دور حاضر میں جہاں دیگر سماجی و معاشرتی روایات دم توڑ رہی ہیں وہاں پرانے محاورے اور ضرب المثل بھی غلط ثابت ہو رہے ہیں مثلاً پرانے زمانے کا مشہور پنجابی محاورہ ہے کہ ”جیدے گھر دانے اودے کملے وی سیانے“۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب گندم کا ذخیرہ خوشحالی اور فراوانی کی علامت سمجھا جاتا تھا اس محاورے کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے گھر میں گندم ہے تو آپ بے وقوف بھی ہوں تو آپ کو دانشمند قرار دیا جائے گا لیکن موجودہ حکومت کی زرعی پالیسیوں خصوصاً گندم پر وزیراعلیٰ کا مو¿قف دیکھ کر گزشتہ دو سال سے یہ لگ رہا ہے کہ گندم اُگانے سے بڑی حماقت کوئی نہیں ہے۔
گزشتہ سال جب روٹی کی قیمت میں کمی کے معاملے پر پنجاب حکومت کی طرف سے کاشتکاروں کو کسان مافیا قرار دیا گیا تو خطرے کی گھنٹیاں بج گئی تھیں کہ حکومت کسان کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے گزشتہ سال جب حکومت نے سالہا سال کی سرکاری پالیسیوں سے انحراف کرتے ہوئے کسانوں سے گندم خریدنے سے انکار کر دیا تو گندم کی قیمت مڈل مینوں کی وجہ سے 3900 روپے سے 2800 روپے فی من تک آ گئی جس سے گندم کے کاشتکاروں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ مگر وزیراعلیٰ اپنے مو¿قف پر قائم تھیں کہ ہم 20 فیصد کسان کی خاطر باقی 80 فیصد آبادی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے آباءو اجداد یعنی میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی پنجاب پر حکمرانی کے سارے ادوار میں پنجاب حکومت کسانوں سے سپورٹ پرائس پر گندم خریدتی آئی ہے تا کہ کسان کو نقصان نہ ہو۔
بہرحال گزشتہ سال کے نقصانات کے بعد اس سال گزشتہ سال کی نسبت گندم کے زیر کاشت رقبے میں کمی آچکی ہے اس اثنا میں زرعی ادویات سپرے کھاد ڈیزل اور گندم کی لاگت میں اضافے کے باوجود گندم کی قیمت گزشتہ سال کی قیمت سے بھی کم ہو چکی ہے۔ آج سے دو سال پہلے جو گندم نجی مارکیٹ میں 4800 روپے من فروخت ہوا کرتی تھی اس وقت 2200-2300 روپے فی من بک رہی ہے۔ ابھی تو گندم کی نئی فصل کھیت سے گھر نہیں پہنچی جب سیزن مکمل ہو گا تو شاید یہ قیمت 2000 سے بھی کم ہو جائے اسی اثنا میں فلور ملزمالکان ، مڈل مین اور ذخیرہ اندوز طبقہ سر گرم عمل ہے جو کاشتکار ہے اونے پونے داموں پر گندم لے
کر ذخیرہ کر رہا ہے جیسے ہی سٹاک زمیندار کے ہاتھوں سے نکل جائے گا تو مہنگائی مافیا اس کی قیمت میں من مانا اضافہ کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گندم کی قیمت کے تعین میں حکومت لاتعلق ہے یہ طلب و رسد کے حساب سے مارکیٹ فیصلہ کرے گی کہ کیا ریٹ ہونا چاہیے۔ یہ بہت خطرناک پالیسی ہے جس کے اثرات اتنے خوفناک ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ اگلے سال پے در پے خساروں کا مارا ہوا کاشتکار جب گندم کاشت کرنا بند کر دے گا تو یہی گندم یوکرائن اور روس سے آپ کو 6000 روپے فی من کے حساب سے خریدنا پڑے گی۔
یہ پہلے ہو چکا ہے جب عثمان بزدار کے دور میں پہلے فالتو گندم ایکسپورٹ کر دی گئی پھر نگران حکومت نے گندم دوگنی قیمت پر امپورٹ کی جس کی وجہ سے کاشت کاروں کے زوال کا آغاز ہوا۔ وہ ناقص کوالٹی گندم ابھی تک سرکاری گوداموں میں موجود ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہ اربوں روپے کا سکینڈل تھا جس کے ذمہ داروں کا آج تک تعین نہیں کیا جا سکا۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ گندم کی فی من لاگت 3300 روپے ہے جبکہ یہ مارکیٹ میں 2200 روپے میں فروخت ہو رہی ہے یعنی کسان کو فی من 1100 روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔ جو اس وقت کی محنت ضائع ہوئی ہے وہ اس میں شامل نہیں۔
پاکستان آنے والے برسوں میں غذائی قلت کے دہانے پر کھڑا ہے ہر سال زیر کاشت رقبہ کم ہو رہا ہے کیونکہ زرعی زمینوں پر کالونیاں بن رہی ہیں۔ دوسری طر ف منگلا اور تربیلا ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہونے اور نئے ڈیم نہ بننے سے زرعی مقاص کے لیے پانی کم ہو رہا ہے۔ بھارت کی طرف سے دریاو¿ں کا پانی بند کرنے کے بعد راوی تقریباً سوکھ چکا ہے۔ آنے والے دور میں ماحولیاتی تباہی اور بارشوں میں کمی اور خشک سالی کی وجہ سے بھی زراعت آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ان حالات میں زراعت کے شعبے کی مزید زبوں حالی صاف نظر آ رہی ہے لیکن پنجاب حکومت نے اس تباہی کے مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی آئی سی یو میں پڑی زراعت کی مصنوعی تنفس کی نالی کو کھینچنے کا فیصلہ کر لیا ہے تا کہ جو تباہی 5-7 سال بعد میں آنے والی ہے وہ اگلے سال ہی آجائے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ آپ کے گھر کے دستر خوان پر کھانے کو جو کچھ بھی رکھا ہوا ہے یہ سب کسان کا اگایا ہوا ہے اگر آپ اس کی تباہی سے لاتعلق رہیں گے تو جب کسان نہیں ہو گا تو آپ کہاں سے کھائیں گے۔ کسان آپ کی معیشت اور فوڈ سکیورٹی کا ضامن ہے۔ کسان کی وجہ سے آپ کے ملک بھر کے شوگر ملیں اور ٹیکسٹائل کے شعبے کو خام مال مل رہا ہے۔ آپ کی حکومت 60 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کا ٹارگٹ رکھنا چاہتی ہے جو اس وقت محض 30 ارب ہے تو اس کے لیے آپ کو خام مال کی فراہمی کے لیے کسان کی ضرورت ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے عرصے میں عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں 18 روپے لٹر پٹرول کم ہو سکتا تھا مگر حکومت نے بالترتیب 10 روپے اور 8 روپے پٹرولیم لیوی بڑھا کر عوام تک سہولت پہنچانے میں رکاوٹ ڈال دی تا کہ حکومت وہ پیسہ عوام کو دینے کی بجائے اپنے پاس رکھ سکے۔ اگر روٹی سستی کرنا اتنا ہی اہم تھا تو پٹرول میں ایک ماہ میں 18 روپے کا ریلیف عوام کے لیے اس سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل تھا جو حکومت نے دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
پنجاب حکومت نے صوبے میں کاشتکاروں کے وسیع احتجاج کے بعد اپنا فیصلہ بدلنے کی بجائے کسانوں کے لیے 15 ارب روپے کے ایک ایسے پیکیج کا اعلان کر دیا ہے جس سے کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہونا جبکہ 15 ارب روپیہ سرکاری خزانے سے نکل کر نامعلوم مقام پر پہنچ جانا ہے تمام کسان تنظیموں نے یہ پیکیج مسترد کر دیا ہے جس کے تحت کسان کی گندم کا سٹاک حکومت سرکاری گوداموں میں مفت رکھنے کی پیشکش کر رہی ہے۔ یہ تجویز عملاً ناممکن ہے۔ جب کسان سٹاک میں رکھی ہوئی اپنی گندم 4 ماہ بعد واپس لینے جائے گا تو کیا گارنٹی ہے کہ اپنی گندم واپس ملے گی۔ گوداموں میں پڑی 3-3 سال پرانی گندم جو اسے واپس دی جائے گی اسے تو جانور بھی کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ یوکرائنی گندم ہے جس کی قیمت تین گنا اور کوالٹی آدھی بھی نہیں ہے۔
گندم کا بحران فارم 47 سے بڑا سانحہ ہے اور جب یہ ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے گا تو اس کو کنٹرول کرنے میں کئی سال درکار ہوں گے جس طرح اس کے برپا ہونے میں کئی سال لگے ہیں۔ اگر ہوش کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو قحط سالی مقدر بن جائے گی۔