دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی ترقی، اور موسمیاتی تبدیلیاں آج انسانیت کو بے شمار چیلنجز سے دوچار کر رہی ہیں۔ ان چیلنجز میں سب سے سنگین اور خطرناک مسئلہ پانی کی قلت ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک اس وقت شدید آبی بحران کا شکار ہیں۔ پانی زندگی کی بنیاد ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم اس انمول نعمت کی اہمیت کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔
پانی کی قلت کی سب سے بڑی وجہ غیر منصوبہ بند اور بے احتیاطی کے ساتھ اس کا استعمال ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں 90 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے، مگر جدید آبپاشی کے طریقے اپنانے کے بجائے روایتی اور غیر مؤثر طریقوں پر انحصار جاری ہے، جس کی وجہ سے بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف شہروں میں زیر زمین پانی کا اندھا دھند استعمال اور بارشوں کے پانی کو ضائع کر دینا بھی قلت کا سبب بنتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلیاں بھی پانی کی کمی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، بے وقت بارشیں، اور طویل خشک سالی کے وقفے زمین پر پانی کے ذخائر کو متاثر کر رہے ہیں۔ آبادی کے بڑھنے سے پانی کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے، لیکن ہمارے ذخائر محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثر کو کم کرنے میں ہم عالمی سطح پر تو خاطر خواہ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، نہ ہی اس میں ہمارا حصہ کچھ زیادہ ہے لیکن کم از کم اپنے ملک اور خطے کی آب و ہوا کو بہتر رکھنے اور اپنی فضا کو آلودگی سے بچانے کے کے موثر اقدامات ضرور کر سکتے ہیں۔
پانی کے اس سنگین مسئلے سے بچنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی ضائع کرنا ایک اجتماعی جرم ہے، اور اس کے نتائج نہ صرف ہماری موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا ہوں گے۔
پانی کو سٹور کرنے اور اس کے دانشمندانہ استعمال کے لیے ہمیں قدرتی اور جدید دونوں طرح کے طریقوں کو اپنانا ہوگا۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کے روایتی طریقے آج بھی بہت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ شہروں میں گھروں، عمارتوں، اور دفاتر کی چھتوں پر بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لیے مخصوص ٹینکس بنائے جا سکتے ہیں، جنہیں فلٹر کر کے گھریلو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے نہ صرف زیر زمین پانی پر بوجھ کم ہوگا بلکہ سیلابی پانی کی شدت میں بھی کمی آئے گی۔
دیہی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے آبی ذخائر، تالاب، اور کنویں تعمیر کیے جا سکتے ہیں جہاں بارش کا پانی جمع ہو کر زمین میں جذب ہو اور زیر زمین پانی کی سطح کو بحال کرے۔ اس کے علاوہ نہری نظام میں مرمت، جدید لائیننگ، اور ڈرپ اریگیشن جیسی تکنیکوں کا استعمال کر کے پانی کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔حکومتی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر اشد ضروری ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے کوئی بڑا ڈیم مکمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے بارش اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے حاصل ہونے والا قیمتی پانی سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر بروقت ڈیمز تعمیر کیے جائیں تو ہم نہ صرف پانی کی قلت پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ بجلی کی پیداوار، سیلاب پر کنٹرول، اور زرعی ترقی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
پانی کے محفوظ استعمال کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں طلباء کو پانی کے تحفظ کی اہمیت سکھائی جائے، گھروں میں پائپ لیک ہونے پر فوری مرمت کی جائے، گاڑیاں دھوتے وقت نل کھلا نہ چھوڑا جائے، اور روزمرہ زندگی میں پانی کی بچت کو معمول بنایا جائے۔ ہمیں نہایت سنجیدگی سے اس مسلئے کو اپنے تعلیمی پلیٹ فارمز پر ڈسکس کرنا ہو گا۔ ہمارے مبلغین کو بھی اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ کم از کم اسے عام اور آسان نیکی کی حیثیت سے پھیلایا جائے تا کہ لوگوں کو اس بات کا احساس ہو کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط برت کر نیکی انجام دے رہے ہیں جو انسانی خدمت ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔
میڈیا، مساجد، تعلیمی ادارے اور مقامی کمیونٹی سینٹرز پانی کے تحفظ کے حوالے سے مہمات چلا سکتے ہیں تاکہ ہر فرد یہ سمجھے کہ پانی کی قلت صرف حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
ہماری چشم پوشی کے باوجود یہ مسئلہ عالمی سطح پر اور خصوصاً پاکستان کے لیے ایک حقیقت بن چکا ہے اور اگر ہم نے اس کے تحفظ اور سٹوریج کے مؤثر طریقے نہ اپنائے تو آنے والے سالوں میں حالات مزید بدتر ہو سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آج ہی سے پانی کے باکفایت استعمال کی عادت ڈالیں، پانی سٹور کرنے کے جدید طریقے اپنائیں، اور حکومتی سطح پر ڈیمز اور آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے آواز بلند کریں۔ تاہم اس ضمن میں ہر طرح کے سیاسی اور معاشرتی اختلاف سے بالاتر تر ہو کر ہمیں محنت کرنا ہو گی۔ اگر ہم رضاکارانہ حیثیت میں بھی بعض امور انجام دے سکتے ہوں تو اس سے پیچھے نہیں کرنا چاہیے۔
یاد رکھیے، پانی کی بچت زندگی کی ضمانت ہے۔ آج کی بچت کل کی بقا کی کنجی ہے۔