Wed, September 16, 2026

سر گنگا رام کے ہسپتال کا حال

 سر گنگا رام کے ہسپتال کا حال

گزشتہ ہفتے میں نے گنگا رام ہسپتال کا دورہ کیا اس عظیم ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عارف افتحار سے پرانی شناسائی اس طرح ہے ان کے کزن میاں عادل رشید چیئرمین سینٹرل گروپ آف کالجز ہمارے فیملی فرینڈ بلکہ سگے بھائیوں کی طرح ہیں ، سگے دوستوں کی طرح بھی کہا جا سکتاہے ، بعض اوقات سگا دوست سگے بھائیوں سے زیادہ آپ کا احساس کرتا ہے ، صحیح کہا گیا رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں ، ہمارے ہاں ”سگے دوست“ کی اصطلاح استعمال نہیں کی جاتی حالانکہ کی جانی چاہیے ، اب جو ہماری اخلاقی حالت ہے ”سگے شوہر“ کی اصطلاح بھی استعمال کی جانے لگی ہے ، اگلے روز ایک دوست مجھے پکڑ پکڑا کر لاہور کے ایک ماڈرن گھرانے میں لے گیا ، وہاں ایک خاتون نے اپنے شوہر کا مجھ سے تعارف کراتے ہوئے کہا ” یہ میرے سگے شوہر ہیں “ ، مجھے اس کی بات سن کر ذرا حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے ماڈرن گھرانوں میں اس طرح کی بولیاں اب عام بولی جاتی ہیں ، گنگا رام ہسپتال کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بقول ایم ایس بہت کچھ کیا ، میرے نزدیک ان کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے انہوں نے اس کا نام تبدیل کر کے”سر نواز شریف ہسپتال“نہیں رکھ دیا، ورنہ وہ اگر یہ طے کر لیتی کس نے ا±نہیں روکنا تھا ؟ بلکہ ان کے قریبی بیوروکریٹس نے ان کی خدمت میں عرض کرنا تھا ”میڈم ہماری نوجوان نسل جسے اپ اتنی اہمیت دیتی ہیں اسے کیا پتہ یہ گنگا رام کون تھا ؟ نواز شریف صاحب کے بارے میں تو ہماری نوجوان نسل سب پتہ ہے، چنانچہ اس”میرٹ“ کے مطابق اس کا نام ”نواز شریف ہسپتال“ ہی ہونا چاہیے ، پتہ نہیں کبھی کبھی مجھے یہ احساس ہوتا ہے گنگا رام ہسپتال سے ملحقہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے اکثر عملے اور گنگا رام ہسپتال کے اکثر سٹاف کو یہ معلوم ہی نہیں ہوگا گنگا رام کون تھے ؟ سو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر زاہد مسعود گوندل اور گنگا رام ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عارف افتخار سے میری استدعا ہے وہ سر گنگا رام کی شخصیت اور ا±ن کی خدمات کے بارے میں طلبہ کو آگاہ کرنے کا کوئی نہ کوئی اہتمام ضرور کیا کریں ، یہ بہت بڑے لوگ تھے ا±نہوں نے بڑے بڑے ادارے بنائے ، ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں ، ہم نے ان کے بنائے ہوئے بڑے بڑے اداروں کو تباہ کر دیا اور اس کا ہمیں ملال بھی نہیں ، گزشتہ دنوں سی ایم صاحبہ نے میو ہسپتال کا دورہ کیا ، ہسپتال کے ناقص معاملات پر انہوں نے ایم ایس کو معطل کر دیا ، معطل صرف ایم ایس کو ہی کیا جا سکتا ہے ، اس کی تقرری کی اتھارٹی رکھنے والے سیکرٹری ہیلتھ کو نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ پاکستان میں حکمرانوں کا بس صرف کمزوروں پر چلتاہے ، ایم ایس کی معطلی پر بڑی کھپ پڑی ، وزیراعلیٰ مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا پی ٹی آئی کے بیرون م±لک بیٹھے شرپسندوں نے معطل ش±دہ ایم ایس کے حق میں پوری مہم چلائی ، کسی نے اس حقیقت کا ادراک یا اعتراف نہیں کیا کوئی سرکاری ملازم یا افسر اپنی سرکاری ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے نہیں نبھاتا ا±س کے خلاف ایکشن ضروری ہوتا ہے ، البتہ وہ اگر اپنی”اصلی ذمہ داریاں“ یعنی اپنے محکمے کے افسران بالا اور سیاسی و اصلی حکمرانوں کی خوشامد و خدمت وغیرہ کرتا رہے پھر وہ سرکاری ذمہ داریاں نبھائے نہ نبھائے کوئی ا±سے پوچھنے والا نہیں ہوتا ، بہرحال سرکاری فرائض کی س±ستی یا کوتاہی پر سرزنش کا طریقہ کار درست ہونا چاہئے ، محض اپنی پروجیکشن یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے سب کے سامنے کسی کو ذلیل کر دینا درست عمل نہیں ، حکمرانی کے لیے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اب شاید ضروری سمجھے جاتے ہیں ، ایک بار گورنر ہاو¿س لاہور کی ایک تقریب میں ا±س وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ا±س وقت کے آئی جی پنجاب کو سب کے سامنے ڈانٹ دیا ، ا±ن سے کہنے لگے ” آئی جی تم اپنی کارکردگی درست کرو“ ، بیچارہ آئی جی ا±ن کا منہ دیکھتا رہ گیا ، ظاہرہے ا±س کی سروس یا اس کے عہدے کا تقاضا یہی تھا وہ جواباً خاموش رہتا ، ورنہ وہ بھی کہہ سکتا تھا”وزیراعظم صاحب آپ بھی اپنی کارکردگی درست کریں“ جیسے گورنمنٹ کالج لاہور کے ایک پرنسپل نے بی ایس سی میں داخلے کے ایک امیدوار کو دوران انٹرویو کہا ”ٹھیک ہے تم میرٹ پر پورا ا±ترتے ہو مگر مجھے تمہارے لمبے بال تمہارا ہیئر سٹائل پسند نہیں ، اس لئے تمہارا داخلہ نہیں ہوسکتا “ ، سٹوڈنٹ نے بہت دہائی دی کہ سر میرے اگر بال لمبے ہیں میرے نمبر بھی لمبے ہیں آپ میرے نمبروں کو دیکھیں ، میرے بالوں کو نہ دیکھیں ، پرنسپل صاحب جب اپنے سخت مو¿قف سے پیچھے نہ ہٹے وہ سٹوڈنٹ ا±ٹھا اور پرنسپل صاحب کے گنجے سر کی طرف دیکھ کر کہنے لگا”سر اگر آپ کو میرا ہیئر سٹائل پسند نہیں تو مجھے بھی آپ کا”ہیئر سٹائل“ پسند نہیں ، یہ کہہ کے وہ باہر نکل گیا اور پرنسپل اپنے ساتھیوں میں بیٹھے اپنا سر ملتے رہ گئے ، ایک شعر ہے 
دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے 
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے 
بات گنگا رام ہسپتال سے چلی تھی کہاں پہنچ گئی ؟ مجھے اس کا اندازہ ہی نہیں ہوا ، پاکستان میں اداروں کی زبوں حالی اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں بحالی اب ممکن دکھائی نہیں دیتی ، کوئی سرکاری ادارہ کوئی یونیورسٹی کوئی ہسپتال وغیرہ اس زبوں حالی یا تباہی سے تھوڑا بہت اگر محفوظ رہ گیا ہے یہ ا±س ادارے کی خوش بختی ہے ، گنگا رام ہسپتال کے وزٹ میں مجھے احساس ہوا بلکہ حیرانی ہوئی یہ ہسپتال مکمل تباہی سے اب تک بچا کیسے ہوا ہے ؟ اس سے بھی زیادہ حیرانی مجھے ایم ایس ڈاکٹر عارف افتخار کی زبانی یہ سن کرہوئی کہ” وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہسپتالوں کو جدید سہولیات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اب تک کئی اقدامات کیے ہیں ، انہوں نے فرمایا “آپ کو اگر گنگا رام ہسپتال میں سسٹم کام کرتا ہوا نظر آ رہا ہے یا کچھ بہتر نظر آ رہاہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے اس ہسپتال کو کئی جدید سہولتوں سے حال ہی میں نوازا گیاہے“ ، وہ مجھے بچہ وارڈ میں لے گئے ، بچوں کی نرسری میں قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچوں کی حالت دیکھ کر جہاں مجھے دکھ ہوا وہاں یہ اطمینان بھی ہوا کہ انتہائی اہل ڈاکٹروں کی چوبیس گھنٹے توجہ اور علاج سے ان بچوں کی حالت دن بہ دن بہتر ہو رہی تھی ، ان بچوں کے والدین نے ہسپتال کے ایم ایس اور ڈاکٹرز کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا اور دعائیں بھی دیں ۔(جاری ہے)

ٹیگز: