Wed, September 16, 2026

سرزمینِ کرم ۔ عزمِ ملی اور امن کی قیمت

سرزمینِ کرم ۔ عزمِ ملی اور امن کی قیمت

دشمن کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ ہر لمحہ ایسی بہانہ جوئی اور ایسے محرکات کی تلاش میں رہتا ہے جو فریق مخالف کو جھوٹا ثابت کریں، مگر دوسری جانب جب حقائق ، مؤقف اور حکمت عملی خود گواہ بن جائیں تو دشمن کی سازشیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کو حالیہ چند دہائیوں سے دہشت گردی کا شدید سامنا رہا ہے تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت اور فوری کارروائیوں نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے ہیں ۔ تاہم کرم کا علاقہ بھی اسی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتا آیا ہے۔دشمن کی سازشوں نے بارہا اس دھرتی کومتاثر کیا ہے، مگر کرم کی مٹی نے ہر بار سر اٹھایا ہے۔ حالیہ دردناک واقعے جدرا خرکی میں مارٹر شیل گرنے سے ایک معصوم جان کا زیاں اور ایک زخمی ،محض ایک فردی المیہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی وجود، ریاستی ذمہ داری اور سکیورٹی کے نظام پر ایک گہرا وار بھی ہے۔ اس وار کا جواب دعووں میں نہیں بلکہ منظم، قانونی اور ثابت قدم عزم میں ہونا چاہیے۔
FAK  کے مقامی کمانڈر مولوی احمد کی حالیہ ویڈیو جو دھمکیوں اور مبالغہ آمیز دعووں سے بھری ہوئی ہے، دراصل وہ آخری کوشش ہے جسے خوفزدہ اور پسپائی کی کیفیت میں بنائے گئے خالی نعروں سے سجایا گیا ہے۔ جبر و تشدد کی جو زبان وہ بولتے ہیں، وہ بہادری کی نہیں بلکہ شکست کی صدا ہے۔ دشمن چاہے کتنی ہی ویڈیوز اور ہتھکنڈے استعمال کرے، جب ریاست کے ادارے چوکس ہوں اور عوام اپنا فرض ادا کریں تو ان دعووں کا کوئی وزن نہیں رہتا۔ یہ حقیقت ہماری فوج، دفاعی اور سکیورٹی اداروں کی بے مثال قربانیوں سے واضح ہوئی ہے۔ SFC اور دیگر خصوصی یونٹس نے بروقت کارروائیوں اور درست انٹیلی جنس کے ساتھ کئی سازشیں ناکام بنائیں۔ مگر یہ قابو محض افواج کی محنت کا نتیجہ نہیں؛ عوامی تعاون کے بغیر یہ کامیابیاں نامکمل رہتی ہیں۔ ہر ضلع، ہر گاؤں اور ہر محلے کا فرد جب ریاست کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو دہشت گردی کے لیے سماجی قبولیت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
خوارج کی کارروائیاں، مارٹر فائرنگ، IEDs، خودکش حملے، بھتہ خوری اور اغوا نہ صرف انسانی جانوں کو نشانہ بناتی ہیں بلکہ قبائلی روایات اور معاشرتی بندھنوں کو کمزور کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ پشتونولی کی روح، مشران، جرگے اور روایتی اقدار ہمیشہ امن و اتفاق کی بنیاد رہی ہیں؛ جو انہیں ٹارگٹ کر کے قبیلے کے اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں، وہ دراصل اپنی ہی بقا کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ پشتون عوام نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہتے ہیں اور خارجی پشت پناہی کے باوجود قاتلانہ سازشوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہاں ایک تلخ سچائی بھی سامنے آتی ہے: خوارج کی قیادت اکثر محفوظ پناہ گاہوں اور بیرونی نیٹ ورکس سے قوت اور مالی مدد حاصل کرتی ہے۔ ان سرنگوں کو بند کرنا بین الاقوامی تعاون کے بغیر مشکل ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اندرونی سطح پر خاموش بیٹھ جائیں، مقامی معلومات، عوامی شراکت اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھلا تعاون ہی ان نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کا راستہ ہے۔
تحفظ کا معاملہ صرف سکیورٹی افسران کی ذمہ داری نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، معاشی ترقی، معیاری تعلیم اور سماجی بہبود بھی طویل المدت حل کے ستون ہیں۔ جب نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، تعلیمی سہولتیں اور مثبت مشغلے ملیں گے تو انتہا پسندی کے لیے جگہ کم ہوگی۔ امن کیلئے اقدامات کے ساتھ مضبوط سوشل پالیسیاں لازم ہیں، تاکہ خوف کے بیج پروان نہ چڑھ سکیں۔ عوامی شعور کے فروغ اور متفقہ قومی ردعمل سے ہی معاشرہ دہشت گردی کو مستردکرتا ہے۔ ہمیں نسل، فرقہ واریت یا سیاسی اختلافات کے سائے میں نہ پڑتے ہوئے ایک مشترکہ محاذ بنانا ہو گا۔ ہمارے بزرگ، مشران اور جرگے اس جذبے کو زندہ رکھیں اور نئی نسل کو نفرت سے بچانے میں بنیادی کردار ادا کریں۔ ہمیں اپنے سکیورٹی اداروں سے بھر پور تعاون کرنا، اور معلومات فراہم کرنا ہیں، امن کی خاطر ہر شہری اپنی ذمہ داری نبھائے۔
مولوی احمد جیسے عناصر کی خالی دھمکیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتیں بلکہ وہ خود اپنے انجام کا خوف ظاہر کرتے ہیں۔ آئیں ہم سب مل کر اس عہد کو دہراتے ہیں: یہ ملک ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے، اور اس کی سلامتی کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو ہم تیار ہیں۔ کرم کی مٹی نے جو قربانیاں دی ہیں، ہم انہیں رائیگاں جانے نہیں دیں گے۔ ہر گھر، ہر گلی اور ہر دل میں امن کی وہ شمع روشن رکھیں جو نفرت کے اندھیروں کو بھڑکنے نہ دے۔ یہی ہمارا قومی عزم ہے مضبوط، متحد اور بے خوف۔

ٹیگز: