ایران امریکا جنگ کا عملی طورپر خاتمہ ہوچکا۔جنگوں میں سیز فائر بھی کسی کیس میں ملزم کی ضمانت جیسا ہی ہوتا ہے ۔ ایک بار کسی کیس میں کسی کی ضمانت ہوجائے تو مقدمہ کمزور ہوجاتا ہے اور خاتمے کے راستے پر چل پڑتا ہے اسی طرح اگر ایک بار جنگ میں سیز فائر پربات پہنچ جائے تو جنگ کے خاتمے کا روڈ میپ مل جاتا ہے ۔ سیز فائر کے بعد بھلے جنگ دوبارہ شروع ہوجائے اس کی شدت پہلے حملے جیسی نہیں رہتی ۔ایران امریکا جنگ میں یہ سیز فائر کا اہم ترین اور کٹھن کام پاکستان نے کیا ۔پاکستان کے مفادات اس خطے اور خاص طورپر اپنی ہماسائیگی میں امن سے کتنے جڑے ہیں اس کی کہانی اپنی جگہ لیکن پاکستان نے دنیا کے امن کے لیے جو کام کیا ہے اس کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کا رتبہ ،مقام اور کردار تاریخ کی بلندی پر چلا گیا ہے۔اس کی تکلیف ہندوستان کو ہونا تو طے تھا ہی لیکن ہندوستان سے کہیں زیادہ اسرائیل کو ہورہی ہے ۔
اسرائیل حقیقی ظورپر دھرتی کا ناسور ہے ۔اس جنگ سے اس کے آگے بڑھنے کا راستہ جڑا ہے۔اس کے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ جڑا ہے اور پاکستان اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آگیا تو تکلیف تو طے تھی جو ہورہی ہے اور پاکستان اس کو مزید کو تکلیف دیتا رہے گا۔ اسرائیلی جیلوں کے اندر فلسطینی بچوں ، عورتوں اور جوانوں کے ساتھ جس سلوک کی خبریں سامنے آئی ہیں ا سکے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ نسل ہٹلر جیسے سلوک کی ہی مستحق ہے ۔کمال کی پست نسل کہ بقائے باہمی کی بجائے قبضے کی سوچ پر مسلسل گامزن ۔خیر قصور ہمارا بھی ہے کہ مسلم امت کہنے کو ایک لیکن اسرائیل نے ایسی نقب زنی کی ہے کہ آپس میں جنگ تک کرنے سے گریزاں نہیں ۔
اس جنگ کا اسرائیلی ڈیزائن یہ ہے کہ امریکا ایک بار ایران پر حملہ کرے گاتو جواب میں ایران کے پاس امریکا یا اسرائیل کو نقصان پہنچانے کا بندوبست انتہائی محدود ہوگا تو وہ عرب ممالک پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا ۔عرب ممالک اپنے دفاع کے لیے ایران کو جواب دیں گے اور یوں یہ جنگ ایران اسرائیل ،امریکا کی بجائے ایران عرب جنگ بن جائے گی ۔پھر سعودی عرب پر حملہ ہوگا تو پاکستان اس جنگ میں ایران کے خلاف میدان میں آئے گا جس کے بعد ایران کی تباہی یقینی ہوجائے گی ۔یہ منصوبہ بہت شاندار تھا ۔مسلم دشمنی کی زندہ مثال تھا لیکن پاکستان اس منصوبے کے سامنے دیوار بن گیا۔پاکستان نے اپنا چین اور سکون تیاگ دیا ۔سفارتکاری کے گھوڑے پر سوار۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان غلط فہمیوں کو سلجھانے نکل پڑا اور اللہ کے فضل و کرم سے کامیاب رہا۔ پاکستان نے ایران کو صاف لفظوں میں بتادیا کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ۔ بات ختم ۔سعودی عرب نے بھی کمال تحمل کا مظاہر ہ کیا ،۔ عقل غالب آتی رہی۔ اسرائیل نے یہاں بھی فالس فلیگ آپریشنزکیے۔ سعودی عرب کے اندر حملے کرکے الزام ایران پر لگایا کہ سعودی عرب مشتعل ہوکر ایران کے خلاف جوابی حملے کرے لیکن پاکستان نے معاملات سنبھالے ۔اب خبریں آرہی ہیں کہ کس طرح جنگ کے دوران ایک خلیجی ملک نے باقی ممالک سے رابطے کیے کہ ایران پر جوابی حملے کرکے اس کی کہانی ختم کرتے ہیں لیکن اس ملک کو کہیں سے بھی پذیرائی نہ ملی۔ 80سال کی تاریخ میں پاکستان کا یہ کردار اتنا اہم ہے کہ امت مسلمہ کو تباہی سے بچانے کے لیے عرب و ایران ہمارے ممنون رہیں ۔
اسرائیل انگاروں پر اس لیے بھی لوٹ رہا ہے کہ ایک طرف تو ان کو مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیا اور سونے پہ سہاگہ پاکستان نے امریکا کو جنگ بندی پر بھی قائل کرلیا۔اس دردناک شکست کے بعد اسرائیل پاکستان کے کردار کو متنازع بنانے کے مشن پر نکل پڑ ا۔اس کی آج بھی کوشش ہے کہ پاکستان کو اس امن عمل کے درمیان سے نکال دیا جائے تاکہ یہ امن عمل پٹری سے اترے اور دوبارہ جنگ کا راستہ بن جائے ۔امریکا ایک بار پھر ایران پر بارود پھینکنا شروع کردے ۔عرب ممالک اب کی بار ایران پر حملہ آور ہوجائیں اور ایران کو نقشے سے مٹادیا جائے۔اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان پر فیک نیوز کے حملے ہورہے ہیں ۔
امریکی ادارے سی بی ایس کے ایک مشکوک رپورٹر جس کو پہلے بھی ایسی ہی خبریں دینے پر ایسوسی ایٹڈ پریس جیسی بڑی امریکی نیوز ایجنسی سے نکالا جاچکا ہے ،اس کو استعما ل کیا گیا اور خبر یہ دی گئی کہ ایران کے جنگی جہاز پاکستان کے نور خان ایئر بیس پر پارک کیے گئے ہیں تاکہ امریکی حملوں سے بچ سکیں۔ اس لیے پاکستان ایک ثالث نہیں بلکہ ایران کا ساتھ دے رہا ہے ۔اس خبر کے ذریعے امریکا کو پاکستان سے بد ظن کرنے کی کوشش کی گئی ۔ کہانی اچھی تھی لیکن امریکی جانتے تھے کہ وہ جہاز کب پاکستان آئے اور اس وقت کیوں وہاں موجود ہیں ۔خبر اس لیے بھی پٹ گئی کیونکہ اسی بیس پر ساتھ ہی امریکی طیارے بھی موجود تھے اور دونوں اطراف کا وہاں ہونے کا مقصد ایک ہی تھا ۔اور یہ مقصد ایران کے ساتھ ساتھ امریکا کو بھی معلوم تھا اس لیے یہ اسرائیلی حملہ ناکام کردیا گیا۔اس خبر کو لے کر طے شدہ منصوبے کے تحت امریکی سنیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی حکومت پر چڑھائی کردی کہ دیکھیں پاکستان کس طرح ایران کا ساتھ دے رہا ہے ۔یہ لنڈسے گراہم اسرائیل کے پکے یار ہیں۔ نیتن یاہوسے دودن پہلے ہی ملاقات کرچکے ہیں اور مسلسل پاکستان مخالف زہر اگل رہے ہیں۔ ویسے یہ وہی سینیٹر ہیں جنہیں عمران خان صاحب نے اپنے دور حکومت میں پاکستان بلوا کر اعزازات سے نواز دیا تھا ۔ ویسے یہ پاکستان مخالف بھی ہیں ۔ اسرائیل نوازی بھی کرتے ہیں لیکن آج بھی عمران خان کے دوست ،ہمدرد اور ان کے لیے لابی کرتے ہیں ۔اب پاکستان مخالف اور عمران کے دوست ہونے میں کیا کنکشن ہے مجھے اس کی کوئی زیادہ سمجھ نہیں ہے بہرحال جو تاریخی حقائق تھے وہ میں نے سامنے رکھ دیے ۔
لنڈسے گراہم جیسے کرداروں کو جواب امریکی صدر نے دیا ۔انہوں نے اس خبر کے آنے کے بعد اب تک چار سے پانچ بار سوال کے جواب میں پاکستان پر بطور ثالث اعتماد کا اظہار کرکے اس فیک نیوز کی کمر توڑ دی ۔دوسری طرف ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی برکس اجلاس کے موقع پر پاکستان کی ثالثی پر اعتما دکے موقف کو دہرایا ۔چین سے واپسی پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان ،فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کو ایک بار پھر عظیم اور بہترین قراردیا یہ بھی ایسے عناصر کو جواب تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے لیے جو کیا ہے وہ اس کے معترف ہیں اور شرپسند عناصر کے شر سے کافی دور۔یوں پاکستان کے کردار کو شک سے دکھانے والے عناصر نامراد۔ پاکستان کے لیے جنگ مسئلہ شاید نہیں رہی لیکن یہ ”پنکی“اور اس جیسے کردار مسئلہ ضرور ہیں ۔