Wed, September 16, 2026

بدلتی ہوئی افغان پالیسی کے بعد

بدلتی ہوئی افغان پالیسی کے بعد

پاکستان اندرونی و بیرونی مسائل کا شکار نظر آ رہا ہے۔ بیرونی محاذ پر تحریک طالبان پاکستان، (TTP)، تحریک طالبان افغانستان (TTA) بلوچ لبریشن آرمی (BLA) ، مجید بریگیڈ، داعش اور اب اطلاعات کے مطابق القاعدہ بھی افغانستان میں فعال ہو گئی ہے اور یہ سب جنگجو اور پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ایک گروپ اسلامک سٹیٹ خراسان بھی اسی قسم کی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے ان سب گروپوں کو بھارتی حکومت کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ افغان طالبان حکومت کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران دفاعی معاہدے کے نتیجے میں افغانستان حکومت کی پاکستان دشمنی کھل کھلا کر سامنے آ گئی ہے۔ پاکستان نے کابل، قندھار پر حملے کر کے 250 طالبان ہلاک کئے اور فتنہ الخوارج کے تین بٹالین ہیڈکوارٹرز مکمل طور پر تباہ کر کے اپنی برتری اور عسکری قوت ثابت کر دی ہے۔ پاک فوج، ریاست پاکستان دہشت گردی اور فتنہ انگیزی کے خلاف زیروٹالرنس کا عملی مظاہرہ کر رہی ہے۔ افغانستان ہمارا دشمن ثابت ہو چکا ہے ہمیں پہلے لگتا تھا کہ فتنہ انگیز اور شرپسند گروہ شاید کابل حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں طالبان حکومت کا ان پر کنٹرول نہیں ہے لیکن پھر واقعات نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ طالبان حکومت ان کی مددگار اور ہمدرد ہے پھر افغان طالبان کا ہندوستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کھلی ہوئی پاکستان دشمنی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پاکستان نے طے کر لیا ہے کہ ایسے تمام دشمنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور ایسا شروع بھی ہو چکا ہے۔ حکومت نے کراچی میں قائم افغان بستیوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا ہے۔ کے پی میں تمام افغان مہاجر کیمپوں کو نہ صرف ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے بلکہ انہیں مکمل طور پر ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ اب کوئی غیرقانونی افغان باشندہ، کوئی کیمپ، کوئی بستی ارض پاکستان پر قائم نہیں رہے گی۔ افغان باشندے جو پاکستان میں خوشحال زندگیاں گزار رہے ہیں ایک طرف پاکستان انہیں سہولیات فراہم کرتا ہے انہیں پھلنے پھولنے کا مواقع دیتا ہے جواب میں وہ پاکستان کے خلاف ہی کام کرتے ہیں پاکستان میں رہتے ہیں، اس کا کھاتے ہیں اور اسے ہی آنکھیں دکھاتے ہیں۔ اب ایسے نمک حراموں کے لئے زمین تنگ کر دی جائے گی بلکہ زمین تنگ کی جانی شروع کر دی گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایف بی آر نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ بے شمار کنٹینر رک چکے ہیں۔ افغانستان ایک لینڈ لاک ملک ہے۔ پاکستان نے اسے امپورٹ کے لئے راہداری کی سہولیات فراہم کر رکھی ہیں۔ کراچی پورٹ سے چلنے والے کئی کنٹینر اپنی منزل مقصود، طورخم بارڈر تک پہنچنے سے پہلے ہی مکمل طور پر خالی ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد کئی کنٹینر کا مال واپس پاکستانی مارکیٹوں میں بک رہا ہوتا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان میں سمگلڈ شدہ اشیا کے لین دین کے فروغ کا باعث ہے۔ اس پر پابندی افغانستان کے لئے مضر اور پاکستان کے لئے سودمند ثابت ہو گی۔ اس کے علاوہ پاکستان سے گندم ، چاول، چینی و گڑ بھی افغانستان سمگل ہو کر جاتا ہے۔ پاکستان افغانیوں کے لئے آسائشوں اور ترقیوں کی آماجگاہ ہے ان کی شاید تین نسلیں یہاں رہ کر پلی بڑھی ہیں، پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے ہی یہ لوگ بیرون ملک کمائی کرنے جاتے رہے ہیں۔ بہت سے افغان باشندے اسی پاسپورٹ پر کئی ممالک کی شہریتیں بھی لے چکے ہیں۔ پاکستان ان کے لئے آسودگی والی پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اب یہی افغانی سارے نہیں کچھ نمک حرام، پاکستان دشمن، پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ یہاں بیٹھ کر افغانستان سے پاکستان پر حملہ آور ہونے والوں کے لئے مددگار بنتے ہیں، ان کی سہولت کاری کرتے ہیں، ریاست پاکستان نے ان پر عرصہ حیات مکمل طور پر تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہماری افغان پالیسی تبدیل ہو نہیں رہی بلکہ تبدیل ہو گئی ہے۔ افغانستان ہمارا دشمن ہے ہمارے دشمنوں کا مددگار ہے۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت کا دوست ہے۔ اب ہماری عنایات اور لطف و کرم کی بجائے آہنی ہاتھ کے ساتھ نمٹنے کا فیصلہ ہو چکا ہے باقی رہی بات افغانوں کی بہادری کی تو وہ ہم نے دیکھ لی ہے۔ کابل و قندھار پر حملوں کے ساتھ ہی انہوں نے جنگ بندی کی درخواستیں دینا شروع کر دی ہیں۔ پاکستان سے زیادہ ان کی بہادری کے بارے میں کسے پتا ہو گا۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کی روٹی اور گولی کا بندوبست کیا تھا وگرنہ افغانستان بھی وسط ایشیائی ریاستوں کی طرح اشتراکی سلطنت میں ضم ہو چکا ہوتا۔ پاکستان اگر دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اپنا کردار ادا نہ کرتا تو طالبان کا حشر نشر ہو چکا ہوتا ہم نے دوغلی پالیسی کا طعنہ بھی سنا لیکن افغان طالبان قیادت کا ساتھ دیتے رہے۔ کوئٹہ شوریٰ او کراچی شوریٰ کی باتیں ہماری اسی پالیسی کا حصہ تھیں کہ افغان طالبان قیادت کو امریکی وحشت سے بچایا جائے۔ اب یہی افغان طالبان نمک حرامی کر رہے ہیں محسن کشی کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کے مددگار بنے ہوئے ہیں، ریاست پاکستان آخری دہشت گرد کی ہلاکت تک آپریشن جاری رکھے گی۔
دوسری طرف اندرون ملک نمک حراموں کے معاون اور مددگار موجود ہیں وہ کھل کھلا کر سیاست کے نام پر، تحریر و تقریر کی آئینی آزادی کے نام پر ریاست کے خلاف زبان درازی کر رہے ہیں۔ آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں ویسے یہ لوگ تو ریاست ہی کی مخالفت پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان کا بانی لیڈر جیل میں بیٹھ کر افتراق و انتشار کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان کی کوئی بھی کامیابی ان کے لئے پریشانی اور افسوس کا باعث بنتی ہے۔ انہیں مئی میں ہندوستان کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، انہیں پاکستان کی سفارتی فتوحات سے کوئی غرض نہیں ہے، انہیں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی سے بھی پریشانی نہیں ہے، وہ غزہ میں جنگ بندی پر بھی خوش نہیں ہیں وہ صرف اور صرف جاری نظم حکمرانی کو تباہ و برباددیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ فتنہ و فساد برپا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ ریاست پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان پالیسی کے ساتھ ساتھ اس پارٹی کے بارے میں بھی جاری پالیسی پر نظرثانی کی جائے کیونکہ بیرونی دشمن تو ہمیں واضح طور پر نظر آ رہا ہے اور ہم اس کا قلع قمع کر رہے ہیں لیکن اندرون ملک چھپے ہوئے نہیں بلکہ ظاہر دشمن سیاست کے نام پر پاکستان کو ریاست پاکستان کو ناکام بنانے پر لگے ہوئے ہیں۔

ٹیگز: