پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب
جو کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب
یہ ماضی کا ایک مشہور فلمی گانے کے بول ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی قوم نے اس شعر کے دوسرے مصرعے کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے کیونکہ ہم کھیلوں کو ابھی تک کھیل کود سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ورنہ حال ہی میں کراچی میں ہونے والی نیشنل گیمز کے نتائج مختلف ہوتے۔
نیشنل گیمز میں ہماری مسلح افواج نے تو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاک فوج نے سب سے زیادہ 196 گولڈ میڈل جیتے ہیں جبکہ سلور اور برونز میڈل ملا کر اس کے تمغوں کی مجموعی تعداد 348 ہے۔ یہ ایک ادارے کی انفرادی کارکردگی ہے جس کی مجموعی نفری ساڑھے چھ لاکھ کے قریب ہے جس میں کمیشنڈ اور نان کمیشنڈ افسران اور جوان سب شامل ہیں۔ یقینی طور پر کھیلوں میں حصہ تو ادارے میں نئے شامل ہونے والے نوجوان ہی لیتے ہیں۔ یعنی یوں کہہ لیجیے کہ فوج کی نصف سے بھی کم نفری نے اتنے شاندار نتائج دیئے ہیں۔ یہ تو فوج کے صرف ایک شعبے کے نتائج ہیں۔ اگر مسلح افواج کے دیگر دو شعبوں کو دیکھیں تو ان کے نتائج بھی اپنے حجم کے اعتبار سے شاندار ہیں۔ پاک بحریہ نیشنل گیمز میں تیسرے نمبر پر رہی۔ اس نے 36طلائی اور 108مجموعی تمغے جیتے جبکہ پاک فضائیہ نے 9طلائی اور 51مجموعی تمغے اپنے نام کیے۔ اس طرح تینوں افواج نے مجموعی طور پر 241گولڈ میڈل اور مجموعی طور پر507تمغے اپنے سینے پر سجائے ہیں۔ مسلح افواج کا اتنے تمغے جیتنا ضروری بھی تھا کہ ان کا پیشہ ہی سپاہ گری ہے اور ان سے جسمانی طور پر اسی طرح چاق چوبند ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ مسلح افواج کے تینوں شعبے اس شاندار کارکردگی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
افواج کے علاوہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اداروں میں واپڈا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن قابل ذکر ہیں۔ واپڈا نے نیشنل گیمز میں 84گولڈ اور 229مجموعی تمغے جیت کر میڈل ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ بظاہر تو یہ کارکردگی بہت عمدہ ہے اور واپڈا اس پر مبارکباد کا مستحق ہے لیکن اگر اس کے حجم کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہ کارکردگی کچھ زیادہ متاثر کن دکھائی نہیں دیتی کہ یہ ملک بھر میں بجلی کے انتظام و انصرام کا ذمہ دار ادارہ ہے اور اسی لحاظ سے اس کی افرادی قوت بھی یقینا تینوں مسلح افواج کی مجموعی افرادی قوت سے زیادہ ہوگی۔۔ اس اعتبار
سے اسے اگر ان افواج سے زیادہ نہیں تو ان کے کہیں آس پاس تعداد میں تو تمغے جیتنا چاہئیں تھے لیکن اس کے 84 گولڈ میڈل آرمی کے 196 گولڈ میڈلز کے نصف سے بھی کم ہیں۔ جہاں تک ہائر ایجوکیش کمیشن کا تعلق ہے تو وہ 14گولڈ اور 117مجموعی تمغوں کے ساتھ ٹیبل میں پانچویں نمبر پر رہا۔ یوں تو ایچ ای سی کی یہ کارکردگی بھی بظاہر ٹھیک دکھائی دیتی ہے لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بھی کچھ زیادہ متاثر کن نہیں کہ یہ ادارہ ملک بھر کی جامعات کی نمائندگی کرتا ہے جن میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان زیر تعلیم ہے۔ یوں اس ادارے کا حجم بھی بہت زیادہ بنتا ہے اور اس کی افرادی قوت کا بڑا حصہ جواں خون پر مشتمل ہے۔ اس تناسب سے اس کے تمغوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ایچ ای سی کی اس کارکردگی سے جامعات میں کھیلوں کی حالت زار کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
ایک اور بڑا ادارہ ریلوے کا ہے جو 3طلائی اور29مجموعی تمغوں کے ساتھ ٹیبل پر دسویں پوزیشن پر ہے۔ ادارے کے حجم کے اعتبار سے یہ کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ مایوس کن کارکردگی ایک ایسے ادارے کی ہے جس سے افواج جیسی جسمانی چستی کی توقع کی جاتی ہے اور وہ محکمہ ہے پولیس۔ واضح رہے کہ پولیس نے نیشنل گیمز میں پاکستان پولیس کے نام سے شرکت کی حالانکہ پاکستان میں پولیس کا ادارہ صوبوں کے زیر انتظام ہے۔ پاکستان پولیس سے مراد یہ ہے کہ ملک کے تمام صوبوں کی پولیس نے مل کر ایونٹ میں شرکت کی۔ اس طرح وہ بھی حجم کے اعتبار سے مسلح افواج سے بڑا ادارہ بن گئی لیکن اس کے باوجود وہ صرف ایک طلائی تمغہ اور28 تمغے جیت سکی۔ پولیس جیسے ادارے کا اتنے کم تمغے جیتنا تو مایوس کن ہی نہیں تشویش ناک بھی ہے۔
یہ تو تھا اداروں کی کارکردگی کا جائزہ، اب ذرا نظر ڈالتے ہیں صوبوں کی کارکردگی پر تو وہ اداروں سے بھی زیادہ مایوس کن ہے۔ پنجاب کی بات کریں تو وہ 13کروڑ سے زائد آبادی کا صوبہ ہے۔ اتنی بڑی آبادی کا یہ صوبہ اس بات پر خوش ہے کہ اس نے16 طلائی اور 126مجموعی تمغے جیت کر نیشنل گیمز میں تمام صوبوں پر برتری حاصل کی ہے۔ اس حد تک تو بات درست ہے لیکن اس کی آبادی کے تناسب سے میڈلز ٹیبل پر اس کی پوزیشن دیکھی جائے تو کہانی مختلف نظر آتی ہے۔ پنجاب کی میڈل ٹیبلز پر چوتھی پوزیشن ہے۔ یعنی اس سے کی مجموعی آبادی سے کہیں کم افرادی قوت والے تین اداے آرمی، واپڈا اور نیوی میڈل جیتنے کی دوڑ میں اس سے کہیں آ گے ہیں۔ پنجاب کے مجموعی میڈلز کی تعداد بھی اتنی نہیں جتنی آرمی کے صرف گولڈ میڈلز کی تعداد ہے۔
ملک کا دوسرا بڑا صوبہ سندھ جس نے نیشنل گیمز کی میزبانی بھی کی ہے، 11گولڈ اور93 مجموعی میڈلز کے ساتھ میڈل ٹیبل میں پانچویں نمبر پر ہے۔ خیبر پختونخوا نے5گولڈ اور 68مجموعی تمغے جیتے ہیں۔ بلوچستان نے4گولڈ اور 48 مجموعی تمغے حاصل کیے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد صرف ایک گولڈ اور 15مجموعی تمغے جیت سکا۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حصے میں کوئی سونے کا تمغہ نہیں آیا جبکہ دونوں نے مجموعی طور پر سات سات تمغے جیتے ہیں۔
یہ جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم ابھی تک کھیلوں کے دور رس اور دیرپا اثرات سے واقف نہیں ہوئے اور ہمارے کارپردازان کھیل کو شاید ابھی تک کھیل کود سے زیادہ اہمیت دینے پر آمادہ نہیں حالانکہ آج کی دنیا کھیل صرف ایک تفریحی سرگرمی نہیں بلکہ کسی قومی کی ذہنی، جسمانی اور معاشی صحت کو جانچنے کا پیمانہ بھی ہیں۔ دنیا کی طاقتور اقوام اپنی علمی، عسکری اور معاشی برتری کے علاوہ کھیلوں کے میدان میں بھی سب سے آگے ہیں۔ اس بات کو جانچنے کا سب سے بڑا پیمانہ اولمپکس ہیں جہاں طاقتور ملکوں کے درمیان ہمیشہ ایک مسابقت کی فضا نظر آتی ہے۔ امریکہ ہر بار سب سے زیادہ میڈل جیتتا ہے جبکہ چین میڈلز ٹیبل پر ہمیشہ دوسرے نمبر پر رہتا ہے۔ ان کے بعد برطانیہ، فرانس، جاپان، جرمنی، آسٹریلیا اور روس جیسے ممالک نظر آتے ہیں۔ اس طرح یہ ممالک تمام اہم شعبوں کی طرح کھیلوں میں بھی ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔
دوسری طرف ہم ہیں کہ جن کی مسلح افواج کے سوا کوئی بھی کھیلوں کی اہمیت کو نہیں سمجھتا اور ہمارے کھلاڑیوں کا بھی یہ عالم ہے کہ نیشنل گیمز میں اتنے تمغے جیتنے کے باوجود ہمارے بیشتر کھلاڑی عالمی سطح کے کھلاڑیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ کسی عالمی ایونٹ میں چلے جائیں تو ارشد ندیم جیسا کوئی ایک آدھ سپوت ہی کارکردگی دکھا پاتا ہے ورنہ بیشتر کھلاڑی کسی گنتی شمار میں بھی نہیں ہوتے۔
اس صورت حال میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ملک میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو نہ صرف زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے بلکہ کھلاڑیوں کو عالمی سطح کی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ملک میں بھی ایک صحت مند معاشرہ فروغ پائے اور عالمی سطح پر بھی پاکستان کھیلوں کے شعبے میں اپنا آپ منوا سکے۔