1989ء میں جب ریگن اور گوربا چوف نے ہاتھ ملا کر سرد جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تو اْس کے بعد تواتر اورتسلسل سے افغانوں کی واپسی بارے لکھنا شروع کردیا تھا۔ وہ کونسی قوتیں تھیں جو ہمارے مدمقابل کھڑی افغانوں کو پاکستان میں بسانے، انہیں شہریت دینے اورکاروبار وسیع کرنے کے موقع فراہم کرتی رہی آج تک نظروں سے اوجھل رہی۔ بہرحال دیر آید درست آید۔ آج اگر ریاست پاکستان کا بیانیہ وہی بن چکا ہے جو گزشتہ 36سال سے ہمار ا تھا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے بیانیے کا ساتھ نہ دیا جائے؟ہندوستانی جب افغان وزیر خارجہ کو ہز ایکسلینی کہہ رہے تھے تو میں بمشکل اپنی ہنسی روک رہا تھا۔ مودی سرکار کا بیانیہ بھی اپنی موت آپ مر رہا ہے کیونکہ جب برسرِ اقتدار سیاسی جماعتوں کے بیانیوں کو موت آتی ہے تو پھروہ سیاسی جماعتیں یا تو ہمیشہ کیلئے مٹ جاتی ہیں یا پھر ایک طویل عرصہ تک اقتدار کی غلام گردشو ں سے دور ہو جاتی ہیں۔کل کاسار ا دن 1971ء کے اخبارات کا مطالعہ کرتے گزرگیا۔ کچھ باتو ں نے تو پریشان کرکے رکھ دیا کہ آج بھی ہمارے پاکستانی بھائی اس سے لاعلم ہیں۔71ء میں ہندوستان کے بنگالیوں نے مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے ذریعے سارا کھیل کھیلا، کیوں جب زبان ایک ہوتو پھرابلاغ کا مسئلہ تو سب سے پہلے ختم ہوتا ہے۔ا س کے علاوہ مشرقی پاکستان میں موجود ہندووں کی بڑی تعدا د جن میں بہت پڑھے لکھے لوگ بھی تھے جو کالجز اور یونیورسٹیوں میں اہم عہدوں پر تھے، اْن کے ذریعے بنگالی نوجوانوں کے ذہن میں مغربی پاکستان کے عوام اورفوج کے خلاف نفرت بھری گئی۔ انہیں ٹریننگ دی گئی اور پھر اسلحہ سے لیس کرکے مشرقی پاکستان بھیجا گیا جہاں ایک بنگالی لیڈر شیخ مجیب الرحمن 1954ء میں ہی جگتو فرنٹ کی کامیابی کے بعد علیحدگی کے منصوبے بنا رہا تھا، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں جب خون کا کھیل جاری تھا تو مجیب الرحمن بھی اْس وقت مغربی پاکستان کی جیل میں تھا۔ جب مکتی بانیوں کی تحریک عروج پر پہنچی تو ایک ہزار میل دور مغربی پاکستان سے سپلائی لائن کٹ چکی تھی اور پھر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اس جنگ میں جس امریکی بحری بیڑے نے پاکستان کی مدد کے لئے پہنچنا تھا تاحال کہیں دور سے ہمیں دیکھ رہا ہے۔
2025ء بھارت ابھی حال ہی میں ذلیل و رسوا ہو کر اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ افغانستان کے بارڈر پر خوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کو سبق سکھایا جا رہا ہے اور مزید سکھایا جائے گا۔لیکن ایک بات ہمیں مدنظر رکھنا ہو گی کہ اس بار بھی افغانیوں اور کے پی کے میں ’’یک زبا ن‘‘ قدیم تعلق اوررشتے داریوں کی وجہ سے ابلاغ کا مسئلہ نہیں ہے اور کے پی کے میں ایک ایسی سیاسی جماعت کی حکومت موجود ہے جس کا بانی بارہا خو د کو شیخ مجیب الرحمان ثانی قراردے چکا ہے، جیل میں بھی ہے اور افواج پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے باوجود دنیا کی ہر ضرورت اورسہولت سرکار سے ہی وصول کر رہا ہے۔ اس بار بھی ہندوستانی انوسٹمنٹ دہشت گردی کا برہنہ ناچ کررہی ہے۔ بلوچستان میں ’’را‘‘کے ایجنٹ گرم پانیوں کے نیچے ہیں لیکن محمود خان اْچکزئی کا عمران نیازی کے ساتھ گٹھ جوڑ علیحدگی پسندوں کی بہت بڑی سپورٹ ہے اور یہاں اس بات کی وضاحت ضرور ی ہے کہ محمود خان اْچکزئی بلوچستان کارہائشی ہونے کے باوجود صرف پختونوں کا لیڈر ہے جو ایک طرف کے پی کے میں بھی جرگے کے ذریعے اثر انداز ہوتا ہے اور دوسری طرف افغانستان سے مکمل رابطے میں ہے۔سوآپ اس ’’دورمار میزائل‘‘کے رابطے سمجھ سکتے ہیں کہ کہاں کہاں ہو سکتے ہیں۔کے پی کے کا نیا وزیراعلیٰ عشقِ عمران نیازی میں شہید ہونے کا عندیہ دے چکا ہے جس سے صوبے کی حقیقی حالت کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں۔لیکن اس بار ایک ہزار میل کا سمندر بھی درمیان میں نہیں، عالمی معروض بھی ہماری حمایت میں ہے اور جدیدٹیکنالوجی کا استعمال ساری دنیا نے دیکھ بھی لیا ہے۔ جمعرات کی رات تک افغان طالبان، خوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں پر افواج ِ پاکستان عذابِ الٰہی بن کر نازل ہوئی ہے۔ ہم نے نہ تو امریکہ سے افغانستان جانا ہے اور نہ ہی روس سے سو یہ جنگ ان شاء اللہ پاکستان کی فتح پر جلد ہی ختم ہو گی البتہ ہندوستانی انوسٹمنٹ روایتی کمینگی کرتے ہوئے پاکستان کے عام شہریوں اوراداروں کو نشانہ بنانے کی ناپاک سازش ضرور کرے گی۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں ہمارے بہادر جوانوں کے مقدس جسم پہنچ رہے ہیں جنہوں نے دنیا کے بدنام ترین دہشتگردوں سے صرف پاکستان نہیں دنیا بھرکے معصوم لوگوں کو بچانے کیلئے اپنے جانیں قربان کی ہیں۔سوشل میڈیا پر شہداء کی تصویر وں پر ہنسنے والے ایموجز لگانے والے افغانیوں، خارجیوں، فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ڈی این اے چیک کرانا ہوں گے۔ ہم پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کودہشتگردوں سے محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور دنیا ہمارے ساتھ ہے لیکن اپنے ہی دیس کے بدشکل غداروں کے اصل چہرے کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔جنرل عاصم منیر نے بہادری کی ایک نئی داستان رقم کی ہے جس سے افواج ِ پاکستان کا مورال مزید بلند ہوا ہے۔ وطن کیلئے شہید ہونا سعادت کی بات ہے جبکہ وطن اور اس کے اداروں پر بھونکنے سے بڑ ی لعنت کوئی ہو نہیں سکتی۔ہندوستان کے علم میں ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جس کو باہر سے توڑنا ناممکن ہے یہی وجہ ہے کہ ’’را‘‘ نے اپنے غدار پاکستان کے اندر پیدا کیے ہوئے ہیں لیکن پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ مل کر انہیں نیست و نابود کر دے
گی۔ پاکستان کے عوام کو اینٹی طالبان، اینٹی انتہا پسند، اینٹی ملک دشمن اور اینٹی بھارت تنظیمیں بنا کرمیدان عمل میں آنا چاہیے تاکہ دنیا میں یہ پیغام تو جائے کہ پاکستان کے عوام’’دفاع اور وفا‘‘ کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغانوں کی نشاندہی کرنا ہر مہذب شہری کا فرض ہے کہ اس کے بغیر یہ جنگ طویل ہو تی جائے گی۔ افغانیوں کو ملک چھوڑنے کیلئے مزید مہلت نہیں ملنی چاہیے ورنہ آنے والے دنوں میں یہ بھی ’’را‘‘ کے ایجنٹ بن کر پاکستان میں رہیں گے۔ اس جنگ میں ہم رہیں یا نہ رہیں یہ اہم بات نہیں لیکن جہنم کے اِن کتوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانا انتہائی ضرور ی ہو چکا ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پْرامن پاکستان میں سانس لے سکیں، ہمارے شہداء کی قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جائیں گی۔ہم نے ہی وہ بنیان مرصوص بنا کر سامنے آنا ہے جس نے پہلے ہندوستان کو سبق سکھا یا ہے اور اب ہندوستان کے ذہن سے 71ء کی غلط فہمی بھی پوری طاقت سے نکالنی ہے۔