میرے لئے یہ بحث دس برس پرانی اور امام کعبہ کے ساتھ میری ایک ایسی تصویر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جس میں امام کعبہ کے ہاتھوں میں میرے ہاتھ ہیں اور ہم دونوں باقاعدہ ہنس رہے ہیں۔ میں دوستوں کو اکثریہ تصویر دکھا کے فخریہ کہتا ہوں کہ شائد ہی کسی دوسرے پاکستانی کے ساتھ امام کعبہ جیسی بلند رتبہ شخصیت کی ایسی فرینک تصویر ہو۔یہ تصویر اس وقت کی ہے جب حوثیوں اور سعودیوں کا نیا نیا تنازع شروع ہوا تھا۔حوثیوں نے یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی عرب کی حمایت والی حکومت کے خلاف بڑی جنگ شروع کر دی تھی۔ یہ وقت سعودی عرب کے لئے بہت مشکل تھا اور اس نے اپنے دوست پاکستان سے مدد مانگی تھی مگر ہوا یوں کہ ان دنوں ہم پر جمہوریت کچھ زیادہ ہی چھائی ہوئی تھی۔ یہ عمران خان کے دھرنے والے دن تھے اور میڈیا پر ان کاموقف بہت زیادہ پذیرائی پاتا تھا۔مجھے اب تک یاد ہے کہ شاہ محمودقریشی نے بطور سابق وزیر خارجہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں کی لڑائی میں ہمیں غیر جانبدار رہنا چاہئے۔ پی ٹی آئی کا یہ موقف اتنا ہی غلط تھا جتنا اس جماعت کا کسی بھی دوسرے معاملے میں ہوسکتا ہے۔ معاملہ جب ہائی لائٹ ہوا تو حکومت نے اس پر پارلیمنٹ میں بحث کروانے کا فیصلہ کیا جو میری نظر میں ایک اور غلطی تھی۔ پارلیمنٹ میں لفاظی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر وا لیا گیا کہ پاکستان اس جنگ میں غیر جانبدار رہے گا اور مجھے کہنے میں عار نہیں کہ پہلے وزیراعظم پاکستان اور پھر پورے پاکستان نے اس فیصلے کی قیمت چکائی۔
سعودی عرب ہمارے فیصلے سے ناراض ہوگیا تھا او ر شاہی خاندان نے اس پر حکومتی اور عوامی سطح پر سفارتکاری کے لئے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کے امام اور خطیب الشیخ خالد بن علی الغامدی کوپاکستان بھیجا۔ میں جامعہ اشرفیہ کے ذمہ داران کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے امام کعبہ کی آمدپر مجھے بھی ملاقات کی دعوت دی۔ جب ہماری ملاقات ہو رہی تھی تو میں نے شیخ خالد الغامدی سے کہا کہ میں سعودی عرب کو پاکستان کا دوست اور محسن سمجھتا ہوں اور میری رائے ہے کہ کسی بھی مشکل وقت میں اپنے دوست کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے اور اس کی وجہ حرمین شریفین کا وہاں ہونا بھی ہے، جن سے ہماری وابستگی غیر مشروط ہے۔ امام کعبہ نے میری گفتگو کا عربی ترجمہ سنا تو میرے دونوں ہاتھ تھام لئے اور دیر تک بہت ہی خوشگوار انداز میں اس حمایت کو سراہتے رہے۔ اس موقع پروہ منفرد اورتاریخی تصویر بنی کہ امام کعبہ کے ساتھ اس طرح دانت نکال کے ہنستے شائد ہی کسی کی تصویر ہو۔ مجھے چوہدری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کے دوران امام کعبہ عبدالرحمان السدیس سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ آج جب ایک مرتبہ پھرسعودیوں اور حوثیوں کے درمیان معرکہ درپیش ہے تو مجھے خوشی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سو فیصد سعودی عرب کی حمایت کا سوفیصد درست فیصلہ کر رہے ہیں۔
میں جب سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشوروں ہی نہیں بلکہ دفاعی یا خارجہ پالیسی کے بعض ماہرین کوبھی حوثیوں کا ساتھ ، ان کی وضاحتوں کو اہمیت دیتے دیکھتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس قسم کے ماہرین ہیں۔ کیا انہیں پاک سعودیہ تعلق کی اہمیت کا علم نہیں ہے۔یہ سعودی عرب کی ریاست اور یمن کے نان اسٹیٹ ایکٹرز کو ایک سی اہمیت کیسے دے سکتے ہیں۔ جب یہ سوال ہوتا ہے کہ سعودی یا حوثی تو میرا پہلا جواب ہوتا ہے کہ میں کعبة اللہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سر زمین کے ساتھ ہوں۔ وہاں کے حکمرانوں پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو جواب ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ رب نے کرنا ہے کہ اس نے اپنے اور اپنے محبوب کے گھروں کی حکومت کس کو دینی ہے۔ مجھے نہ یہاں دماغ لڑانا ہے اور نہ ہی منطق۔ میرا دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم اس وقت سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں ہیں اور یہ پاکستان ہی نہیں ترکیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سعودیہ کے ساتھ کھڑا ہو۔ یہ بات الگ ہے کہ ایک آدھ ڈرون حملے کے جواب میں اگر سعودی عرب خود ہی ان نان اسٹیٹ ایکٹرز کو جواب دینا چاہے جیسے ہم بھی افغانستان کے نان اسٹیٹ ایکٹرز کو خود جواب دے رہے ہیں، اس میں سعودیہ اور ترکیہ کو شامل نہیں کر رہے۔ میرا تیسر اجواب یہ ہے کہ ہمیں اسلامی ریاستی برادری کے ساتھ کھڑے ہونا ہے، جب او آئی سی نے اس کی مذمت کر دی تو ہم اس سے باہر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیںبنا سکتے۔ جب کہا جاتا ہے کہ حوثیوں نے وضاحت دی ہے کہ انہوں نے حملہ نہیںکیا تو میرا چوتھا جواب یہ ہے کہ حملہ کیا ہے یا نہیں، ہم کسی نان اسٹیٹ ایکٹر کی وضاحت کو تسلیم ہی نہیں کرتے کیونکہ اگر ہم یہ بے اصولی کریں گے تو ہمارے مقابلے میں القاعدہ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے وغیرہ کی وضاحتیں بھی سنی جائیں گی جو ایک مہذب ریاستی نظام کی نفی ہے اور اس کے تسلسل میں میرا پانچواں جواب یہ ہے کہ میں حوثیوں کی یہ تردید اس لئے بھی نہیں مانتا کہ وہ کھلے ڈلے حملے کر رہے ہیں، اس سے پہلے تین مرتبہ مکہ کی طرف بیلسٹک میزائل پھینک چکے اور اب ڈرون مارا گیا ہے۔ میرا چھٹا جواب یہ ہے کہ ہم امن کے داعی ہیں، ہم جارحیت کا حصہ نہیں بننا چاہتے لیکن اگر آپ خارجہ پالیسی میں دوستوں کے چناو کا کہیں گے تو میری نظر میں یمن کے نان اسٹیٹ حوثی تو ایک طرف رہے، تکلف برطرف، ایران کو بھی سعودی عرب پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ حوثی یا سعودی سوال پر میرا ساتواں جواب ہے کہ صرف سعودی عرب کیونکہ میرے چھبیس لاکھ سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب میں ہیں اور اگر ہر پاکستانی کے ساتھ پانچ بندوں کا گھرانا ہی لگایا جائے تو سوا سے ڈیڑھ کروڑ پاکستانیوں کا رزق وہاں سے لگا ہوا ہے، ہم حوثیوں کا ساتھ دے کر اپنے اڑھائی ملین سے زائد پاکستانیوں کو بے روزگار نہیں کرسکتے۔ میرا آٹھواں جواب یہ ہے کہ میرے لئے ریمی ٹینسز یعنی ترسیلات زر بہت ضروری ہیں اور اس وقت صرف سعودی عرب سے ترسیلات زر دس ارب ڈالر تک پہنچ رہی ہیں یعنی ہماری مجموعی ترسیلات زر کے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ۔میرا نوواں جواب یہ ہے کہ جب میں ( یعنی پاکستان) مشکل میں تھا تو یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پانچ ارب ڈالر میرے خزانے میںرکھوائے اور اب اسی برس تین ارب ڈالر مزید رکھوائے ہیں یعنی مجموعی طور پر آٹھ ارب ڈالر جو آئی ایم ایف کے پورے پیکج کے برابر ہیں اور میرا دسواں جواب یہ ہے کہ میری تیل کی ضروریات بھی سعودی عرب سے ہی پوری ہوتی ہیں۔ ہم اپنے تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ وہاں سے ہی منگواتے ہیں اور وہ بھی ڈیفرڈ پیمنٹ پر۔بات یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ جب میں توانائی سے زراعت تک میں مستقبل کی سرمایہ کاری کی طرف دیکھتا ہوں تو وہ سعودی ہی کرنے جا رہے ہیں، حوثی نہیں۔ میں نے خارجہ پالیسی کے تین اصول پڑھے ہیں، پہلا ہے ملکی مفاد، دوسرا ہے ملکی مفاد اور تیسرا ہے ملکی مفاد اور ان تینوں اصولوں کی روشنی میں میرے پاس حوثیوں کو سپورٹ کرنے کی گنجائش آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔