Wed, September 16, 2026

سیاسی مفاد کے لیے شہداکی اہمیت کم کرنا

سیاسی مفاد کے لیے شہداکی اہمیت کم کرنا


لازمی نہیں کی اچھے والدین کی اولاد بھی اچھی ہو جلیل القدرنبی حضرت نوح علیہ اسلام کی اہلیہ اوربیٹا ایمان نہ لائے اور اِس حالت میں انجام کو پہنچے کہ دوزخ کے حقدارٹھہرے حضرت لوط علیہ اسلام کی بیوی بھی نبوت کی پاکیزگی سے دوررہی اور اللہ کے مغضوب بندوں میں شمارہوئی نیکی اور ہدایت کی توفیق اللہ کی طرف سے ہے جو ہدایت پاگیا وہ فلاح و کامیابی پا گیا ۔
مولانا فضل الرحمن کے والدمفتی محمودکا ایک مخصوص مکتبہ فکر تھاجس سے بڑی تعداد اختلاف رکھتی ہے اور یہ سچ ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے خلاف تھے مگر جب قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست بن گئی تو مفتی محمود نے اپنے موقف میں تبدیلی کرلی اور دینی وسیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے مولانا فضل الرحمٰن بھی انھی کے فلسفے کی ترویج وفروغ کے داعی ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ دینی سرگرمیوں کی آڑمیں اُن کی نظر سیاسی مفاد پرہوتی ہے وہ اِداروں کا اعتماد حاصل کرنے کی تگ ودو کرتے اور عوضانے میں حکومتی منصب چاہتے ہیں مگر اپوزیشن میں ہوں تو دینی رہنما بن جاتے ہیں اور حکومت میں ہوں تو صرف دنیا کے رہ جاتے ہیں اُن کے اِس کردار پر اکثر لوگ کہتے ہیں کہ مفتی محمود تو اچھے تھے لیکن اُن کا بیٹا عجب روش پر گامزن ہے یہی تضاد اُن کی اہمیت و احترام کم کرتا ہے مگر ذہن میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ انتہائی مقدس ہستیوں کے گھروں میں بھی نافرمانی ہوتی رہی لہذا مولانا فضل الرحمٰن جیسے دنیا دار کے کردار کا تضاد اچھنبے کی بات نہیں ۔
سیاسی مفاد کے لیے شہداکی اہمیت کم کرنے کا بیان مولاناکی فکری ناپختگی کی طرف اِشارہ کرتا ہے اِس سے اُن کے دینی مرتبے میں بھی کمی آئی ہے سیاسی حلقوں میں بھی شدید اشتعال ہے اور شہداءبارے بیان سے اُنھیں ہدفِ تنقید بنایا جارہا ہے اسلامی مملکت میں دینی شخصیت کاگلہ پھاڑ کر کہہ دینا کہ شہدا تنخواہ کے بدلے جان دیتے ہیں دراصل شہداءاور اُن کے اہلِ خانہ کی توہین ہے۔
مولانا کے اِس بیان سے اُن کے دینی وسیاسی قد میں نمایاں کمی ہوئی ہے کیونکہ نہ صرف دینی حلقے بدظن ہوئے بلکہ سیاسی حلقوں میں اُن کا احترام ماضی کی داستان بن رہاہے حقیقت تویہ ہے کہ شہداءکی قربانیوں سے آج پوری قوم امن و سکون کی زندگی گزاررہی ہے علاوہ ازیں ایسے حالات میں جب دفاعی اِداروں کے سپوت بیک وقت بیرونی اور اندرونی دشمنوں سے برسیرِ پیکارہیں اور پوری قوم اپنی سپاہ کی قربانیوں کی معترف ہے مولانا کا بیان قومی اتحادکو پارہ پارہ کر سکتا ہے ضرورت اِس امر کی ہے کہ گمراہ کُن بیان پر معافی مانگی جائے معافی مانگنے یا جھکنے سے احترام میں اضافہ ہوتا ہے تکبر اور غرورتو شیطان کا وصف ہے جواپنے غلط موقف پر اڑکر قیامت تک رائندہ درگاہ ہو گیالہذا کسی دینی شخصیت کورعونت وتکبر زیب نہیں دیتا ۔
شہادت تنخواہ سے نہیں حب الوطنی اور ایمان کی حرارت سے ملتی ہے مگر صدافسوس کہ علمائے دین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق شہادت ایک ایسا عظیم رُتبہ ہے جواللہ کی راہ میں جان دینے والوں کو ملتا ہے شہید کی موت درحقیقت ایک دائمی حیات اور کامیابی ہے قرآن پاک میں واضح ارشادہے کہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کومُردہ مت کہو،بلکہ وہ تو زندہ ہیںاور اپنے رب کے ہاں سے رزق پاتے ہیں کیا ِاِس حد تک واضح احکامات بارے میں مولاناکو کچھ علم نہیں ؟اگر ایسا ہی ہے تو بلاشبہ وہ ایک اچھے باپ کے بیٹے ضرور ہوں گے لیکن اُنھیں اچھا کہنے میں مجھے ہچکچاہٹ ہے۔
وطن ِ عزیز کے کئی شعبے زوال کا شکار ہیں مگر علمائے دین بھی سیاسی مقام و مرتبے کے لیے اِس حدتک جا سکتے ہیں اِس بارے ہمارے ناقص علم میں اضافہ مولاناکے بیان سے ہواہے بلاشبہ اِس وقت مولانا فضل الرحمٰن سیاسی طورپر غیر اہم اورعضومعطل ہیں۔ انھوں نے عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخواہ میںحکومت بنانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے وہ اپنی موجودہ حیثیت کو اپنے مرتبے سے کمتر سمجھتے ہیں وہ اپنی ذات کے سوا کچھ دیکھنے سے قاصر ہیں بصیرت وبصارت کاتقاضاتو یہ ہے کہ حقائق کا ادراک کیاجائے لیکن سیاسی عہدوں کے حصول کے لیے بلیک میلنگ پر آگئے ہیں انھوں نے ماضی میں جوڑ توڑ سے ضرور اہم مناصب حاصل کیے اور خاندان کے افراد کو بھی اعلیٰ عہدے دلائے لیکن فی الوقت باوجود کوشش ایسا کچھ حاصل نہیں کرپارہے شاید اسی لیے اُکتائے لگتے ہیں کیونکہ شاہانہ جاہ و جلال اور پروٹوکول حاصل نہیں تو دینی اورفکری مغالطے میں شہداءکی قربانیوں کوکم کرنے جیسی غلطی کربیٹھے ہیں ۔
کچھ حلقوں کاکہناہے کہ شہداءبارے غلط بیانی سے دراصل مولانا نے صدائے احتجاج بلندکی ہے کہ اُنھیں اچھااور اہم عہدہ دیا جائے وگرنہ اچھے سے بُرے بننا اُن کے لیے کوئی مشکل نہیں اور وہ نظام کی بساط بھی لپیٹ سکتے ہیں مگر مجھے نہیں لگتا کہ کوئی صدائے احتجاج کو اہمیت دے اِدارے تو سیاست سے کنارہ کش ہوچکے لہٰذا مولانا کی خواہش کا پوراہونامشکل ہے اِس لیے بہتر ہے کہ علمائے دین اپنے مقام و مرتبے کے منافی بیانات دینے کی بجائے حق کی ترویج کریں جب ایک عالمِ دین عہدے مانگتے ہوئے دین کے منافی بات کرتا ہے توایک جاہل سے زیادہ دنیا و آخرت کی رسوائی کاحقداربن جاتا ہے وجہ علم کے باوجودباعمل نہ ہوناہے فضل الرحمن ایک اچھے باپ کا بیٹا ضرورہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ شہداءکے متعلق غلط بیان دیکراہلِ اسلام کی نفرت مول لی ہے اِس سے علمائے دین کا فکری تضاد آشکار ہوا ہے اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جن لوگوں کا اپنا دینی علم محدودہے وہ دینی طلبا کے علم اور کردارسازی کافریضہ احسن طریقے سے سرانجام نہیں دے سکتے مولانا طاہر اشرفی کہتے ہیں کہ وہ ہروقت شہادت کی دعاکرتے ہیں مگر اسلامی ریاست کے محافظوں کے ساتھ سرحدوں پر جانے کو تیارنہیں حلوہ کھانے سے تو شہادت نہیں مل سکتی مولانا بھی اگر اپناکردار و عمل درست کریں تو احترام ،مقبولیت اوراہمیت حاصل کر سکتے ہیں لیکن شہداءکے متعلق غلط بیان بازی سے جو قوم کو اشتعال دلایاہے اِس کے بعد اُن سے اچھے فعل کی توقع نہیں رکھی جا سکتی ایسے بیانات سے فائدے کی بجائے حاصل مقام و مرتبے سے بھی محروم ہو سکتے ہیں اچھے باپ کے بیٹے کے ایسے انجام پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے فخرنہیں۔

ٹیگز: