فتح و شکست قوموں کی حیات میں زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ بہادر قومیں جہاں اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں وہیں کوئی بھی قوم اپنے غداروں اور وطن فروشوں کو بھولتی بھی نہیں۔ دنیا میں شاید ایسی کوئی قوم ہو جس نے بیک وقت ہیروز اور ولن پیدا نہ کیے ہوں لیکن سب نے تاریخ سے اپنا اپنا حصہ لینا ہوتا ہے۔ کیا مسلمان اس خطے کے میر جعفراور میر صادق کو کبھی بھول پائے ہیں؟ عام آدمی کی تو بات ہی چھوڑیں شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے بھی نہیںننگ ملت، ننگ دین، ننگ وطن ہی لکھا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ جب کوئی قوم حالتِ جنگ میں دشمن سے برسرِ پیکار ہو اور وطن کے اندر موجود کوئی وطن دشمن اپنی قوم کے مخالف قاتلوں کے بیانیے کے علم اٹھا کر دندناتا پھرے؟ ایسے بے شرم اور بے غیرت کم از کم میں نے تو دیکھے ہیں اور اِن کی ایک فہرست یقینا پاکستان کے رکھوالوں کے پاس بھی محفوظ ہو گی۔ ہم نے بیرونی دشمن کے ایسے دانت کھٹے کیے ہیں کہ وہ اب تک بیٹھا اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور اقوام ِ عالم میں اُس کی جگ ہنسائی الگ سے ہوئی ہے۔ جو کل تک خود کو پاکستان سے چھ گنا بڑا ملک قرار دیتے تھے۔ اپنی ’’طاقتور فوج‘‘ کا جعلی دبدبہ دنیا پر بٹھانا چاہتے تھے جو اپنی بڑی معیشت لے کر محمدؐ کے اُن شیروں پر چڑھ دوڑے تھے جنہوں نے مائوں کے دودھ کے ساتھ غیرت ایمانی بھی اپنی رگوں میں انڈیل رکھی ہے۔ آج جہاں بھارت بے بسی کی تصویر بنا اپنی ہندو ریاست کے خواب کو چکنا چور ہوتے دیکھ رہا ہے وہیں پاکستان کے جغرافیے میں بسنے والے اور دیارِ غیر میں بیٹھے یہودی اور بھارتی ایجنٹوں کے گھروں میں بھی صفِ ماتم بچھی ہے۔ پاکستان مستقبل کی اڑان لے چکا اور وہ جو اسے سری لنکا بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں کہیں گم ہو گئے کہ پاکستان کے دشمنوں کا آخری مقدر ایک رسوا کن موت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ جس نے پاکستان کا بُرا سوچا پھر تاریخ نے اُس کے ساتھ کبھی اچھا ہوتے نہیں دیکھا۔
کون جانتا تھا کہ 1968ء میں سید سرور منیر، ایف جی ٹیکنیکل ہائی سکول، لالکورتی، راولپنڈی کے پرنسپل اور ڈھیری حسن آباد کے علاقے میں واقع مسجد القریش کے امام کے گھر بیٹا نہیں پاکستان کی عسکری تاریخ نے جنم لیا ہے۔ ہمت، محنت، جرأت، شجاعت اور عسکری تربیت کے کمال ِ عروج کو یکجا کیا جائے تو ہمارے سامنے پاکستان کے بہادر بیٹے سید عاصم منیر احمد شاہ 1968ء کا نام ابھرتے ہوئے سورج کی طرح پاکستانی کی عسکری تاریخ کے اُفق پر نمودار ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے آرمی چیفس کے بارے میں زیادہ لوگ بہت زیادہ معلومات نہیں رکھتے کیونکہ یہ بہادر بیٹے زیادہ وقت دفاع ِوطن کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں لیکن چونکہ میرا عمران نیازی سے گہرا تعلق ہوا کرتا تھا سو جب ایک جنرل عاصم منیر کو عمران خان کے دور حکومت میں 25 اکتوبر 2018 کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا اور انہوں نے ہندوستان کے ساتھ 2019 کی جھڑپ کی نگرانی کی تو یہ نام زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آ گیا۔ بھارت کے خلاف پاکستان کی جوابی کارروائی جنرل عاصم منیر کی قیادت میں کام کرنے والی کمیٹی نے شروع کی جس نے پاکستان کی سول ملٹری قیادت کو سختی سے مشورہ دیا کہ وہ بھارتی دھمکی کا جواب دیں۔ جنرل عاصم منیر کا دور بطور ڈی جی آئی ایس آئی ملکی تاریخ کا مختصر ترین دور ہے۔ یہ الزام ہے کہ جنرل عاصم منیر کو اُس وقت کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے عمران خان کے دباؤ پر ہٹایا جب ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر نے عمران نیازی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی کرپشن کو بے نقاب کر کے اُس وقت کے وزیر اعظم عمران نیازی کے سامنے رکھ دیا چونکہ میں اُس وقت تحریک انصاف کے بہت سے اندرونی معاملات سے واقف تھا سو بشریٰ بی بی، بزدار اور پنکی کی کرپشن کی کہانیاں تب تک زبا ن ِ زد عام پر آ چکی تھیں لیکن عمران نیازی اپنے گھر کی تلاشی لینے سے انکاری تھا۔ سو جنرل عاصم منیر نے 16 جون 2019ء کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ لیے جانے تک آئی ایس آئی کے 28ویں ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ 2022ء میں جنرل عاصم مینر کی پاکستان آرمی کے 11ویں چیف آف دی آرمی سٹاف کے طور پر تعیناتی نے حاسد عمران نیازی کو ایک بار پھر حسد کی آگ میں جھونک دیا اور وہ اپنے مختصر سے لاؤ لشکر کے ساتھ، سوشل میڈیا کا ہتھیار لے کر جنرل عاصم منیر اور دوسرے جرنیلوںکی کردار کشی کیلئے میدان میں اتر آیا۔ اس طوفان بدتمیزی کو پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان پر بھارت کے بزدلانہ حملوں کے نتیجہ میں 10 مئی 2025ء کوافواج ِ پاکستان کے بھر پور جواب کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت میں تو صفِ ماتم بچھ ہی گئی افواج ِ پاکستان نے دنیا کو بھی ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا کہ ایسا ہوا کیسے؟ عالمی میڈیا جہاں افواج پاکستان کی فضائیہ کی تعریفیں کرتا نہیں تھک رہا تھا وہاں ایٹمی پاکستان کے آرمی چیف کی جوانمردی اور جرأت پر حیران تھا کہ پاکستان نے ایٹمی جنگ کا خطرہ کیسے مول لے لیا لیکن پاکستان کے بہادر بیٹوں نے ثابت کر دیا
کہ ایٹم بم بنانا اور چلانا دو الگ الگ صلاحیتیں ہیں۔ جنرل عاصم منیر کی اعلیٰ ترین کارکردگی نے دنیا بھر کے میڈیا کو اُن کی بہترین حکمت عملی پر خراج ِ تحسین پیش کرنے پر مجبور کر دیا تو پاکستانی قوم نے اپنے اس بہادر بیٹے کو 20 مئی 2025ء کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے کر سرخرو کر دیا۔ گو کہ وہ ایوب خان کے بعد پاکستان کی تاریخ میں اس عہدے تک پہنچنے والے دوسرے اور فیلڈ مارشل کے عہدے کے ساتھ چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر کام کرنے والے پہلے شخص بن گئے لیکن یہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ ایوب خان کا سیاسی کردار کبھی قوم نے ستائشی نظروں سے نہیں دیکھا اور بالخصوص محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور گوہر ایوب کے کردار نے ایوب خان کے رہے سہے کردار کو بھی وہ عزت نہیں ملنے دی جو آج ایک منتخب اسمبلی نے عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدہ پر ترقی دے کر دی ہے جو یقینا ایک باوقار فائیو سٹار ٹائٹل ہے جو یقینا جنرل سے کہیں اوپر ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر آج قوم کا ہیرو ہے اور اُسے بدنام کرنے کی سازشیں کرنے والے جیلوں میں اپنے انجام سے دو چار ہیں۔ راولپنڈی کا ایک مقامی کرکٹر بہادری کی منازل طے کرتا ہوا اگر فیلڈ مارشل بن جائے تو یہ ساری قوم کیلئے فخر کی بات ہوتی ہے چہ جائیکہ ایک کرکٹر وزیر اعظم بننے کے بعد چوری کے مقدمات بھگتتا پھرے۔ ویل ڈن عاصم منیر۔۔۔ ویل ڈن پاک آرمی۔