Wed, September 16, 2026

غزہ پر جبری قبضہ ‘بے دخلی اور واپسی

غزہ پر جبری قبضہ ‘بے دخلی اور واپسی

اسرائیل برسوں سے فلسطین پر ناجائز قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔7 اکتوبر2023ءکو کھلی دہشت گردی کرتے ہوئے اسرائیل نے غزہ پر خوفناک بمباری شروع کی جو دو سال تک جاری رہی۔اسرائیل نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رہائشی اورتجارتی عمارتوں،ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ملبے کا ڈھیربنا کر غزہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ کر دیا۔دو برسوں میں خواتین اور بچوں سمیت 67ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور پونے دو لاکھ زخمی ہو چکے ہیں،نوے فیصد مکانات تباہ کر کے اس زمین کے اصل وارثوں کو ان کی زمین اور گھروں سے بے دخل کر دیا گیاہے۔جنگل میںبھی ایسانہیں ہوتا،جانور پیٹ بھرنے کے لیے اپنے سے کمزور جانور کا شکار کرتے ہیں۔ ان کے رہائشی ٹھکانے تباہ کر کے جنگل سے نکلنے پر مجبور نہیں کرتے ۔اسرائیل نے نہ صرف غزہ کے مسلمانوں کو ان کی اپنی زمین سے بے دخل کیا بلکہ بحری ناکہ بندی کر کے غزہ تک خوراک اور ادویات سمیت تمام امدادی سامان کی ترسیل بند کئے رکھی جس سے غزہ کے بیس لاکھ افراد فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ۔غزہ کا محاصرہ اوربحری ناکہ بندی گرچہ بظاہر ختم کر دی گئی ہے لیکن قحط میں زندگی گزارنے والے غزہ کے باشندوں تک پہنچنے والی غذا انتہائی ناکافی ہے۔فلسطینی پناہ گزینوں کے لیئے یونائیٹڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی فار فلسطین(UNRWA) نے بتایا ہے کہ ان کے ادارے کی امداد،خوراک،صفائی کی کٹس، ادویات اور عارضی خیموں کے لیئے ضروری سامان اور مصر اور اردن میں غزہ کی پوری آبادی کے لیے تین ماہ کی خوراک غزہ کے باہر گوداموں میں موجود ہے لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لائی جانے والی امداد کو اسرائیل غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچا نے کے لیئے امداد پر عائد پابندیوں کو فوراً ختم کیا جائے۔
 اسرائیلی فوج اور ٹینکوں کی غزہ سے واپسی، ملبہ ہٹانے کے لیے غزہ میں ٹرکوں کا داخلہ اور غزہ کے باشندوں کی ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے اپنے گھروں کی طرف واپسی کا کٹھن سفر جاری ہے۔پناہ کی تلاش میں بے گھر ہونے والے مرد،عورتیں،بچے اور ضعیف افراد پیدل اور گاڑیوں پر اپنے بچے کھچے سامان کے ساتھ غزہ واپس آرہے ہیں۔ اسرائیل کی دو سالہ دہشت گردی نے غزہ کے شہریوں سے ان کی زندگیاں، مستقبل،ان کے گھر اور تحفظ کا احساس چھین لیا ہے۔وہ جنگ بندی کی خوشی مناتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں اور شہید ہونے والے اہل خانہ کی یاد کے غم کے جذبات بھی ان کے چہروں سے عیاں ہیں۔نہ گھر،نہ چھت،نہ گھر والے،نہ پڑوسی نہ رشتے دار لیکن گھروں کو واپس لوٹنے والے پر امید ہیں کہ قبلہ اوّل کی سر زمین فلسطین آزاد اسلامی ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر قائم رہے گی۔ابھی تو صرف چند یورپی ممالک نے فلسطین کو آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انشا ءاللہ جلد ہی پوری دنیا فلسطین کی اس آزادحیثیت کو تسلیم کرے گی۔
غزہ کے محکمہ¿ صحت کے مطابق اسرائیل کی دو سالہ دہشت گردی کے بعدغزہ کے شمالی اور وسطی علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے اب بھی شہدا کی نعشیںبرآمد ہو رہی ہیں۔ سینکڑوں لاپتہ شہدا کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جس کے باعث کئی مقامات پر کھدائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ملبہ ہٹانے کے لیئے گاڑیوں اور ضروری مشینری کی شدید قلت ہے ۔شہری ابتدائی وسائل کے ذریعے جس حد تک ملبہ ہٹا سکتے ہیں ہٹا کر شہدا کی میتیں نکال رہے ہیں۔ سول ڈیفنس کی ٹیمیں اور ایمبولینسیں ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔غزہ کی پاک سر زمین میںشہداءکا لہو شامل ہے۔یہ سر زمین اسرائیلی تسلط سے ایک دن انشاءاللہ ضرور آزاد ہو گی۔
رقبے کے لحاظ سے غزہ اسرائیل سے بہت چھوٹا ہے ۔دو سالوں میںاسرائیل نے وحشیانہ بمبا ری کر کے غزہ کا بنیادی ڈھانچہ ختم کر دیا لیکن وہ نہ غزہ پر غلبہ پا سکا اور نہ ہی غزہ کے مجاہدوں کے دلوں سے ایمان کی روشنی ختم کر سکا ۔یہ اسرائیل کی بہت بڑی ناکامی ہے۔اسرائیل سے کسی خیر کی توقع نہیں۔جنگ بندی کے معاہدے کے فوراً بعد خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ اور خان یونس میں فضائی حملے،گولہ باری اورفائرنگ کی اور اب دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں امریکی سر پرستی کا اعتراف کیا کہ ہم نے دو سال سے یرغمالیوں کی واپسی سمیت اپنے جنگی مقاصد کے حصول کے لیے لڑائی جاری رکھی ۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کو اپنی فتح کہا کہ یہ کامیابی امریکی صدر اور ان کی ٹیم کی غیر معمولی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ اعتراف حقیقت پر مبنی ہے ۔غزہ پر اسرائیل کے قبضے اورفلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے امریکہ نے دو سالوں میںاسرائیل کو21.7ارب ڈالر کی عسکری امداد دی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی اسلحے کا کامیاب استعمال کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی قیادت فلسطینیوں کی نسل کشی میں برابر کی شریک ہے ۔
 غزہ کی حالیہ جنگ بندی منصوبے کی تفصیل کے اعتبار سے کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے اور اسرائیل اپنے سابقہ رویے کی بنا پر کسی وقت بھی اس معاہدے سے منحرف ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی رائے عامہ فلسطینیوں کی حمایت میں اپنا دباو¿ برقرار رکھے۔

ٹیگز: