Wed, September 16, 2026

ریاست سوتیلی ماں نہ بنے

ریاست سوتیلی ماں نہ بنے

 ملک میں سیاسی پارٹیوں کی بنیاد پر اگر کوئی تقسیم ہے بھی تو درجہ بندی میں اس کا نمبر کافی نیچے ہی آتا ہو گا کیونکہ نمبر ون تقسیم تو حکمرانوں اور عوام کے درمیان ہے ۔ بدقسمتی سے اس تقسیم کی وجہ سے عوام میں تو کسی قسم کا کوئی اتحاد دیکھنے میں نہیں آتا لیکن حکمران طبقہ ، چاہے وہ کسی بھی نظریے کے حامل ہوں ایک ہی پیج پر موجود رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت چاہے پیپلز پارٹی کی ہو، نواز لیگ کی یا پھر پی ٹی آئی کی عوام کی آزمائش کا وقت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ایک عام آدمی جب صبح آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ آج کا خرچ کیسے پورا ہوگا۔ بچوں کی فیس، بجلی کا بل، گیس کا بل، راشن، دوائی غرض ہر چیز اس کے سر پر بوجھ بنی ہوتی ہے۔ وہ بڑی محنت سے پیسہ جوڑتا ہے۔ لیکن جب بھی وہ کسی سرکاری اعلان پر یقین کر کے کوئی بڑا قدم اٹھاتا ہے، کچھ عرصے بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک مرتبہ پھر سے ہاتھ ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ڈیزل کا بڑا چرچا تھا۔ ہر طرف یہی بات سننے کو ملتی تھی کہ پیٹرول کی نسبت ڈیزل بہت سستا ہے، زیادہ مائلیج دیتا ہے، اور لمبے عرصے تک فائدہ دیتا ہے۔ مکینک بھی یہی مشورہ دیتے تھے، شوروم والے بھی، اور حکومتی حلقوں سے بھی یہی تاثر ملتا تھا کہ ڈیزل بہتر انتخاب ہے۔ اسی چکر میں بہت سے لوگوں نے اپنی پیٹرول گاڑیاں ڈیزل پر کنورٹ کروائیں۔ کیونکہ انہیں یقین دلایا گیاتھا کہ یہی سمجھداری کا فیصلہ ہے۔لیکن یہ حقیقت تو بعد میں آشکار ہوئی کہ یہ ساری گیم تو بڑی تعداد میں درآمد شدہ سیکنڈ ہینڈ ڈیزل انجنوں کی فروخت کی تھی۔ پھر اچانک قیمتوں کا کھیل شروع ہو گیا۔ ڈیزل مرحلہ وار مہنگا ہو تا چلاگیا۔ جن لوگوں نے یہ سوچ کر سرمایہ کاری کی تھی کہ وہ سالوں تک بچت کریں گے، وہ حیران رہ گئے۔ ان کی گاڑیوں کی مارکیٹ ویلیو گر گئی۔ کنورژن پر لگایا گیا پیسہ ڈوب گیا لیکن کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ کم از کم اتنا ہی کہہ دیتا کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا ۔
پھر سی این جی کا دور آیا۔ اس وقت تو ایسا لگتا تھا جیسے پاکستان میں بس اب سی این جی ہی چلے گی۔ اخبارات میں خبریں، ٹی وی پر بیانات، ہر طرف یہ اعلان کہ گیس سستی ہے، ماحول دوست ہے، اور ہمارے پاس گیس کے وافرذخائر موجود ہیں۔ لوگوں نے بینکوں سے قرضے لے کر سی این جی اسٹیشن لگائے اور اپنی گاڑیوں میں سی این جی کٹس لگوائیں۔ ا س قت یہ کہا جاتا تھا کہ جو آج سی این جی نہیں لگوا رہا وہ نقصان میں رہے گا۔
لیکن کچھ ہی سال بعد اچانک یہ اعلان ہونے لگا کہ ملک میں گیس کی شدید کمی ہے۔ گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے۔ صنعتیں بند ہونے لگیں۔ اور سی این جی اسٹیشن ہفتوں بند رہنے لگے۔ وہی حکومت جو کل تک کہہ رہی تھی کہ گیس وافر ہے، اب کہہ رہی تھی کہ ہمارے پاس تو بنیادی ضرورت کے لیے بھی گیس نہیں ہے۔ جن لوگوں نے کروڑوں روپے لگا کر اسٹیشن بنائے تھے، وہ پریشان ہو کر عدالتوں کے چکر لگانے لگے۔ عام آدمی جس نے ہزاروں روپے خرچ کر کے کٹ لگوائی تھی، وہ قطاروں میں کھڑا رہ کر سوچتا تھا کہ اسے کس غلطی کی سزا مل رہی ہے؟۔
 بجلی کے بل تو عوام کے لیے ہمیشہ ہی ایک مسلہ رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے پیغام آیا کہ سولر سسٹم لگوا لیں۔ خود اپنی بجلی بنائیں۔ نیٹ میٹرنگ ہے، آپ اضافی بجلی بیچ بھی سکتے ہیں۔ یہ سن کر لوگوں کے دل میں پھر سے ایک امید جاگی۔ کسی نے زیور بیچ کر سولر لگوایا، کسی نے بچت سرٹیفکیٹ بیچے، کسی نے قرض لے لیا۔ مارکیٹ میں سولر پینلز کی مانگ اتنی بڑھی کہ قیمتیں بھی اوپر چلی گئیں، مگر لوگ پھر بھی لگوا تے رہے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ چند سال میں پیسہ واپس آ جائے گا۔
پھر ایک حکومتی فیصلہ آیا کہ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی تو بدل دی گئی ہے اور اب خریداری پر یونٹ کی قیمت انتہائی کم ہو گی۔ یعنی جس حساب سے لوگوں نے اپنا سرمایہ لگایا تھا، وہ حساب یکسر تبدیل ہو گیا لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں کہ جنہوں نے حکومتی پالیسی پر اعتمادکر کے سرمایہ لگایا تھا ان کے یقین کے ٹوٹنے کا ذمہ دار کون ہے؟۔ تبدیلیاں تو پوری دنیا میں آتی ہی رہتی ہیں لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں فیصلے سوچ سمجھ کر اور لمبے عرصے کے لیے نہیں کیے جاتے۔ پہلے ایک اعلان ہوتا ہے، پھر اس کی تشہیر ہوتی ہے اور جب لوگ اس میں کود پڑتے ہیں تو پالیسی اچانک سے تبدیل کر دی جاتی ہے۔ اور نقصان ہمیشہ عام آدمی کا ہی ہوتا ہے۔ میں نے فروری 2025میں ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں حکومت کی ان حرکتوں اور ان کے عوام پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کیا تھا۔ اس میں یہ بھی ذکر کیا گیا تھا کہ سولر سسٹم کے بعد حکومتی فیصلوں کا اگلا ٹارگٹ الیکٹرک گاڑیوں کے خریدار ہوں گے۔ سولر سسٹم کی حد تک تو بات درست ثابت ہو گئی اب الیکٹرک گاڑیوں کے خریدار اپنی خیر منائیں۔ اب تک تو یہی کہا جا رہا ہے کہ الیکٹرک گاڑی ہی مستقبل کی گاڑی ہے۔ اس سلسلہ میں ملک میں جگہ جگہ چارجنگ اسٹیشن بنیں گے، بیٹریاں سستی ہوں گی اور سب کچھ بدل جائے گا۔ یقینا دنیا اس طرف جا رہی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو ڈر نا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج وہ لاکھوں روپے لگا دیں اور کل بجلی کی قیمت اتنی بڑھ جائے کہ پیٹرول سستا محسوس ہونا شروع ہو جائے۔ یا پھر کسی دن اعلان ہو جائے کہ گرڈ پر بوجھ زیادہ ہے، لہٰذا چارجنگ پر اضافی فیس لگے گی۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب پالیسیاں بار بار بدلتی ہیں تو صرف پیسہ نہیں ڈوبتا، اعتماد بھی ڈوب جاتا ہے۔ اور جب کسی معاشرے میں اعتماد ختم ہو جائے تو ترقی رک جاتی ہے۔ سرمایہ کار بھی ڈرتا ہے، عام شہری بھی ڈرتا ہے۔ سب انتظار کی پالیسی اختیار کر لیتے ہیں۔ کوئی لمبے عرصے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معیشت سست ہو جاتی ہے۔
یہ کالم کسی ایک جماعت یا ایک حکومت کے خلاف نہیں ہے۔ یہ ایک رویے کے خلاف ہے۔ وہ رویہ جس میں عوام کو مکمل سچ نہیں بتایا جاتا۔ انہیں خطرات نہیں بتائے جاتے۔ انہیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا کہ یہ پالیسی بدل بھی سکتی ہے۔ صرف فائدے گنوائے جاتے ہیں، اور نقصان چھپا ئے جاتے ہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ ایمانداری کا برتاﺅ کرے۔ اگر کسی پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے تو اسے اچانک نہ کیا جائے۔ پہلے مشاورت ہو، وقت دیا جائے، متبادل راستہ بتایا جائے اور سرمایہ کار کو تحفظ دیا جائے۔ عام آدمی کو کم از کم اتنا تو یقین تو ہو کہ اس کا پیسہ ایک دن میں ضائع نہیں ہوگا۔ ایک عام آدمی کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ وہ ہر چند سال بعد نئی پالیسی کا نقصان برداشت کرے۔ اس کی جمع پونجی اس کے لیے سب کچھ ہوتی ہے۔ جب وہ ڈوبتی ہے تو اس کا حوصلہ بھی ڈوب جاتا ہے۔ ریاست اگر خود کو ماں کہتی ہے تو اسے اپنے شہریوں کے ساتھ سچ بھی بولنا چاہیے اور انہیں لوٹنے کے بجائے ان کے وسیع تر مفاد میں فیصلے بھی کرنے چاہیںتاکہ کم از کم سوتیلی ماں کا تصور تو قائم نہ ہو۔

ٹیگز: