کھیل شروع ہوگیا، ماہرین نے پچ کا معائنہ کیا، امپائروں نے حالات کا جائزہ لیا، موقع بھی تھا دستور بھی تھا، کھلاڑی میدان میں آگئے۔ 27 ویں ترمیم جھٹ پٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرا لی گئی، ایک بار نہیں دو بار، ارکان کی 59 بار اٹھک بیٹھک کرائی گئی۔ ترمیم میں 59 شقیں، ایک ایک شق کی منظوری کے لیے ارکان کو اٹھنا پڑتا تھا۔ اپوزیشن کے آزاد ارکان تو ہلا گلا اور نعرے بازی کر کے واک آئوٹ کر گئے۔ اتحادی پھنس گئے۔ 234 نے ترمیم کے حق میں ووٹ دئیے۔ جے یو آئی (ف) کی تین خواتین اور ایک مولانا نے ہاتھ کھڑے کر کے مخالفت میں ووٹ دئیے۔ البتہ سینیٹ میں منظوری کے لیے تھوڑی سی محنت کرنا پڑی۔ 64 سینیٹرز درکار تھے جھولی میں 62 تھے۔ بھاگ دوڑ کرنا پڑی، پی ٹی آئی (آزاد) سے سیف اللہ ابڑو پارٹی رویہ سے مایوس ہو کر اور جے یو آئی کے احمد خان بھی کچھ نہ ہونے کا شکوہ کرتے ادھر آ گئے۔ ترمیم منظور ہو گئی۔ پی ٹی آئی والے شور مچاتے رہ گئے۔ سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے شعر پڑھ کر افنان اللہ خان نے اپنے مرحوم و مغفور والد مشاہد اللہ خان کی یاد تازہ کر دی، پُر جوش لہجے میں کہا۔ ’’منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے، تم لوگ منافق ہو منافق بھی بلا کے‘‘ افنان اللہ نے کہا کہ آپ کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے ترامیم لانا پڑیں، 27 ویں ترمیم تین چار دن میں منظور کیے جانے کے اعتراض پر کہا اپنا دور یاد کریں نومبر 2021ء میں 33 بل 15 منٹ میں منظور کرائے، 2019ء میں گیارہ صدارتی آرڈیننس جاری کیے گئے۔ ایجنسیوں سے بل پاس کرائے جاتے تھے۔ آر ٹی ایس کس نے بٹھائے 8 فروری کا الیکشن یاد آتا ہے۔ 15 جولائی 2018 کا الیکشن بھول جاتے ہو، ادھر قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تقریر کے دوران پرخچے اڑا دئیے۔ ایک پنجابی صحافی نے کہا ’’پھٹے چک دئیے‘‘ دوسرے نے سرخی جمائی تن دئیے باد مخالف نے یہاں سارے عقاب۔ 27 ویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ اور تعلیم، پاپولیشن، پلاننگ اور وفاق کے اختیارات رہ گئے۔ ان کے لیے 28 ویں ترمیم آئے گی۔ ترمیم کی منظوری کے بعد کا منظر نامہ حیرت انگیز کمالات، صدر آصف علی زرداری عمر بھر جیل نہیں جائیں گے استثنیٰ مل گیا۔ فیلڈ مارشل کا عہدہ تا حیات برقرار، 8 سال تک آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز رہیں گے۔ دیگر تبدیلیاں ترمیم کا حصہ، آئینی عدالت کا قیام 13 جج ہوں گے خطوط نویسی کرنے والے ٹی وی نواز شریف کے نام پر پابندی اور اپنی پارٹی کی سربراہی کیخلاف فیصلے دینے والے مسجد نبویؐ میں ہلڑ بازی کرنے والوں کے خلاف مقدمات خارج کرنے والے استعفے دے کر گھر چلے گئے۔ کالے بھونڈوں کی بھنبھناہٹ ختم ہوئی۔ ابھی دو گئے مزید لائن میں لگے ہیں۔ حالات سے سمجھوتہ کریں گے یا 15 دسمبر کا انتظار کیا جائے گا۔ جب پنشن اور بے شمار مراعات کے حقدار ٹھہریں گے۔ غضب خدا کا مراعات بھی کم نہیں، 22 لاکھ ماہانہ پنشن، 3 ہزار یونٹس بجلی مفت، تین ہزار بی ٹی یو (یونٹس) گیس مفت، تا حیات 8 گارڈ، 3 ملازم، ذاتی خانساماں اور مالی، تنخواہ سرکار دے گی۔ گاڑی، پیٹرول مفت، فیصلے کیا دئیے، فیصلہ کے فوری بعد اہلیہ کو فون کر کے پیغام دیا آپ کے لیڈر کے حق میں فیصلہ سنا دیا اب تو خوش ہونا، اس سے قبل والے ساسو ماں کے زیر اثر تھے۔ ججوں کے فیصلے بولا کرتے تھے، ایسا پانسہ پلٹا کہ فیصلہ مختصر طویل ریمارکس لمبی تقریریں، اب وکلاء تحریک کی دھمکیاں، آج ہی سے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان، وکلاء برادری منقسم، کیا جھڑپوں کا خطرہ ہوگا؟ ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ مشرف دور میں تحریک کے پیچھے جو تھے اب نہیں ہیں۔ از خود نوٹسز کے اختیارات ختم، ججز ٹرانسفر کا راستہ کھل گیا۔ انکار کی گنجائش نہیں بصورت دیگر ریٹائرمنٹ، 27 ویں ترمیم پر اعتراض فضول، بدلتے حالات، سسٹم کو مضبوط بنانے کے عزائم اور ماضی کا گند صاف کرنے کیلئے سینوں میں پلنے والی خواہشات ترامیم کا باعث بنتی ہیں۔ جنرل ضیاء دور میں 94 ترامیم جنرل مشرف دور میں 37 ترامیم کی گئیں جنہیں دونوں بڑی پارٹیوں نے 18 ویں ترمیم میں ختم کردیا۔ ’’بڑے خان صاحب‘‘ کا کیا حال ہے۔ ’’مضمحل ہو گئے قوی غالب، اب عناصر میں اعتدال کہاں‘‘ حالات پر گرفت دن بہ دن کمزور پڑتی جا رہی ہے سیاسی طور پر کمزور پڑ گئے تباہی کا مکمل بندوبست، طاقتوروں نے مزید طاقت پکڑ لی، خان کے جانثار اپنے مفادات، ایک ارب فیسوں کی وصولی کیلئے سرگرم لیکن نعروں اور تقریروں تک محدود، اختیار ولی خان نے کہا۔ ’’سر منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں، علاج غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں‘‘ ان کے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ ہر منگل اور جمعرات اپنے محبوب سے ملنے اڈیالہ جیل کا طواف کرتے ہیں لیکن قطار اندر قطار پولیس کو دیکھ کر نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں۔ گرفتاری کا خطرہ ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ واپس جا کر فتنہ الخوارج کی جانب سے دہشتگرد کارروائیوں کے لیے راستے کھولنے سے باز نہیں آتے۔ کوئی سمجھائے آپ کا مسئلہ عشق عمران ہمارا مسئلہ عشق پاکستان۔ وانا کیڈٹ کالج پر خود کش حملہ آور سمیت 5 دہشتگردوں کا حملہ پسپا کردیا گیا۔ دو گیٹ پر مارے گئے۔ تین کو کمرے میں بند کر کے جہنم واصل کیا گیا۔ وطن کے محافظوں نے 627 طلبہ اور دیگر عملہ کو ریسکیو کیا۔ دو سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ وزیر اعلیٰ کرکٹ کھیلتے رہے۔ دو دن بعد اسلام آباد کچہری پر خود کش دھماکہ میں ایک وکیل سمیت 12 افراد شہید 37 زخمی ہوگئے۔ خود کش حملوں کی نئی حکمت عملی، گاڑی میں آنے کی بجائے بائیکیا کی خدمات حاصل کرنے لگے۔ سہولت کار بھی افغان، درزی سمیت چار افراد گرفتار سہولت کار ساجد اللہ عرف شینا بھی یہیں مقیم تھا۔ حیرت ہے دہشتگرد ختم ہوتے ہیں نہ جاسوس دس پندرہ دنوں میں صرف 16 ہزار افغان نکالے گئے۔ طور خم اور چمن سے نکالے جاتے ہیں۔ خفیہ راستوں سے واپس آجاتے ہیں۔ شنید ہے کہ 120 خود کش بمبار پاکستان پہنچ گئے۔ 10 مئی والا حملہ کیا جائے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر حزب المنافقین کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا جائے اس کے بغیر سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔ ادارے مضبوط طاقت دو چند لیکن عوام آپ کے ہوتے ہوئے بھی مہنگائی سے پریشان، غالب نے بہادر شاہ ظفر سے گلہ کیا تھا۔ ’’آپ کا بندہ اور کھائے ادھار‘‘ یہاں 25 کروڑ عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گئے۔ کچھ علاج ان کا بھی۔
آخر میں ایک افسوسناک خبر ’’ایک عالی دماغ تھا نہ رہا‘‘ عربی کی کہاوت ہے موت العالِم موت العالَم یعنی ایک عالم کی موت پوری دنیا کی موت ہے۔ سیاسی حالات پر افسانوی انداز میں تبصرہ کرنے والے میاں نواز شریف کے سپیچ رائٹر سینیٹر عرفان صدیقی قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے موت کا ایک دن مقرر ہے مگر کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور۔