چوپال سجی ہوئی تھی، چپ سائیں اخبار کے مطالعہ میں مصروف تھے۔ان کی نظر اچانک ایک خبر پر رک سی گئی۔۔ وہ خبر پڑھنے کے بعد انتہائی مغموم نظر آئے اور ساتھ ہی ساتھ ۔۔۔ آہ۔۔افسوس۔۔ اور ۔۔۔ واہ رے حضرت انسان!۔۔ یہ جملے دہرارہے تھے۔۔۔یہ الفاظ بولنے کے بعد چپ سائیں نے چپ سادھ لی اور گہری سوچ میں ڈوب گئے۔۔۔ کچھ دیر کے بعدچا چارفیق اور نتھو ،پھتو ہمت کرکے بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔ معاملہ کیا ہے؟ اور آپ کس سوچ میں ہیں؟۔۔۔اللہ ہو!۔۔۔اللہ حق!۔۔ کہہ کر چپ سائیں نے لب کشائی کی۔۔۔بولے۔۔دوستو! دراصل میرے دماغ پر ایک خبرکا غلبہ ہے۔۔ میں نے اس کو خود پر طاری کرلیا ہے اور مجھ پر کپکپی کی کیفیت ہے، الفاظ ساتھ نہیں دے رہے۔۔ مجھے افسوس حضرت انسان پر ہے اور میں اسی وجہ سے آہ وبکا کررہا ہوں۔۔۔صاحبو!۔۔۔دراصل مظفر گڑھ میں ایسا واقعہ ہوا ہے، جس وجہ سے میں غم زدہ ہوگیا ہوں اورکپکپاہٹ طاری ہوگئی ہے۔۔
دوستو!مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی میں ایک دلخراش واقعہ ہوا ہے۔ تحصیل جتوئی میں مقامی زمیندار نے بیوہ خاتون کی گائے کی ٹانگ کاٹ دی۔ افسوسناک واقعہ موضع قادر پور میں پیش آیا۔پولیس کے مطابق گائے چرتے چرتے مقامی زمیندار کے آم کے باغ میں چلی گئی ۔جس پرملزم طیش میں آگیااورزمیندار نے بے زبان گائے کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔پولیس مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار تو کرلیا لیکن یہ واقعہ معاشرتی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے پیش آنے والا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ محض معمولی نقصان (آم کے باغ میں جانے) پر انسان کس قدر سفاک ہو سکتا ہے۔
چپ سائیں دوبارہ چپ کرگئے۔۔۔ توقف کے بعد بولے۔۔ چوپال کے دوستو اور بھائیو!۔۔۔یہ بھی کتنی جہالت ہے کہ صرف باغ میں جانے کی وجہ سے بے زبان کی ٹانگ کاٹ دی گئی۔۔۔ قطع نظر اس کے کہ۔۔ مظلوم کی آہ
عرش تک جاتی ہے اورحضرت انسان۔۔۔ طاقت کے نشے میں ۔۔۔ اس آہ! کے نتائج بھول گیا۔۔۔ واہ رے حضرت انسان!۔۔جو تمام مخلوق سے افضل ہے نجانے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے آہ! کو کیوں بھول جاتا ہے۔۔ آہ چاہے ۔۔ بے زبان کی ہو یا کسی مظلوم انسان کی۔۔۔دوستو رنگ تو دکھاتی ہے۔نتھو، پھتو اور بھائی رفیق دیہی معاشرت کے کئی کڑوے حقائق ہیں۔دیہی علاقوں میں عموماً زمیندار طبقہ اپنی زمین اور فصل کو اپنی ''انا'' کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ گائے کا باغ میں گھسنا محض ایک اتفاقی واقعہ تھا، لیکن اگر یہی گائے کسی دوسرے تگڑے زمیندار کی ہوتی تو شاید بات سمجھا بجھا کر ختم کر دی جاتی، لیکن بیوہ ہونا اور کمزور ہونا ملزم کو یہ شہ دے گیا کہ وہ قانون ہاتھ میں لے سکتا ہے۔
دوستو!طبی ماہرین کے مطابق کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ گائے نہ صرف چلنے پھرنے سے قاصر ہو گئی بلکہ اس کا دودھ دینا بھی بند ہو جاتا ہے اور انفیکشن کی صورت میں جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔معاملہ صرف ایک گائے کا نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان کے مختلف حصوں سے ایسے کئی دلخراش واقعات سامنے آئے۔ گذشتہ برس سندھ کے ایک زمیندار نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی،کیونکہ وہ اس کے کھیت میں گھس گیا تھا۔ یہ کیس اس قدر ہائی پروفائل ہوا کہ وفاقی حکومت کو مداخلت کرنی پڑی۔خیبر پختونخوا میں کتے پر تشدد کی مثال بھی ہے۔ دشمنی کی بنا پر مخالف کے پالتو کتے کے کان اور دم کاٹ دی گئی ۔
چپ سائیں نے نتھو سے پانی کا گلاس مانگا۔۔۔ پانی پینے کے بعد گویا ہوئے۔ ۔۔۔صاحبو!تفصیل میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہمارا دین اس بارے میں کیا کہتا ہے تاکہ ہم اپنے معاشرتی رویوں کا موازنہ کر سکیں۔ اسلام میں تو جنگ کے دوران بھی درختوں کو کاٹنے اور جانوروں کو مارنے کی ممانعت ہے، چہ جائیکہ امن کے دور میں کسی کی ملکیت کو نقصان پہنچایا جائے۔بھائیو!۔۔ اب اگر قانون کی بات کی جائے تو پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ (PCA) کے تحت اب سزا¶ں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
یہ محض ایک ٹانگ کٹنے کا واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کے اخلاقی دیوالیے پن کا ثبوت ہے۔کیا آپ کے خیال میں ایسے معاملات میں صرف پولیس کی کارروائی کافی ہے، یا گا¶ں کی پنچایتوں اور مقامی بزرگوں کو بھی ایسے رویوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے؟۔۔۔
صاحبو!اس قسم کے دردناک واقعات کا اخلاقی جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب کسی معاشرے سے احساس ذمہ داری اور خالق کی پکڑ کا خوف ختم ہو جائے، تو وہاں انسان ''حیوان'' سے بھی بدتر ہو جاتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے اوراس کو یہ باتیں زیب نہیں دیتیں کہ فرعونیت پر اتر آئے۔اخلاقیات کا پہلا سبق یہ ہے کہ طاقتور وہی ہے جو اپنے غصے پر قابو پائے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ''بڑے'' اور ''چھوٹے'' کے درمیان تمیز کھو چکا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جب کسی بے زبان پر ظلم ہوتا ہے تو اس کی خاموش آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔ اخلاقی طور پر ہم یہ بھول چکے ہیں کہ کائنات کی ہر مخلوق اللہ کا کنبہ ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے زیر دستوں (غلاموں، یتیموں اور جانوروں) پر رحم نہیں کرتیں، وہ کبھی سکون اور برکت نہیں پاتیں۔ایسے واقعات صرف ایک شخص کا انفرادی فعل نہیں، بلکہ ہمارے مجموعی رویوں کا آئینہ ہیں۔ کیا ہم اتنے مادہ پرست ہو چکے ہیں کہ چند آموں کی قیمت ایک جاندار کی زندگی اور معذوری سے زیادہ ہو گئی؟ اخلاقی طور پر یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے مظالم پر خاموش نہ رہیں۔ خاموشی ظالم کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔
صاحبو!کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ ''اشرف المخلوقات'' کا لقب ہمیں اس لیے نہیں ملا کہ ہم دوسروں کو اپنا انا اور طاقت کے نشے میں کچل دیں، بلکہ اس لیے ملا ہے کہ ہم کمزوروں کا سہارا بنیں۔اگر ہم نے اپنے اندر ''رحم'' اور ''انسانیت'' پیدا نہ کی، تو ہم صرف دو ٹانگوں پر چلنے والے وہ جاندار رہ جائیں گے جن کے سینوں میں دل تو ہیں مگر دھڑکتے نہیں۔حقیقی انسانیت وہ ہے جو دوسرے کا دکھ محسوس کرے، ورنہ پتھروں اور انسانوں میں فرق مٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔رہے نام اللہ کا!