موجودہ اور سابقہ عدلیہ پر بات کرنے سے پہلے چند گذارشات کہ کچھ دوستوں نے گلہ کیا کہ ہم مولانا فضل الرحمن کے بیان پر کچھ لکھیں ۔ بات یہ ہے کہ مولانا نے جو کچھ کہا ہے یہ کون سا پاکستان میں کسی نے پہلی بار کہا ہے ۔ کیا کسی کو یاد نہیں ہے کہ ایک بڑی مذہبی جماعت کے ایک سابق مرحوم امیرنے نام لے کر طالبان کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا تھا اور جب اینکر نے زیادہ زور ڈالا تو موصوف مائیک اتار کر پروگرام چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ اسی مذہبی جماعت کے ایک اور سابق مرحوم امیر نے تو مولانا سے بھی زیادہ گری ہوئی بات کہہ دی تھی اور ہم نے ان کے خلاف مذمتی تحریریں لکھ لکھ کر صفحے کالے کر ڈالے لیکن نتیجہ کیا نکلا کہ ہم اپنے محب وطن ضمیر بھائی کو راضی کرتے رہے اور یہ بھی نہ سوچا کہ بندہ خدا اگر ریاست کو ان سے کوئی مسئلہ ہوتا تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انھیں گرفتار کرتی اور ان پر کیس چلاتی لیکن اتنی سمجھ کہاں تھی بس جذباتی کھلاڑی تھے کہ جہاں پر اسلام یا ملک و قوم کے خلاف کسی نے ہرزہ سرائی کی وہیں ہم کود پڑے ۔ یہ تو خدائے بزرگ و برتر کا شکر ہے کہ موجودہ رجیم جس میں خاص طور پر فیلڈ مارشل صاحب کی قیادت میں ریاست نے حب الوطنی کے معیارات پر درست سمت میں نظر ثانی کی ہے ورنہ تو ایک عرصہ تک کانگریسی ملاﺅں کی نظریاتی اولادوں کو ہی حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ ملا ہوا تھا اور اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ تھی کہ قیام پاکستان کی مخالف انہی قوتوں کی حب الوطنی پر مکمل اجارہ داری تھی اور ان کی مرضی تھی کہ وہ جس کو چاہیں حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ دے دیں اور جس کو چاہیں اسے غدار بنا دیں ۔ اب کچھ عرصہ سے شکر ہے کہ معاملات بہتر ہوئے ہیں اور اب دہشت گردوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کہنے پرغداری کے فتوے نہیں لگتے اور نہ ہی دھمکیاںملتی ہیں ۔ ہمیں کہنے دیں کہ اس میں موجودہ رجیم کا مثبت کردار ہے اور فیلڈ مارشل صاحب خاص طور پر تحسین کے مستحق ہیں کہ ان کے بغیر یہ بات شاید ممکن نہ ہوتی ۔ تمہید کچھ لمبی ہو گئی لیکن کیا کریںکہ دل جلتا ہے تو پھر جذبات بھی الفاظ کا روپ دھار کر سامنے آتے چلے جاتے ہیں ۔
کچھ لوگوں کو موجودہ عدلیہ سے بڑی شکایت ہے لیکن اس شکایت میں دور دور تک نیک نیتی کا عمل دخل نہیں ہے بلکہ خواہش صرف اتنی ہے کہ ایمپائر کی انگلی اور عدلیہ کی آشیر باد صرف ان کے حق میں ہو اور پھر وہی عدلیہ آئے کہ جو کسی ایک فریق کو ”سسلین مافیا “ اور دوسرے کو ” گڈ ٹو سی یو “ کہے ۔ ہمارا آج کا کالم آئینی عدالت کے اس فیصلے پر ہے کہ جس 2018اور 2019میں نسلہ ٹاور کراچی کی مسماری کے احکامات کو واپس لیا گیا ہے ۔اس فیصلے کے بعد قوی امید ہے کہ ان بیچاروں کو کہ جن کی زندگی بھر کی جمع پونجی سابقہ عدلیہ کے ایک فیصلے کی نظر ہو گئی تھی اب ان کی بھی داد رسی ہو پائے گی ۔ پرانی عدلیہ نے صرف نسلہ ٹاور ہی گرانے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ اور بھی بہت کچھ گرانے کا حکم دے کر ہزاروں لوگوں کے روز گار کو ختم کر دیا تھا اور ان احکام سے ہماری بچپن کی کچھ یادیں بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئیں ۔ ہمارے گھر سے سب سے نزدیک جوبلی مارکیٹ تھی کہ بچپن انہی گلیوں میں گذرا تھا اور یہ شاید1964میں تعمیر ہوئی تھی ۔ اس میں جن دکانوں کو مسمار کیا گیا ان میں زیادہ تر کپڑے کی دکانیں تھیں اور بہترین کوالٹی کا کپڑا اور پورے کراچی سے سستا ۔ ہمارے رشتے دار عزیز و اقارب اکثر اس مارکیٹ سے کپڑے خریدنے کے لئے آتے لیکن اسے بھی گرانے کا حکم صادر کر دیا گیا ۔ دوسری جگہ کہ جہاں پر جوبلی مارکیٹ جیسی ہی یادیں وابستہ ہیں وہ ایمپریس مارکیٹ ہے کہ جب بھی زیادہ راشن لانا ہوتا تو وہیں سے لیتے ۔ گھر سے پیدل کا کوئی دس منٹ کا راستہ ہو گا اور اسی ایمپریس مارکیٹ کے پیچھے ایشیاءکی سب سے بڑی وڈیو کیسٹس کی مارکیٹ ریمبو سینٹر تھا ۔ ایمپریس مارکیٹ کے ساتھ ہی بہت سی دکانیں تھیں انھیں بھی شہر کی خوبصورتی اور ایمپریس مارکیٹ کو اصل حالت میں بحال کرنے کے نام پر مسمار کرنے کا حکم دے دیا گیا اور یہ سب دکانیں بھی کئی دہائیاں پرانی تھی ہمیں مکمل تو نہیں معلوم لیکن ہم نے جب ستر کی دہائی کے آخر میں ہوش سنبھالا تو اس وقت بھی یہ دکانیں موجود تھیں ۔ تیسرا کراچی کا لنڈا بازار جو لائٹ ہاﺅس سینما کی ساتھ والی گلیوں میں تھا ۔ اکثر لنڈا بازار بھی جانا ہوتا وہاں کھیلوں کے سامان کی دکانیں بھی تھیں جہاں پر خریداری کے لئے جاتے لیکن لنڈے کی اکثر دکانوں کو بھی گرا دیا گیا ۔ ان اقدامات سے ہزاروں لوگوں کا روز گار ختم کر دیا گیا ۔
نئی اور پرانی عدلیہ میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ جب نئی عدلیہ آئی ہے اس وقت سے روزانہ کی بنیاد پر عدالتوں سے جو بریکنگ نیوز آتی تھیں وہ ختم ہو گئی ہیں۔ یقین جانیں ہر روز دفتر جاتے ہوئے راستے میں جب بھی G.P.Oکے سامنے سے گذرتے تو میڈیا والوں کی گاڑیوں کو کھڑا دیکھ کر ہی سمجھ آ جاتی کہ بس ابھی کوئی بریکنگ نیوز آ جائے گی ۔ ایک تو یہ ہیجانی سلسلہ ختم ہوا اور دوسرا پٹیشن مافیا سے پٹیشن دائر کروا کر آئین کے خلاف پارلیمنٹ سے منظور آئینی ترامیم کو رول بیک کرنا اور پھر آئین کی تشریح کے نام پر اپنی مرضی کا آئین لکھنے کا سلسلہ بھی نئی عدلیہ میں بند ہو چکا ہے ۔