Wed, September 16, 2026

واہ ،واہ……؟؟؟

واہ ،واہ……؟؟؟

ایک وقت تھا کہ گناہ کرکے لوگ اکڑتے نہیں تھے بلکہ شرمسارہوتے تھے آج جرم کرکے سینہ’’ چوڑا ‘‘کرکے چلتے ہیں بلکہ ٹھٹھے مار مار کر اپنے جیسے مشٹنڈوں کو بتاتے ہیں کہ جیسے کوئی بڑا معرکہ مار لیا ہو جیسے گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب کے سپوت جنید صفدرکی کالے شیشے والی گاڑی میں سفر پر جنید صفدر کا چالان کردیا گیا خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہو ئی قصیدے لکھنے والوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا تنقید کرنے والے بھی صف اول میں رہے خبر کچھ یوں ہے کہ لیک سٹی میں بلیک پیپر لگانے پر گاڑی کا 5 سو روپے کا چلان کیا گیا،ڈولفن فورس کے اہلکاروں نے بلیک پیپر والی گاڑی کو روکا اور وارڈن محمد امجد نے بغیر کسی دباؤ میں آئے رات کو 8 بج کر 30 منٹ پر 500 روپے جرمانہ عائد کیا، اس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ڈولفن فورس اور ٹریفک وارڈن کو شاباش دی اور کہا کہ قانون کی پاسداری سب کے لیے برابر ہے، چلیں مان لیتے ہیں کہ مریم نواز نے اچھا اقدام کیا چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں پولیس کو اچھے کاموں کی شاباش ملنی چاہیے لیکن کیا پولیس میں کالی بھیڑیں نہیں کیا پولیس والے جرائم میں ملوث نہیں کیا پولیس والے عزتوں سے کھلواڑ نہیں کرتے کیا آئی جی ڈاکٹر عثمان کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا، ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ جرائم میں ملوث یا مطلوب افراد کو مقابلوں میں مار نہیں رہے؟ چلیں مان لیں جرائم کے خاتمے کیلئے یہ اقدام اچھا ہے لیکن آئے روز جو جعلی پولیس مقابلے ہوتے ہیں 
ان کا ذمہ دار کون ہے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس طرف بھی دھیان دینا ہو گا جنید صفدرکا چالان ایک شوشہ ہے یہی ڈرامے شہباز شریف بھی کرتے رہے ہیں ورنہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آگے پیچھے پروٹوکول گاڑیوں کا ہجوم ہو اور شہبازشریف ٹریفک میں پھنس جائیں اور رکشے میں بیٹھ کر منزل تک پہنچیں ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں تگڑے کیلئے رات بھی عدالتیں کھل جاتی ہیں اور نمانوں کیلئے اردلی بھی سیشن جج بن جاتا ہے آج اگر یورپی ممالک کی ترقی کا رازدیکھیںتوایک بات طے ہے اور وہ یہ کہ وہاں قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتاہے چاہے کوئی کتنا بااثر ہو اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے یہاں جتنا لچا ہے اتنا ہی ’’اچا‘‘ ہے مامے چاچے تائے ماسیاں پھوپھیاں بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں کسی کی جرأت نہیں کہ کوئی ان پر ہاتھ ڈالے جنید صفدرتو اچھا بچہ نکلاکہ چپ چاپ چالان کرا لیا اسی بہانے جو اسے نہیں جانتا تھا وہ بھی جاننے لگااور مفت کی واہ واہ بھی ہو گئی جرم و سزا کا نظام کسی بھی معاشرے میں قیام امن کے لیے ضروری ہوتا ہے، نظام عدل میں پائی جانے والی کمزوریوںکی وجہ سے جرائم پیشہ افرادکی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور معاشرے میں انتشار اور فساد کو فروغ ملتا ہے ہمارے ہاں عام طور پر دیکھا گیا ہے معاشرے میں مجرم رشوت یا اثر و رسوخ کے ذریعے سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کچھ لوگ جرائم کرنے کے بعد سفارش تلاش کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بچ جاتے ہیں اور ماڑے ماڑے بندے کئی بار ضمانتوں کے چکر میں جیل کاٹ رہے ہوتے ہیں معاشرے میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے رشوت دے کر قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ،کئی مرتبہ قتل و غارت گری ، بھتہ خوری، گینگ ریپ اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد بھی رشوت ستانی کے ذریعے اپنے جرائم پر پردہ ڈال لیتے ہیں،تھانہ کلچرکی اصلاح بھی انتہائی ضروری ہے،تھانوں کو جہاں رشوت، سفارش اور سیاسی دباؤ سے باہر نکالنا ضروری ہے وہاں اس بات پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ مجرم کا خواہ کتنا بھی کڑا احتساب کیوں نہ ہو بے گناہ افراد کو فقط مجرم سے تعلق کی وجہ سے اذیت نہ دی جائے،پاکستان میں کرپشن کرنا اب کوئی جرم نہیں رہا ،جرم کرنیوالے اصل ملزم رشوت دیکر چھوٹ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عدالتوں میں انصاف بکتا ہے تھانے کچہریوں میں بولیاں لگتی ہیں کئی بے گناہ پھانسی پر چڑھ جاتے ہیں بیس سال پتہ چلتا ہے کہ مجرم بے گناہ ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تقاریر میں واہ واہ کروانے کے بجائے قانون کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے جن معاشروں میں قانون کا احترام نہ ہو وہاں کے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں ماضی اور حال میں ہر حکومت اور اپوزیشن نے قانون کو گھر کی لونڈی بنائے رکھا جس کی وجہ سے عوامی فلاح کیلئے کوئی قانون سازی ہو سکی اور نہ ہی دنیا میں گرین پاسپورٹ کی توقیر میں اضافہ ہواکڑے احتساب کے بغیرملک ترقی نہیں کرسکتا ۔

ٹیگز: