Wed, September 16, 2026

سرابوں کی دنیا میں گم ہوتے جوان

سرابوں کی دنیا میں گم ہوتے جوان

یہ عہد شاید انسانی تاریخ کا سب سے تیز رفتار عہد ہے مگر اس رفتار نے جہاں انسان کی زندگی کو سہولت بخشی وہیں اس کی روح کو سکون سے محروم کر دیا ۔ آج ہمارے بچوں کے ہاتھ میں ایک ایسی سکرین ہے جس نے محنت کے تصور کو خواب اور قسمت کے کھیل کو حقیقت بنا دیا ،جو ان کے خوابوں کا میدان بھی ہے اور بربادی کا آغاز بھی ۔ ان کے دکھ ، سکھ ، ہار اور جیت سب ایک کلک کی دوری پر ہیں ۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں محنت کا تصور کمزور اور قسمت پر یقین مضبوط ہوتا جا رہا ہے ۔ہمارے نوجوان اب مزدور نہیں بلکہ یوزرز بن چکے ہیں ۔ ان کی آنکھیں تو سکرین کی روشنیوں میں جگمگاتی ہیں ہر طلوع ہوتے سورج کے ساتھ دلوں کے اندر اندھیرا بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ یہ نسل چاہتی ہے کہ ایک کلک کے ذریعے ہی ان کی قسمت بدل جائے اور اسی خواہش نے ڈیجیٹل بیٹنگ ایپس کو آج ایک عالمی کاروبار بنا دیا ۔ آن لائن گیمز، بیٹنگ ایپس، کرپٹو کی تیز ہوا صرف کھیل نہیں بلکہ نفسیاتی استحصال کا جدید ہتھیارہیں۔ یہ سب ایک ایسا دھوکہ ہے جہاں جیتنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ ان ایپس کے رنگین اشتہارات، جیت کی ضمانت دینے والی ویڈیوز اور چند لمحوں میں لاکھوں کے خواب سب ذہنی اور معاشی غلامی کا ایک نیا نظام ہیں۔
سوشل میڈیا نے سادہ ذہنوں میں کامیابی کی نئی تصویر کھینچی ہے جہاں امارت دکھاوا ہے اور شہرت ایک فریب ۔ بدقسمتی سے ہماری نوجوان نسل آج ایک ایسے بحران میں گھری ہے جو صرف مالی نہیں بلکہ دینی ، اخلاقی اور معاشرتی پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہمارے نوجوان خود کو ایک ایسے ماحول میں پاتے ہیں جہاں مواقع محدود ، معیشت پیچیدہ اور مالیاتی نظام سودی جال سے بھرپور ہے ۔آج کے نوجوان اپنے خوابوں کے تعاقب کے بجائے تیز ترین شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں ۔آن لائن بیٹنگ کے پلیٹ فارمز ان کی اسی کمزوری کو نشانہ بناتے ہیں ۔ وہ انہیں یقین دلاتے ہیں کہ قسمت تم پر مہربان ہے اور ایک کلک تمہیں سب کچھ دے سکتا ہے۔ مگر اس کلک کے پیچھے ایک پوری نفسیاتی مشینری ہے جو انسان کے لالچ، اس کی کمزوری، اس کے خواب، خوف، مایوسی اور کامیابی کی خواہش سے کھیلتی ہے۔ دوسری طرف سود اور قرض کا جال ہے جو کسی بھی قوم کی روح چاٹ جاتا ہے اور پورے معاشرے کے ضمیر کو مردہ کر دیتا ہے۔ ان ایپلیکیشنر میں ہارنے کے بعد جب نوجوانوں کو آمدنی کا کوئی بھی راستہ نہیں ملتا تو وہ ایزی لون ایپس کی طرف جاتے ہیں۔ ابتدائی دن تو اسی خوشی میں بیت جاتے ہیں کہ رقم کتنی آسانی سے مل گئی مگر پھر سود بڑھتا ہے، ادائیگی کی تاریخ قریب آتی ہے اور یہی خوشی پھر خوف میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ وہی خوف ہے جس کے باعث نئی نسل ڈپریشن، بے خوابی اور بعض اوقات خودکشی کے مرحلے تک پہنچ جاتی ہے۔ آن لائن بیٹنگ کے یہ کھیل محض مالی نقصان نہیں دیتے بلکہ نوجوانوں کے ضمیر کو احتمال کے نشے کا عادی بنا دیتے ہیںجس کے بعد وہ محنت سے زیادہ مواقع پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کے پاس خواب تو ہیں مگر حقیقت کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں۔ یہ وہ نظام ہے جہاں ایک طرف تو حکومت سودی قرضوں پر ملک چلا رہی ہے اور دوسری جانب ابھرتی نسل کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے لیکچرز دئیے جا رہے ہیں۔ جب نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار کے لیے دربدر ہو ں تو ایک بیٹنگ ایپ ہی امید کی آخری کرن بن جاتی ہے۔ مگر جب امید ہی قمار بن جائے تو معاشرہ بربادی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک معاشی بحران نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی دیوالیہ پن ہے۔ سود نے انسان سے اطمینان چھین لیا اور بیٹنگ نے اسے محنت سے متنفر کر دیا۔ ایک طرف ایزی منی کا فریب ہے تو دوسری طرف ناممکن سکون کی حقیقت۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں محنت کرنے والوں کا تو مذاق بنایا جاتا ہے مگر بیٹنگ کرنے والے کو سمارٹ پلیئر پکارا جاتا ہے۔ ہم نے اپنی نئی نسل کو یہ تو سکھایا کہ کامیاب ہونا ہے مگر یہ نہیں سکھایا کہ کامیابی کی قیمت صبر، استقامت اور مسلسل محنت ہے۔ انسان جب حلال اور حرام میں فرق بھول جائے اور قسمت کو عقل پر ترجیح دینے لگے تو پھر زوال لازم ہو جاتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو قوموں کو کاہلی، بے عملی اور گمراہی کی دلدل میں لے جاتا ہے جہاں تہذیبیں مٹ جاتی ہیں اور نسلیں بے وقعت ہو جاتی ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ حکومت ان ایپلیکیشنر کو بند کیوں نہیں کرتی بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کے اندر ایمان، محنت اور قناعت کی آگ کیوں بجھنے دی؟ ہم نے اپنے بچوں کو کیوں نہیں سکھایا کہ پیسہ زندگی کا مقصد نہیں بلکہ نتیجہ ہے اور نتیجہ بھی صرف اس جدوجہد کا جو حق، حلال اور عزت کے اصولوں پر مبنی ہو۔ آج نئی نسل کو صرف روزگار نہیں بلکہ فکر و شعور کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انہیں یہ بتایا جائے کہ اصل جیت وہ نہیں ہے جو بیٹنگ میں ملتی ہے بلکہ وہ ہے جس سے ضمیر کو سکون حاصل ہو۔ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا زندگی ہمیشہ نئے آغاز کا نام ہے یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنے فیصلوں کی روشنی میں اپنے راستے کا انتخاب کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نصیب کے فریب سے نکل کر محنت کے یقین کی طرف واپس لوٹ آئیں۔ اب بھی اگر ریاست، میڈیا اور تعلیمی ادارے نئی نسل کو محنت کی اصل قیمت سمجھانے کے ساتھ انہیں یہ باور کرائیں کہ عزت کی کمائی ہمیشہ دیر سے آتی ہے مگر دیرپا ہوتی ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا ہو گا کہ یہ زمانہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ عقل اور ضمیر کے امتحان کا ہے۔ نوجوانوں کو اگر اپنا آج محفوظ بنانا ہے تو اس کلک پر قابو پانا ہو گا کیونکہ قسمت کبھی انگلیوں سے نہیں بلکہ صرف محنت سے تبدیل ہوتی ہے۔

ٹیگز: