروں میں نئی قیادت کی تلاش کی تو کرہ انتخاب ایک تاجر خاندان کا نکلا۔ جس کی ساری پالیسیوں کا مطمع نظر تجارت سے منسلک افراد کے مفادات کا تحفظ تھا۔ بے نظیر بھٹو جب تک زندہ رہیں کسان کے مفادات کا تحفظ کیا۔ بدقسمتی سے اس ہائبرڈ نظام میں آصف زرداری کی زیر قیادت پیپلز پارٹی اپنے اس مضبوط حلقے کو بھول گئی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ گندم سے شروع ہونے والا بحران اب کئی یگر فصلوں مثلاً چاول کپاس، مکئی ، تلی، سبزیوں اور پھلوں تک جا پہنچا ہے۔ رواں برس جون میں جو سرکاری اعدادوشمار سامنے آئے وہ زراعت کی زبوں حالی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بڑی فصلوں کی پیداوار میں 13.5 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی۔صرف چاول اور مکئی سے کسانوں کو مجموعی طور پر 1 ہزار ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ گندم کاشت کرنے والے کسان کو 15 سے 20 ارب کا نقصان ہوا۔ کسان نے منافع تو کیا لینا تھا ،پیداواری لاگت بھی حاصل نہ ہوسکی۔ ناقص بیج ، موسمیاتی تبدیلیاں، پیداواری لاگت میں مسلسل کئی گنا اضافے نے کسان کی کمر توڑدی ہے۔ زرعی ایکسپورٹ میں بھی کمی آ رہی ہے۔ ظاہر ہے جب بڑی فصلوں کی پیداوار میں
واضح کمی ہو گی تو ایکسپورٹ پر بھی فرق پڑے گا۔رواں برس مکئی میں 70 فیصد، کیلے میں 69 فیصد، آم میں 40 فیصد جبکہ پیاز اور لہسن میں 31 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے اہم فصل کپاس کی پیداوار میں بھی 30.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ کپاس کی فصل میں بڑی گراوٹ کے باعث صرف چھ ماہ میں 1.66 ارب ڈالر مالیت کی 8 لاکھ 54 ہزار 263 میٹرک ٹن کاٹن بیلز امپورٹ کرنا پڑی۔ 2010 میں کپاس کی سالانہ پیداوار 11 ملین گانٹھوں سے 14 ملین گانٹھوں کے درمیان تھی جو 15 سال بعد بجائے بڑھنے کے 7.5 ملین بیلز تک آ پہنچی ہے۔ایک وقت تھا پاکستان کا شمار کپاس کی پیداوار والے ٹاپ 10 ممالک کی فہرست میں شامل تھا اور اپنی ٹیکسٹائل کی ضروریات پوری کرنے کے بعد تھوڑی بہت کپاس ایکسپورٹ بھی کر رہا تھا۔ مگر اب حالات یکسر مختلف ہیں۔ اب تو 5 سے 6 ملین بیلز کپاس درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ سالانہ 2 ارب ڈالر صرف کپاس کی امپورٹ پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ گندم ، کپاس اور چینی کی درآمد پر بھی ٹیکس دہندگان کا قیمتی زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ جو پیسہ کسان اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا تھا وہ تو یا حکمرانوں کی شاہ خرچیوں پر خرچ ہو رہا ہے یا اجناس اور تیل کی درآمدات پر۔ کسان کو منتوں ترلوں سے اپنی پیداواری لاگت سے بھی کم دو ہزار روپے فی من گندم بیچنا پڑی۔ ظلم کی انتہا ہے۔ مجال ہے کہ ان سب کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کسان کی خوشحالی کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کئے ہوں۔ حکومت کی جانب سے کسان کے لئے نہ تو سپورٹ پرائس اور نہ ہی سبسڈی کا کوئی میکانزم ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لئے مہنگی بجلی ، ڈیزل، کھادیں اور زرعی ادویات ناقابلِ برداشت ہو گئی ہیں فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے ماہانہ لاکھوں روپے ٹیوب ویل کے بلز اور مہنگی کھادیں استعمال کرنا کسان کے بس کی بات نہیں رہی۔ ایک طرف جہاں کسان کو موسمیاتی تبدیلیاں متاثر کر رہی ہیں وہیں حکومت کی پالیسیوں نے بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ بدلتے حالات اور موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے بیجوں کی تیاری میں جدت اور ریسرچ پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ اس ملک میں صرف شوگر اور ہاوسنگ مافیا کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہے میں ہے۔ ابھی مسابقتی کمیشن نے وزیر خزانہ کو بریفننگ میں بتایا کہ غلط اعداد و شمار پیش کر کے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن شوگر ایکسپورٹ کی گئی۔ جس کی وجہ سے ملک میں چینی کی قلت پیدا ہوئی۔ ملز مالکان ڈبل قیمت پر چینی فروخت کرکے اربوں روپے کمائے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ چینی اور گندم کا یہ کھیل ہر دور حکومت میں رہا ہے۔ حکومت جان بوجھ کر آزاد ذرائع سے ڈیٹا حاصل نہیں کرتی یہ طریقہ واردات ہے ان طاقتوروں کا۔ جب ان کارٹلز کے خلاف تحقیقات ہوتی ہیں تو اس کے نتائج کو عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ رہی سہی کسر ہماری عدالتیں ان کو سٹے آرڈر دے کر پوری کر دیتی ہیں۔ چھوٹا کسان تو بے یار و مددگار ہے۔ تقریباً 86 فیصد کسان ایسے ہیں جن کے پاس رقبہ 12 ایکڑ یا اس سے کم ہے۔ اوپر سے وہ روایتی طریقہ کاشتکاری کو اپنائے ہوئے ہے، زراعت میں جدت سے چھوٹا کسان تو مستفید نہیں ہو رہا کیونکہ اسے حکومت کی سپورٹ حاصل نہیں ہے۔ زراعت کے جو حالات ہیں اس پر سبسڈی دینے کی بجائے ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ جبکہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت کسانوں کو کھاد اور بجلی میں سبسڈی دے رہا ہے۔ کسان کو بجلی تقریباً مفت ہی ہے جبکہ یہاں ایک چھوٹا کسان بجلی کے بل لاکھوں میں ادا کر رہا ہے۔ کھاد مہنگی ہونے کے باعث مناسب خوراک فصل کو نہیں دی جا رہی جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ منافع تو دور کی بات کسان کے تو اب اخراجات ہی پورے نہیں ہورہے۔ رہی سہی کسر سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں نے پوری کر دی ہے۔ کھڑی فصلیں بارشوں ، ژالہ باری اور سیلابی ریلوں کی نظر ہو رہی ہیں۔ درخت اور جنگلات کاٹ کاٹ کر جو تباہی اس ملک کی گئی ہے اب ان کے اثرات سے بچنا ناممکن ہے۔ پانی کی قدرتی گذرگاہوں پر، ہاؤسنگ سوسائٹییز کے نام پر کنکریٹ کے ڈھانچے کھڑے کر دئیے گئے ہیں۔ زرخیز زمین بھی سکڑ چکی ہے۔ ملک کے جنگلات میں 18 فیصد کی کمی ماحولیات اور معیشت کے لئے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ زرعی ملک اربوں ڈالرز کا قیمتی سرمایہ اجناس کی امپورٹ پر پھونک رہا ہے۔ امپورٹ ایکسپورٹ کا توازن بگڑ چکا ہے۔ بمشکل 30 ارب ڈالرز کی سالانہ برآمدات ہیں جبکہ پاکستان ماہانہ 5 ارب ڈالرز کی امپورٹ کر رہا ہے۔ تجارتی خسارہ کہاں تک جا پہنچا اس کا حساب لگا لیں۔ زراعت میں زوال کو حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے کھاتے میں ڈال رہی ہے۔ زراعت میں زوال کی اصل وجہ ناقص گورننس، زراعت کو نظر انداز کرنا اور پرائیویٹ سیکٹر کی حامی پالیسیاں ہیں۔ زراعت کے شعبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ 60 فیصد آبادی براہ راست زراعت سے منسلک ہے جو زوال پذیر ہے۔ 45 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔ 2.6 فیصد شرح نمو سے پتہ چلتا ہے کہ معاشی پہیہ سست روی کا شکار ہے۔ یہ اعدادوشمار کہیں سے بہتری کی جانب اشارہ نہیں کرتے۔