مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں اپنے چودہ روزہ قیام کے دوران یارانِ وطن یعنی پاکستانیوں سے ہمارا کچھ زیادہ رابطہ نہیں ہوا۔ حرمین شریفین یعنی کعبہ مشرفہ اور مسجد الحرام مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی و روضہِ اقدس مدینہ منورہ میں عبادات کے لیے حاضری یا ان مقدس ترین جگہوں کی طرف آنے جانے کے دوران یا پھر مدینہ منورہ میں کچھ چھوٹی موٹی چیزوں بالخصوص کھجوروں کی خریداری کے لیے دکانوں یا شاپنگ مالز پر جانے کے دوران کچھ پاکستانیوں سے ملنے اور ان کے کام کی نوعیت کے بارے میں جاننے کے کچھ مواقع ضرورملے۔سچی بات ہے میرا عمومی تاثر یہی ہے کہ پاکستانی کسی حد تک کسمپرسی کا شکار ہیں اور وہ زیادہ مقام اور حیثیت کی مالک ملازمتوں پر کام کرنے کی بجائے چھوٹے موٹے کام کر کے اپنا گزارہ کرتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں بنگلہ دیشی یا ہندوستانی مسلمان زیادہ تعداد میں اورزیادہ آسودہ حال اور بہتر حیثیت کی مالک ملازمتوں اور جگہوں پر کام کرتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی جانے کے لیے ہم اپنے ہوٹل سے نکلتے تھے تو نیچے کھجوروں کی دکان کے باہر کھڑا پاکستانی نوجوان آوازیں دے کر ہمیں یہ یاد دہانی ضرور کراتا کہ ہم کھجوریںاُسی سے خریدیں۔ذرا آگے بڑھتے تو وہاں پاکستانی کھانوں والے ہوٹل کے سامنے کھڑا ادھیڑ عمر کاایک شخص حاجی صاحب کی آوازیں لگا تے ہوئے ہمیں اپنے ہوٹل سے ناشتہ کرنے یا کھانا کھانے کی ترغیب دیتا نظر آتا۔ وہاں کھجوروں کی دکان کے باہر بھی ایک اورپاکستانی اپنی دکان کی طرف اشارہ کر کے وہاں سے کھجوروں کی خریداری کی درخواست کررہا ہوتا۔ مسجد نبوی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں دو تین پلازوں کے سامنے سے گزرتے تو وہاں بھی کھجوروں کی دو تین دکانوں کے باہر کھڑے پاکستانی نوجوان وہاں سے گزرنے والوں کو اپنی دکانوں سے کھجوریں خریدنے کے لیے ضروری آوازیں دے رہے ہوتے۔ مسجد نبوی کے باہر کھلے احاطوں اور صحنوں اور اندر برآمدوں اور راہداریوں میں صفائی اور سقایہ (آبِ زمزم پلانے) کے فرائض انجام دینے پر متعین افراد ایک ہی طرح کی وردیوں یا لباس میں ملبوس ہوتے ہیں اور ان کا رنگ و رُوپ بھی تقریباً ایک جیسا نظر آتا ہے لہٰذا ان کے بارے میں یہ پہچان کرنا کہ ان میں کون پاکستانی ہے اور کس کا تعلق بنگلہ دیش یا انڈیا سے ہے، آسان نہیں تاہم میرا ذاتی خیال ہے کہ وہاں جنوبی پنجاب بالخصوص رحیم یار خان، صادق آباد، وہاڑی اور ملتان وغیرہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی
فرائض کی سر انجام دہی کر رہے ہیں تو ان سے کہیں زیادہ بنگلہ دیشی اور انڈین مسلمان وہاں متعین ہیں۔ گویا کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانیوں کی تعداد کم ہے۔
جہاں تک بازاروں اور مارکیٹوں کا تعلق ہے وہاں ہمیں کچھ زیادہ جانے کا اتفاق نہیں ہوا تا ہم وہاں پاکستانی نوجوان ضرور کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جیسے اوپر لکھا گیا ہے وہ زیادہ تر ہاکروں کا کام کرتے ہوئے قریب سے گزرنے والوں کوکچھ مخصوص دکانوں سے خریداری کے لیے تر غیب دینے کے لیے آوازیں دیتے نظر آتے ہیں۔ یہاں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے جنوب میں ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر مسجد بلالؓ کے ساتھ عرصہ دراز سے قائم مارکیٹ کی مثال دوں گا کہ ہمیں وہاں دو بار جانے کا اتفا ق ہوا اور وہاں ہم نے کتنے ہی پاکستانی نوجوانوںکو دکانوں بالخصوص کھجوروں کی دکانوںکے باہر وہاں سے گزرنے والوں کو اپنی دکانوں سے خریداری کے لیے ترغیب دینے کے لیے آوازیں لگاتے دیکھا۔ ہم نے وہاں سے اٹیچی کیس اور اسی طرح کی چیزوں کی خریداری کرنا تھی تو جن بھی چار پانچ دکانوں میں گئے ان میں ہمیں بنگالی سیلز مَین نظر آئے بلکہ ایک دو دکانیں ایسی دیکھیں جو شائید بنگالیوں کی تھیں۔
مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ہمیں وہاں کے مقدس تاریخی مقدمات کی زیارت کے لیے جانا تھا ۔ اس مقصد کے لیے سواری (گاڑی) کا انتظام کرنے کے لیے اِدھر اُدھر رابطہ کیا تو اندازہ ہوا کہ وہاں ٹیکسی ڈرائیور یا اس طرح کی کرائے پر چلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیور زیادہ تر پاکستانی ہیں۔ زیاراتِ مدینہ کے ابواب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اشتیاق ڈرائیور نے کتنے احسن انداز میں ہمیں مدینہ منورہ کے مقدس تاریخی مقامات کی زیارات کرائیں۔ اسی طرح ہمیں دو تین اور جگہوں پر بھی ٹیکسیاں لے کر جانے کا اتفاق ہوا تو ڈرائیور پاکستانی ہی تھے۔
مکہ مکرمہ کے مقدس تاریخی مقامات کی زیارات کے ضمن میں یہ تفصیل بیان کی جا چکی ہے کہ میں اور اہلیہ محترمہ اس ضمن میں کسی مناسب سواری(گاڑی) کی تلاش میں تھے تو ہمارا رابطہ کرائے پر چلنے والی تین چار گاڑیوں کے ذمہ داران یا ڈرائیوروں سے ہواتو وہ سبھی پاکستانی تھے ۔ ان میں سے ایک دو سے گاڑی کا کرایہ بھی طے پا گیامگر جب ہم قریب ہی اپنے قیام کے ہوٹل سے ہو کر گاڑی میں بیٹھنے کے لیے آئے تو گاڑی وہاں موجود نہیں تھی۔ اُن کے ڈرائیور ہمارے ساتھ طے شدہ بات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شاید زیادہ کرائے پر کوئی اور سواریاں لے کر چلے گئے تھے۔ پھر مکہ مکرمہ میں شارع ابراہیم خلیل پر زیارات کے لیے جانے والی بسوں میں اِدھر اُدھر سے سواریاں پوری کرنے کے لیے بھی زیادہ تر پاکستانی ہی نظر آتے ہیں جو زیارات کے لیے جانے کے خواہش مند افراد سے بس کے عمومی کرائے جو عام طور پر دس ریال یا اس سے ایک دو ریال کم ہوتے ہیں سے دو تین ریال زیادہ بطورِ کمیشن لے کر ان کو بسوں میں بٹھانے کے لیے بطورِ ہاکر (آوازیں لگانے والے افراد) کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ مکہ مکرمہ کے مقدس تاریخی مقامات کی زیارات کے ابواب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ کیسے ایک پاکستانی صاحب نے (میرے اور اہلیہ محترمہ) سے بس کے مقررہ کردہ دس ریال سے دو ریال فی سواری زائد لے کر ہمیں زیارات کے لیے جانے والی بس پر سوار کرایا۔گویا اِن صاحب نے ہم سے باقی سواریوں کے مقابلے میں چار یا پانچ ریال بطورِ کمیشن زائد کرایہ ہی نہ لیا بلکہ میں نے بیس ریال کا ایک نوٹ غلطی سے ان کو تھما دیا تھا تو وہ مجھے میری غلطی بتا کر اسے واپس کرنے کی بجائے لے کر چلتے بنے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں اُن کو تلاش کر نے پر میرا اُن سے رابطہ ہو گیا اور مجھے اپنے بیس ریال واپس مل گئے۔ اسی طرح مکہ مکرمہ کے مقدس تاریخی مقامات کی زیارات کے ضمن میں بس میں بطورِ گائیڈ موجود صاحب کا یہ کردار بھی مجھے کچھ اچھا نہیں لگاجب وہ زیارات کے اختتام پر اپنی پوٹلی کھول کر بیٹھ گئے اور اس میں سے کئی طرح کے پر فیومز او راسی طرح کی دوسری چیزیں آوازیں لگا کر انہیں بیچنے لگے۔
یہ تفصیلات اور مثالیں پیش کرنے کا مقصد اپنے اس مشاہدے کو سامنے لانا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پاکستانی کچھ ایسے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جنہیں کوئی زیادہ با وقار یا منفعت بخش کام نہیں سمجھا جا سکتا جبکہ اِن کے مقابلے میں بنگلہ دیشی اور انڈین لوگوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ زیادہ بہتر حیثیتوں سے کام کرتے نظر آتے ہیں۔ اُن کے اپنے کاروبار اور دکانیں ہیں اور وہ اس طرح کے چھوٹے موٹے کام کر کے کمیشن والے کام کرنا شاید اپنے لیے مناسب نہیں سمجھتے۔ خیر یہ معاملے کا ایک پہلو تھا ورنہ جہاں تک پورے سعودی عرب میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد کے کام کرنے کا تعلق ہے تو وہ بلا شبہ لاکھوں میں (ایک رپورٹ کے مطابق چوبیس لاکھ)ہے اور یہ پاکستانی بلا شبہ جو ترسیلاتِ زر ہر ماہ پاکستان میں اپنے گھر والوں کو بھیجتے ہیں وہ بہت بھاری رقم ہے۔ابھی جو مارچ کے مہینے میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی طرف سے 4.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں ان میں سے98 کروڑ 70 لاکھ ڈالر(تقریباً چوتھائی حصہ) سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے بھجوائے ہیں۔ (جاری ہے)۔