خبروں کا ایک انبار میری رائٹنگ ٹیبل پر پڑا مجھے تجزیہ طلب نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔ طبیعت ہے کہ شعر کہنے اور افسانہ لکھنے پر مچل رہی ہے لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ہم نے سما ج کو کچھ نہ کچھ فراہم کرنا ہو تا ہے جو ہمارے عقلی ارتقا میں معاون و مددگار ثابت ہو ۔ترقی پسند شاعری ٗ افسانہ ٗ تنقید ٗ ناول اور اچھوتے موضوعات کو موزوں کرنا اسی کوشش کا ایک جزو ہے۔ پاکستانی سماج جس عقلی نا ہمواری کا شکار ہو چکا ہے اسے شاہراہ بنانے میں ابھی بہت وقت ٗ حوصلہ اور جرأت درکار ہے۔ یقینا یہ ایک کٹھن رستہ ہے لیکن خوش قسمتی سے ہمیں آسان رستے اپنی طرف مائل ہی نہیں کرتے ۔ عمران نیازی کی آنکھ میں ہونے والے انفیکشن بارے پی ٹی آئی کی ٹرولنگ پاکستان میں ہونے والی پٹرولنگ سے کہیں زیادہ ہے ۔ میں صدر آصف علی زرداری کے بیان سے سو فیصد متفق ہوں کہ جیل تو دو سال بعد بندے کو بتاتی ہے کہ تم جیل میں ہو ۔ اور عمران نیازی کے دو سال پورے ہو چکے سو اب یہ اطلاع یا اس سے ملتی جلتی اطلاعات آنا معمول کی بات ہو گی لیکن چونکہ وہ ’’ عمران خان ہے‘‘ سو میڈیا اور سیاسی جماعتوں کا موضوع ہے ورنہ اس سے کہیں خوفناک بیماریوں میں مبتلا قیدی جیل میں دم توڑ دیتے ہیں یا آج بھی اذیت ناک زندگی گزار رہے ہوں گے اگر عمران نیازی ’’ دو نہیں ایک پاکستان ‘‘ بنانے میں کامیاب ہو جاتا تو آج کسی قیدی کو بھی اس تکلیف سے نہ گزرنا پڑتا ۔ بہرحال اب عمران نیازی جا چکا سو لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جنہیں فائدہ ہے وہ دن رات عمران نیازی کو جیل میں رکھنا چاہتے ہیں جس میں علیمہ خان صاحبہ سرفہرست ہیں اور یقینا دوسری بہنوں کا کردار بھی مثبت نہیں ہے ۔میں ہرگز کو ئی الزام تراشی نہیں کر رہا بلکہ اُس سیاسی عمل کے تجزیے کی روشنی میں اپنی رائے قائم کر رہا ہوں جو علیمہ خان صاحبہ نے 9مئی سے پہلے اور بعد میں جاری رکھا ہوا ہے۔ عمران نیازی کے حوالے سے بات سیدھی سی ہے کہ بیٹی کو باپ نے قبول نہیں کیا اور بیٹوں نے باپ کوجبکہ بہن بھائی ایک دوسرے کو قبول و منظور ہیںاور وہ برطانیہ سے پاکستان آ نہیں سکتے ٗ جس کا سیدھا سے مطلب ہے کہ پی ٹی آئی سمیت سب کچھ بہنوں کا ہے اور یہ اُسی صورت میں ممکن ہے کہ 74سالہ شخص کو زیادہ سے زیادہ کرب ناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے۔ جہاں علیمہ خان صاحبہ ابھی تک بہت سے کھیل کھیل چکی ہیں وہیں پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو اڈیالہ جیل جانے سے روکنا بھی شامل تھا سو اگلی کہانی سادہ اور آسان ہے۔عمران نیازی کا پنجرہ کھولنے کے حوالے سے خبریں گرم آ رہی ہیں لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا۔ عمران نیازی کو زندگی میں بہت بڑی رعایت بھی ملی تو جیل سے بنی گالہ منتقلی کی آسانی مل سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اگر اُسے کسی دوسرے ملک میں بھیجنے کی کوشش کی تو یہ اسٹیبلشمنٹ کی آخری غلطی ہو گی کیونکہ عمران نیازی کو زبان کا مسئلہ نہیں ہے ۔ جھوٹا بیانیہ اُسے بنا بنایا مل جاتا ہے جسے وہ بغیر شرمندگی کے بقول ارشاد بھٹی کے ’’ پکا منہ بنا ‘‘ کرڈلیور بھی کردیتا ہے۔ ہیمرنگ اور ٹرولنگ کرنے والی ایک بڑی ٹیم اُس کے پاس پاکستان سے لے کر اوورسیز تک ہے اور اِس جلتی پر تیل کا کام عالمی میڈیا کردے گا جو جمائمہ کے گھر کی لونڈی ہے سو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی عقل مند انسان یہ فیصلہ لے سکتا ہے۔
11فروری کو صدر استحکام و وفاقی وزیر عبد العلیم خان کی رہائش پر ہونے والی پریس کانفرنس میں گلگت بلتستان کے سابق گورنر جلال حسین مقپون، سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان، سابق قائد حزب اختلاف کیپٹن شفیع، سابق وزراء فتح اللہ خان، شمس اللہ حق، حاجی شاہ بیگ اور دلشاد بانو شامل تھیں جبکہ خان اکبر خان، مولانا سلطان رئیس اور ایمان شاہ نے بھی استحکام ِ پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی جس پر صدر استحکام پاکستان پارٹی اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اُن کا خیر مقدم کیا اور انہیں پارٹی پرچم پہنا کر اس نئے سفر اور نئے عزم پر مبارک باد دی ۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے نئے شامل ہونے والے رہنماؤںکی موجود گی میں بتایاکہ استحکام پاکستان پارٹی گلگت بلتستان کی سیاست میں پہلی بارباقاعدہ طور پر شریک ہو رہی ہے، اس خطے کے عوام کا حق ہے کہ انہیں ترقی، خوشحالی اور روزگار کے مساوی مواقع میسر آئیں۔ گلگت بلتستان بے پناہ قدرتی وسائل اور سیاحتی مواقع سے مالا مال ہے جسے فروغ دے کر اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا ''سوئٹزرلینڈ'' بنا کر سیاحت کی مد میںبڑا زرِ مبادلہ کما کر گلگت بلتستان اور پاکستان کی خوشخالی پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔ عبد العلیم خان کا کہنا تھا کہ جب یہاں کا خوبصورت موسم اورمناظر دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر یہاں کا نوجوان بیروزگار کیوں ہے؟ یہاں کی مقامی آبادی کو معاشی مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ اس خوبصورت علاقے کے خوبصورت لوگوں کا حق ہے کہ اُن کے وسائل اُن کر خرچ کیے جائیں اور دینا بھر کو دکھایا اور بتایا جائے کہ دنیا میں ایک خطہ ایسا بھی ہے جسے واقعی جنت نظیر کہا جا سکتا ہے جس سے اس علاقے کے نوجوانوں کو بہترین روزگا ر ملے گا ٗعام آدمی کی معاشی مشکلات دور ہوں گی ٗ سیاحت میں اضافہ ہونے سے اس کا انفراسٹرکچر عالمی معیار کے مطابق کیا جائے گا ۔پریس کانفرنس خطاب کرتے
ہوئے عبد العلیم خان نے گلگت بلتستان میں بھرپور انتخابی مہم چلانے اور اپنے بہترین منشور کے ساتھ عوام کے سامنے پیش ہونے کا اعلان کیا ۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ استحکام ِ پاکستان پارٹی میں شامل ہونے کا مقصد محض سیاسی شمولیت نہیں بلکہ ہم عملی اقدامات کے ذریعے خطے کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے ۔ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والے تحریک انصاف کے ہم خیال گروپ کے رہنماؤں سابق گورنر جلال حسین مقپون اور وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان نے عبدالعلیم خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی ملک و قوم کی ترقی اور استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہی ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کی حقیقی نمائندگی کا عزم رکھتی ہے ۔ پریس کانفرنس میں وزیر مملکت اور آئی پی پی کے سینئر رہنما عون چوہدری، پارلیمانی سیکرٹری گل اصغر بگھور، آئی پی پی پنجاب کے صدر رانا نذیر احمد خان، جنرل سیکرٹری و ایم پی اے شعیب صدیقی سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنما بھی موجود تھے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف پہلے ہی وفاقی وزیر عبد العلیم خان کی صلاحیتوں ا ور اُن کی وزارتی کارکردگی کی تعریف کرچکے ہیں ۔سو آپ مان لیں کے عمرانی کلٹ ٹوٹ رہا ہے ۔