کبھی ہمارے معاشرے میں عورت کو صرف گھر کی تربیت گاہ نہیں بلکہ اخلاقی اقدار کی محافظ بھی سمجھا جاتا تھا۔ وہ ماں جو بچوں کو حلال اور حرام کا فرق سکھاتی تھی، وہ بیوی جو شوہر کو غلط راستے سے روکنے کی کوشش کرتی تھی اور وہ بہن جو خاندان کی عزت کو سب سے بڑی دولت سمجھتی تھی۔ ماضی میں اگر کسی گھر کا مرد ناجائز کمائی یا کسی جرم کی طرف مائل ہوتا تو سب سے پہلے عورت ہی اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوتی تھی۔ وہ سمجھاتی، لڑتی، ناراض ہوتی مگر حرام رزق کو قبول نہیں کرتی تھی تاہم آج تصویر بدل چکی ہے۔ جرائم صرف مردوں تک محدود نہیں رہے بلکہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی مختلف نوعیت کے جرائم میں شریک نظر آنے لگی ہے۔ مالی فراڈ، بلیک میلنگ، منشیات کی ترسیل، سوشل میڈیا پر دھوکہ دہی، گھریلو تشدد کے جھوٹے مقدمات، بچوں کے اغوا کے نیٹ ورک، اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں خواتین کا کردار اب خبروں کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے معاشرتی، اخلاقی اور نفسیاتی زوال کی ایک طویل کہانی موجود ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ لالچ نے عورت کے ا±س روایتی کردار کو کمزور کر دیا ہے جو کبھی خاندان کی اصلاح کا ذریعہ ہوتا تھا۔ پہلے عورت اپنے شوہر سے کہتی تھی کہ کم کماو¿ مگر حلال کماو¿۔ آج کئی گھروں میں معیارِ زندگی، مہنگے کپڑے، برانڈڈ اشیا، سوشل میڈیا کی نمائش اور دوسروں سے مقابلے کی خواہش نے حلال و حرام کی لکیر دھندلا دی ہے۔ اب بعض خواتین خود مردوں کو زیادہ پیسہ کمانے کے لیے دباو¿ ڈالتی ہیں، چاہے اس کے لیے راستہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ جب گھر کے اندر دولت کو کردار پر ترجیح ملنے لگے تو پھر جرم صرف گلیوں میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی جنم لیتا ہے۔سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مصنوعی آسائشوں کی نمائش نے ایک خطرناک احساسِ محرومی پیدا کیا ہے۔ ہر شخص فوری کامیابی اور عیش چاہتا ہے۔ صبر، محنت اور تدریجی ترقی اب پرانی باتیں محسوس ہونے لگی ہیں۔ یہی جلد بازی بعض خواتین کو ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جہاں جرم ایک “شارٹ کٹ” کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر "انفلواینسرز" کی شاہانہ زندگی دیکھ کر متوسط طبقے کی خواتین جب اپنی محرومیوں کا موازنہ کرتی ہیں، تو وہ نفسیاتی دباو¿ کا شکار ہو کر مالی جرائم یا دھوکہ دہی کی طرف راغب ہو جاتی ہیں۔
موجودہ دور میں خواتین کی شمولیت سائبر کرائمز میں تیزی سے بڑھی ہے۔ ہنی ٹریپنگ (Honey Trapping) یعنی مردوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دوستی کے جال میں پھنسا کر ان کی نازیبا ویڈیوز بنانا اور پھر انہیں بلیک میل کرنا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن شاپنگ کے نام پر فراڈ، جعلی بینک اکاو¿نٹس کا استعمال اور دوسروں کی شناخت چوری کرنے جیسے معاملات میں خواتین کا ملوث ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب جرم صرف جسمانی قوت کا محتاج نہیں رہا بلکہ تکنیکی مہارت نے اسے گھر بیٹھے ممکن بنا دیا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جرم کے پیچھے صرف لالچ نہیں ہوتی۔ کہیں غربت، کہیں گھریلو تشدد، کہیں محرومی اور کہیں معاشرتی استحصال بھی خواتین کو غلط راستوں کی طرف دھکیلتا ہے۔ پاکستان کے پسماندہ علاقوں اور کچی آبادیوں میں منشیات فروش گینگ اکثر خواتین کو بطور "کوریئر" استعمال کرتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی اہلکار خواتین کی تلاشی لینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح بھیک مانگنے والے گروہ اور بچوں کے اغوا کے نیٹ ورک میں خواتین کو اس لیے شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کر سکیں۔
خواتین میں بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک وجہ نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ بھی ہے۔ جب ایک عورت طویل عرصے تک گھریلو تشدد، ناانصافی اور محرومی کا شکار رہتی ہے، تو اس کے اندر چھپا ہوا غصہ کبھی کبھی شدت پسندی کی صورت میں باہر نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگین جرائم جیسے کہ قتل یا اقدامِ قتل میں بھی خواتین کا نام سامنے آنے لگا ہے۔ خاص طور پر جائیداد کے تنازعات یا شوہر کی دوسری شادی جیسے معاملات میں انتقام کی آگ عورت کو مجرم بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔پاکستان میں خواتین کی جرائم میں شمولیت کی شرح مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جیلوں میں موجود خواتین قیدیوں کی اکثریت کا تعلق نچلے طبقے سے ہوتا ہے اور وہ اکثر غیر تعلیم یافتہ ہوتی ہیں۔ غربت، جہالت، اور کم عمری کی شادی جیسے عوامل خواتین کو جرائم کی طرف دھکیلتا ہے۔ خواتین زیادہ تر گھریلو تشدد، زنا، قذف (جھوٹی تہمت)، اور منشیات کی سمگلنگ جیسے جرائم میں ملوث پائی جاتی ہیں۔ آن لائن ہراسگی اور جرائم میں بھی خواتین متاثرین کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں ملوث بھی دیکھی جاتی ہیں۔ جرائم میں خواتین کی شمولیت کی سب سے بڑی وجہ غربت، تعلیم کی کمی اور سماجی استحصال ہے۔
ہمارے قانونی نظام کی کمزوریاں بھی خواتین کو جرم پر اکساتی ہیں۔ اکثر خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ "عورت کارڈ" استعمال کر کے وہ سزا سے بچ جائیں گی یا انہیں رعایت دی جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خواتین اہلکاروں کی کمی بھی ایک رکاوٹ ہے، جس کا فائدہ مجرم خواتین اٹھاتی ہیں۔ جب تک تفتیش اور سزا کا عمل شفاف اور سخت نہیں ہوگا، جرائم کی روک تھام مشکل ہے۔اگر عورت خود جرم کا حصہ بن جائے تو پورا معاشرہ اخلاقی طور پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ عورت صرف ایک فرد نہیں، نسلوں کی تربیت کا مرکز ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مجرم مرد صرف ایک فرد کو نقصان پہنچاتا ہے لیکن ایک مجرم عورت پوری نسل کو تباہی کے دہانے پر لے جا سکتی ہے۔معاشرے کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ خواتین کو صرف معاشی خودمختاری نہیں بلکہ اخلاقی شعور بھی دینا ہوگا۔ گھروں میں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف دولت کا نام نہیں بلکہ عزت، دیانت اور سکون بھی کامیابی ہیں۔ ہمیں دوبارہ ایسے معاشرے کی طرف لوٹنا ہوگا جہاں عورت دولت کی نہیں، کردار کی محافظ سمجھی جائے کیونکہ جب عورت حرام کو برا کہنا چھوڑ دیتی ہے تو جرم صرف ایک عمل نہیں رہتا، وہ پھر معاشرتی مزاج بننا شروع ہو جاتا ہے۔خواتین میں جرائم کی شرح کو کم کرنے کے لیے ریاست اور معاشرہ دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ معاشرہ تب ہی ترقی کرتا ہے جب اس کی بنیادیں اخلاقیات پر استوار ہوں۔ خواتین کا مجرم بننا محض ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی زخم ہے جس کا علاج صرف سخت قوانین سے نہیں بلکہ کردار سازی، معاشی انصاف اور حلال و حرام کی تمیز پیدا کرنے سے ممکن ہے۔ اگر آج ہم نے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو نہ روکا، تو کل ہماری اقدار کی عمارت مکمل طور پر منہدم ہو جائے گی۔