سری نگر: پہلگام حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی فضا ایک بار پھر خوف، غم اور بے بسی سے بھر گئی۔ بھارتی فورسز کے سرچ آپریشنز کے دوران درجنوں گھروں پر چھاپے، نوجوانوں کی گرفتاری اور موبائل سروس کی بندش نے کشمیری عوام کو کرب کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
گزشتہ 48 گھنٹوں میں 40 سے زائد گھروں میں دراندازی کی گئی، اور 25 نوجوانوں کو ان کے خاندانوں کے سامنے زبردستی لے جایا گیا۔ مقامی باشندوں کے مطابق ان نوجوانوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ خواتین اور بزرگوں کو بدسلوکی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صرف دو ماہ میں 2000 سے زائد کشمیری گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ موبائل سروسز کی بندش نے مقبوضہ وادی کو دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ کشمیری عوام عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس بے رحمانہ کریک ڈاؤن کا نوٹس لے۔