Wed, September 16, 2026

دنیا کی بدلتی صورتحال اور پاک، ترک، آذربائیجان اتحاد

دنیا کی بدلتی صورتحال اور پاک، ترک، آذربائیجان اتحاد

قدرت نے پاکستان کو ایک بار پھر ایک بہت بڑا اور قیمتی موقع فراہم کر دیا ہے کہ ہر خطے اور اقوامِ عالم میں اپنے آپ کو معاشی، دفاعی، علاقائی اور عالمی اہمیت کا ملک ثابت کرے اور ایک بار پھر وہ ملک بن جائے جس کا خواب علامہ اقبال نے اس نقطہ نظر سے دیکھا تھا کہ مسلم امہ کی امیدوں کا محور ہو گا۔ پاکستان کو قدرت نے ایک سنہری موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ اپنے معاملات کو سنبھال کر عالمی برادری اور مسلم امہ میں قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر عالمی حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ دنیا گزشتہ دس برس میں بہت بدل چکی ہے۔ بہت سی قوتیں پس منظر میں چلی گئی ہیں اور کئی نئی طاقتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ 90 کی دہائی میں شکست و ریخت کے بعد روس کی وہ حیثیت نہیں رہی تھی کہ امریکہ جیسی سپر پاور کی برابری کر سکے۔ اس کے حامی ممالک اس سے دور ہو گئے اور دنیا میں سوشلسٹ بلاک ختم ہو کر رہ گئے۔ ولادیمیر پوٹن نے روس کو سنبھالا اور کھوئی ہوئی قوت کی بحالی کا کام کیا۔ اگر چہ سابقہ قوت بحال نہیں ہو سکی تاہم روس بہرحال ایک ایسی طاقت کے طور پر سامنے آیا جو دنیا کے بہت سے معاملات میں اپنی بات منوا سکتا اور حریفوں کو خوفزدہ کر سکتا ہے۔ پوٹن نے اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے چین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ چین نظریاتی ہم آہنگی اور اپنی دور رس پالیسی کے باعث پہلے ہی اس بات کا خواہاں تھا۔ان دونوں کے مشترکہ حریف امریکہ اور یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ممالک تھے۔ چنانچہ روس اور چین کے مابین دفاعی ساز و سامان کے معاہدے شروع ہو گئے۔ 2022ء میں شدت اختیار کرنے والی یو کرین جنگ کی بھی یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی سرحد پر یو کرین کی صورت میں نیٹو افواج کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ تین سال سے جاری جنگ نے یو کرین کو بہت سے علاقوں سے محروم کر دیا اور بہت جانی و مالی نقصان پہنچایا لیکن اس جنگ نے روس کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا دنیا نے دیکھا کہ ایک اتنی بڑی طاقت ایک چھوٹے ملک کو اب تک 
شکست نہیں دے سکی۔ چنانچہ روس ظاہری برتری کے باوجود نقصان اٹھا رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ چین کو حریف کی صورت میں دیکھ رہے ہیں اور روسی مخالفت اب پس منظر میں جا چکی ہے۔
روس اور چین کے ایک پیج پر آ جانے سے پاکستان کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ ہمیشہ سے چین کا مضبوط حلیف ہے ، چنانچہ روس پاکستان کے خلاف نہیں جائے گا۔ دوسری طرف امریکی گود میں چلے جانے سے روس بھارت سے ایسے ہی ناراض ہے۔ بہت عرصے سے بھارت جو دنیا میں اسلحہ کا ایک بڑا خریدار ہے روس سے بہت کم اسلحہ خرید رہا ہے جب کہ ماضی میں 70 سے 80 فیصد روسی اسلحہ خریدتا رہا ہے۔ بھارت کی کئی عشروں سے سب سے مفاد سمیٹنے کی کوششوں نے اب اسے دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ ہم نے حالیہ پاک بھارت جھڑپ میں دیکھا کہ امریکہ نے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی عملی مدد نہیں کہ بلکہ الٹا بھارت کو ان دنوں صدر ٹرمپ کے بیانات سے مسلسل شرمندگی کا سامنا ہے۔ خلاصہ یہ کہ دنیا کہ تین بڑی طاقتوں میں سے پاکستان کو ایک کی مضبوط حمایت حاصل ہے اور باقی دو اس کی مخالف نہیں جب کہ بھارت کے معاملے میں ایک طاقت اس کی بڑی مخالف ہے اور باقی دو اس کی پشت پناہی نہیں کرتیں، اس کے علاوہ جنوبی ایشیا کے باقی ممالک بھی بھارت سے ناراض ہیں، خاص طور پر بنگلہ دیش سے حسینہ واجد کے چلے جانے کے بعد صورتحال چین اور پاکستان کے حق میں پلٹ چکی ہے۔ خطے میں کوئی ایک ملک ایسا نہیں جو اس جنگ میں بھارت کے ساتھ کھڑا تھا، وقت بدل رہا ہے، اس تبدیلی کے ابتدائی نقوش سامنے آ رہے ہیں اور اس صورتحال میں بھارت دنیا میں تنہا ہو رہا ہے، آج بھارت ایک نسل پرست فاشسٹ ملک ہے یہ محض کانگرس کی دہائی نہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندو توا کے پروردہ نریندر مودی نے سارے حجاب اتار دئے ہیں جو کہ کانگرس کی ہنر کاری نے بھارت کو پہنا رکھے تھے اور اس کا اصل چہرہ ان نقابوں میں چھپا ہوا تھا۔ اب سب کچھ دنیا کے سامنے ہے، دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت امنِ عالم کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ بھارت بہت بڑی کنزیومر مارکیٹ ہے اور اس سے دنیا کے معاشی مفادات جڑے ہوئے ہیں لیکن اس سب کے باوجود حالیہ جنگ میں دنیا میں کوئی ایک ملک بھی بھارت کے ساتھ نہیں کھڑا تھا۔ بھارت کی مذمت کرنے والے ممالک تو تھے لیکن دنیا میں کوئی ایک ملک ایسا نہیں تھا جس نے پاکستان کی مذمت کی ہو۔ بھارت کے لئے یہ سفارتی تنہائی کسی صدمے سے کم نہیں تھی۔ یہ صورتحال پاکستان کے لئے بہت مفید اور پاکستان کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
حالیہ پاک بھارت جنگ میں ثابت ہو گیا کہ پاکستان روایتی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی میں نہ صرف بھارت کے ہم پلہ بلکہ کئی شعبوں میں اسے فوقیت حاصل ہے اور اپنے وجود کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جوہری طاقت اسے مزید نمایاں کرتی ہے۔ حالیہ جنگ میں پاکستان کی فتح سے وہ خطے کے چھوٹے ممالک کے رہنما کا کردار ادا کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ خوبِ غفلت کا شکار ہونے کی بجائے آنے والے خطرات کا پہلے سے بڑھ کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ عالمی سطح پر اور خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی، تزویراتی اور سیاسی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان، ترکی اور آذر بائیجان ایک مربوط دفاعی اتحاد قائم کریں۔ یہ تینوں ممالک نہ صرف اسلامی اخوت، ثقافتی مماثلت اور تاریخی اشتراک رکھتے ہیں بلکہ انہیں مشترکہ خطرات کا بھی سامنا ہے جن میں ہمسایہ ممالک کی توسیع پسندانہ پالیسیاں، پراکسی جنگیں، علیحدگی پسند تحریکیں اور مذہبی انتہا پسندی جیسے چیلنج شامل ہیں۔ اخوتِ اسلامی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ خطرات کے مقابلے میں مسلم ممالک کے مابین دفاعی، تزویراتی اور انٹیلی جنس تعاون کو عملی صورت دی جائے تا کہ نہ صرف عالمِ اسلام کی سلامتی مستحکم ہو بلکہ دنیا میںطاقت کا توازن بھی برقرار رہے۔ پاک چین دوستی اس اتحاد کا قدرتی سہارا بن سکتی ہے۔ اس طرح مشترکہ طور پر بدلتی ہوئی دنیا کی تقاضوں کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

ٹیگز: