Wed, September 16, 2026

ترلائی کا منظر نامہ

 ترلائی کا منظر نامہ

سو بندے مارے گئے یا پچاس ؟ فقیرے نشئی نے سگریٹ سلگاتے ہوئے پنواڑی سے پوچھا۔ پنواڑی نے لمبا کش کھینچ کر بڑی بے نیازی سے جواب دیا: "لگ جائے گا پتا ہولی ہولی"۔ 
سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں تھی۔ دونوں نے کھنہ پل پر بیٹھ کر سگریٹ کے دھوئیں سے تیز دوڑتی ہوئی گاڑیوں کو دیکھا۔ تیز تیز کش کھینچنے کے باعث دھواں اتنا پیدا ہو رہا تھا کہ دونوں نشئی اس شام آسمان کی سرخی نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ فضا میں کچے گوشت کی بدبو پھیلنے لگی تو فقیرے نشئی کو ابکائی آ گئ۔ پنواڑی نے پل کے نیچے کھڑے ہوئے ریڈھی والے کو بار بی بی کیو انگیٹھی پر بھونتے دیکھا تو ذرا توانا ہو گیا۔ چل فقیرے تجھے آج گوشت کھلاتا ہوں۔ بار بی کیو کوئلوں پر رکھے ہونے کے باوجود کچا تھا۔ کاریگر نے انگیٹھی میں لوہے کی سلاخ گھمائی اور کوئلوں کو ہوا کرنے لگا۔ گوشت سرخ ہو گیا لیکن کافی دیر گزرنے کے بعد بھی کچا رہا۔ پنواڑی نے پل پر سے ہاتھ ہلا کر نیچے کھڑے کاری گر کو آواز دی۔ دو سلاخیں بھجوا دے اوپر بڑی ٹینشن ہے۔ آج بھی دو دو ہزار کی لگی ہے۔ فقیرا امریکہ پر لگا بیٹھا ہے۔ فقیرے نے ملگجی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا زخمی کتنے ہوئے ہیں؟ پنواڑی نشئی نے کھانستے ہوئے کہا " کافی ہو گئے ہوں گے" ساتھ ہی اس نے سگریٹ کا فلٹر نیچے سڑک کی طرف پھینکا، سلگتا ہوا فلٹر ایک بلی کے قریب گرا، بلی اچھل کر سڑک کی طرف مڑی، پلک جھپکنے میں ایک تیز رفتار گاڑی بلی کو کچل گئی۔ فقیرے نے اونچی آواز میں ہررررررر کیا پھر میلی چادر گھما کر اوڑھنے لگا۔ فروری کی غبار آلود شام میں ہلکی ہلکی نمی تھی۔ شام سرمئی ہو رہی تھی اور شور کے باوجود عجیب سی اداسی نے فضا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ دونوں نشئی بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔ قریب کسی عمارت سے اٹھتے دھوئیں میں ذرا تیزی آئی تو بجلی کی تار پر بیٹھے کبوتر الٹی کرنے لگے۔ آسمان فروی کے موسم میں بھی گیلا ہو رہا تھا۔ بادل نہ ہونے کے با وجود نہ جانے سورج کہاں چھپ رہا تھا۔ یکا یک ہلکی ہلکی بوندیں برسنے لگیں۔ فقیرے نے موبائل کے ریڈیو پر گانے سننے شروع کیے۔ کئی طرح کے بین گانے کی دھن میں مکس ہو کر سنائی دینے لگے۔ فقیرے نے ہڑبڑا کر دائیں بائیں دیکھا کچھ نظر نہ آیا۔ اس نے موبائل کا والیم اونچا کیا۔ گانے کے بول صاف سنائی نہ دیے۔ گانے میں بجنے والے انسٹرومنٹس میں کئی افراد کے رونے کی آواز صاف سنائی دی۔ فقیرے نے گھبرا کر ریڈیو بند کر دیا۔ پل کے نیچے ٹرالے، گاڑیاں اور بسیں اسی تیزی سے دوڑ رہی تھیں۔ سڑک لہراتی ہوئی نظر آئی۔ اسے اپنی نظروں پر شک سا ہوا آنکھیں مسل کر اس نے دوسرے نشئی سے پوچھا کتنے بندے مرے ہیں؟ 
پنواڑی نے کان میں تیلی مارتے ہوئے جواب دیا: تین ہزار! فقیرا چونکا تین ہزار مر گئے ؟؟ پنواڑی نے کہا تین ہزار لگانے تھے نا۔ امریکہ کوئی غریب ملک کے کہ اس کے میچ پر دو ہزار لگا دیے۔ ہارے یا جیتے، پیسے تو اس کے حساب سے کم از کم تین ہزار۔۔۔۔
فقیرا کہیں کھویا کھویا بولا: ہاں دو دو ہزار کی لگائی ہے میں نے امریکہ ہارے گا تو۔۔۔۔ وہ کہتے کہتے رک گیا۔۔
وہ عجیب سی حالت میں مخمور تھا۔ اسے آسمان پر اڑنے والی گوشت کی پتنگیں نظر آئیں۔ لال لال گوشت کے ٹکڑوں سے بنی پتنگیں۔ اس نے دوسرے نشئی سے کہا دیکھ یہ تکل گوشت کا ہے! نہیں وہ لٹو، پٹیل، دو اکھل بھی۔ یہ دو اکھل پر کلیجے کی بوٹی لگی ہوئی ہے؟ سارے پرندے پتنگوں سے بھاگ کیوں رہے ہیں؟ صرف چیلیں ان کے تعاقب میں لگے ہیں۔
پنواڑی نے پان کی پیک سڑک پر پھینکی۔ پیک کی چھینٹیں اڑتی ہوئی ہوا میں پھیلتی نظر آئیں۔ ریڈیو پھر بجا۔ فرمائشی گانوں کا پروگرام اسی تسلسل سے چل رہا تھا۔ کسی نے گانے کی فرمائش کی۔ پنواڑی نے نیچے کھڑے بار بار کیو والے کو موٹی سی گالی دی۔ اس کا خیال تھا کہ کوئلے بھیگ جانے کے باعث اپنا کام چھوڑ گئے ہیں۔
بار بی کیو والے نے خجل ہو کر کہا " پنواڑی میاں میں نے چار مرتبہ آگ تیز کی ہے گوشت کچے کا کچا ہی ہے" پنواڑی نے پان کی پیک نیچے پھینکی اور غصے سے بولا " مرغی کا گوشت ہے یا ڈائنا سار کا، اس سے اچھا تھا انسان کا پکا لیتا"۔۔۔
پنواڑی کی آواز فضا کے پروں پر سوار ہو کر سفر کرنے لگی۔ قریب ہی اٹھنے والے دھوئیں سے گوشت پکنے کی بو آنے لگی۔ گاڑیوں کے تیز رفتار ریلوں میں کئی طرح کی آوازیں گم رہی تھیں۔ بار بی کیو والے کی انگیٹھی اندھیری ہو گئی تھی۔ اس کی زندگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب آگ نے اپنا اثر چھوڑ دیا ہو۔ 
ادھر پل پر پنواڑی اور فقیرا گوشت کی پتنگوں اور چیلوں سے نظریں چرا کر ریڈیو پر فرمائشی گانوں کا پروگرام سن رہے تھے لیکن ان کا دل اس میچ میں لگا تھا جس سے دو ہزار روپے آنے کی امید باقی تھی۔ 

ٹیگز: