چاچا شیر محمد کی سانس اکھڑی ہوئی تھی۔ ان سے بات بھی نہیں ہورہی تھی۔ نتھو اور پھتوان کی چوپال آمد پر کھڑ ے ہوگئے اور بیٹھنے کی جگہ دینے کے ساتھ پینے کا پانی دیا۔ کچھ دیر بعد چاچا شیر محمد کاسانس بحال ہوا۔ چاچا رفیق جو پہلے سے ہی چوپال میں موجود تھے، انہوںنے پوچھا بھئی شیر محمد کہاں سے آرہے ہو،ماجرا کیا ہے؟۔۔چاچا شیر محمد نے سردآہ بھری اور خاموش ہوگئے۔ وہ چپ سائیں کی نشست کی طرف دیکھ رہے تھے، یوں گمان ہوتا تھا جیسے ان کی نظریں چپ سائیں کی بابت سوال کررہی تھی۔۔۔خیر تھوڑی دیر بعد چپ سائیں کی چوپال آمد ہوئی۔۔ سب احتراماً کھڑے ہوگئے۔ چپ سائیں نشست پر براجمان ہوئے۔۔انہوں نے چاچا شیر محمد کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔۔۔ پوچھا بھئی خوش آمدید پر آج ادھر کا چکر کیسے لگا؟۔۔۔چاچا شیر محمد بولے۔۔۔ چپ سائیں جی۔۔۔ آپ نے میری سائیکل دیکھی ۔۔۔ اس پر رکھے چھوٹے ڈرم کوبھی دیکھیں۔۔۔ چپ سائیں نے کہا بھئی کہیں سے راشن ڈلوا کر آرہے ہو کیا؟۔۔۔ چاچا شیر محمد بولے۔۔۔ نہ نہ سائیں جی۔۔۔ بس کچھ نہ پوچھیں، یہ بغل میں جو پانی کا نل ہے ناں وہاں سے ڈرم بھر بھرکر پانی اکٹھا کررہا ہوں۔۔ ہمارے محلے میں پانی نہیں آرہا اور سب پانی پانی۔۔۔ کررہے ہیں۔۔ خدا کی پناہ سخت گرمی ہے اور نوع انسانیت پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔۔ سائیں جی۔۔۔یہ کیسا وقت آگیا ہے؟۔۔۔۔
چپ سائیں زیر لب مسکرائے۔۔۔ بھئی شیر محمد سچ پوچھو تو پانی تو ہمارا بھی نہیں آرہا۔گھر کے پچھواڑے میں شیخ صاحب اور ملک صاحب نے فی سبیل اللہ نل لگوا یا ہوا ہے ۔۔۔ ان سے پانی بھر نے کی بیٹی، بہو، بچو ں، داماد، بیٹے حتیٰ کہ میری خودکی بھی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔۔۔گھر کے نل میں سے تو موٹر لگانے کے بعد بھی صرف سیٹیاں ہی بج رہی ہیں۔۔ چپ سائیں کی ازراہ تفنن گفتگو پر سب مسکرا دیئے۔۔ چاچا شیر محمد کا غصہ بھی ہوا ہوا۔۔۔چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔ صاحبو !واقعی گرمیوں میں پانی کا مسئلہ سنگین بحران کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔۔ میںنے سنا تھا کہ کل گلی کے نکڑ پر ٹینک آیا تھا کہ بھٹی صاحب بولے بچو جس جس نے پانی بھرنا ہے وہ بھرلے۔۔۔ پر ہائیں یہ کیا؟۔۔۔ گھر میں تو پانی آئے نا اور ہم اس طرح بالٹی اٹھائے اٹھائے پھریں۔۔ عجیب اور نرالی منطق ہے۔۔ خیر۔۔۔صاحبو !۔۔۔ ہمارے ہاں تو سردیوں میں گیس غائب۔۔ گرمیوں میں پانی اور بجلی غائب۔۔۔رمضان میں سستی اشیائے خورونوش کی قلت۔۔۔ وغیر ہ وغیرہ۔۔۔ یہ سب تومیری سمجھ سے بھی بالا باتیں ہیں۔۔۔ابھی کل ہی پڑوس میں حاجی صاحب بتارہے تھے کہ لوڈ شیڈنگ سے تنگ آکر سولر کی پلیٹ اور بیٹری لے کر آئے ہیں، ان بیچاروں نے ایک کمیٹی ڈالی ہوئی تھی۔۔۔جمع پونجی تھی۔۔۔ وہ اس پر لگا دی۔۔۔ کہتے تھے ۔۔۔ چپ سائیں جی۔۔۔ گھر میں بیٹیاں اور بچے جب رہنے آتے ہیں تو لائٹ چلی جانے کی وجہ سے بہت تنگی ہوتی ہے۔۔۔ میں چھت پر جاکر گزارہ کرلیتا ہوں لیکن۔۔۔بچے بیچارے بے حال ہوجاتے ہیں۔۔۔ حق ہو!۔۔۔چپ سائیں۔۔ بات کرتے کرتے چپ کرگئے۔
چپ سائیں توقف کے بعد بولے دوستو بات ہورہی تھی۔۔۔ پانی کی قلت کی۔۔۔صاحبو یہ واقعی بڑا سنگین مسئلہ ہے۔پانی کا کم ہونا یا صاف پانی کی عدم دستیابی صرف انسانی زندگی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ ماحولیاتی نظام پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جب لوگ دور دراز علاقوں سے پانی لانے کے لیے جاتے ہیں، تو اس سے ماحولیاتی نظام میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں تو معاملہ اور بھی سنگین ہے۔
دوستو!پانی انسانی زندگی کا بنیادی جزو ہے۔ زمین پر زندگی کے آغاز سے لے کر آج تک، ہر جاندار کے لیے پانی کی ضرورت رہی ہے۔۔ کھانے پینے سے لے کر روز مرہ کے کاموں تک، پانی کا استعمال انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔پانی بھرنا ایک جسمانی محنت طلب کام ہے جو نہ صرف طاقت کا بلکہ برداشت کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے یہ ایک ایسا عمل بن جاتا ہے جس میں دن بھر کی تھکاوٹ اور جسمانی مشقت شامل ہوتی ہے۔صاحبو! میرے گھر بھی اسی وجہ سے مسائلستان بنا ہوا ہے، بھلا ہو ان لوگوں کو جوپانی دے دیتے ہیں اورہمت ہے گھرمیں ہر اس بندے کی جس کی ایک اور ڈیوٹی بڑھ گئی ہے۔حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو پانی کے ذخائر کا بہتر انتظام کرنا چاہیے تاکہ پانی کی فراہمی ہر فرد تک پہنچ سکے۔ایسے علاقوں میں جہاں پانی کی کمی ہے، وہاں پائپ لائن سسٹم کی توسیع کی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کو گھروں میں پانی کی فراہمی ہو سکے۔
صاحبو!جب گھر کے افراد پانی کے لیے کئی گھنٹے صرف کرتے ہیں، تو اس سے بچوں کی تعلیم پر اثر پڑتا ہے کیونکہ انہیں اپنے والدین کی مدد کے لیے پانی لانے جانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، بالغ افراد کو بھی اس کام میں وقت گزارنا پڑتا ہے اور جگ رتوں کی وجہ سے ان کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو تی ہیں، جس کا مداوا نہیں ہوسکتا اور مقامی انتظامیہ کی وجہ سے مفت کا ثواب۔۔۔ یہ وہ جملہ ہے ۔۔جس کو سن کر لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوجاتی ہے۔
نتھو ، پھتو اور دوستو !پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں معیشت کا بڑا انحصار پانی پر ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اس قیمتی قدرتی وسیلے کو نہ صرف ضائع کر رہے ہیں بلکہ اس کے تحفظ اور بہتر انتظام کی جانب مسلسل غفلت برت رہے ہیں۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان تیزی سے ان ممالک کی صف میں شامل ہو رہا ہے جہاں پانی کی قلت ایک ''خطرناک بحران'' کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان میں بڑے آبی ذخائر (ڈیمز) کی تعداد نہایت کم ہے۔ تربیلا اور منگلا جیسے پرانے ڈیموں کے بعد کوئی بڑا ذخیرہ تعمیر نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے نہ صرف بارش کا قیمتی پانی ضائع ہو رہا ہے۔ ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے بچائو کے اقدامات سنجیدگی سے کرنے چاہئیں۔۔۔ یہ الفاظ چپ سائیں کے منہ میں ہی تھے کہ۔۔۔ چاچا شیر محمد اٹھے اورتیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کہا چپ سائیں جی اور دوستو۔۔۔ میں توچلا پانی کا ڈرم بھرنے ورنہ ۔۔۔سارا نظام خراب ہوجائے گا۔۔۔ سب ان کی بات پر ہنسنے لگے اور چپ سائیں جی نے کہا۔۔ صاحبو! پانی کا مسئلہ اور ہماریں باتیں تو وہیں ہیں پھر سہی۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!۔