حکومت مخالف قوتیں حکومت کے خلاف ہمیشہ سے ہی جائز و ناجائز محاذ آرائی کی سیاست کو تقویت دے کر ان کے لئے مسائل پیدا کرتی ہیں۔ لیکن حکومتوں کی حکمتِ عملیاں مسائل یا محاذ آرائی کی سیاست میں الجھنے کی بجائے معاملات کو سلجھانے کی ہوتی ہے، تا کہ کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔اس حکمتِ عملی کے تحت کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت حکومت معاملات کو حل کر کے مزاحمتی سیاست کو کمزور کرتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس اس وقت جو سیاست پاکستان میں ہو رہی ہے اس میں حکومت اور حکومت مخالف قوت پاکستان تحریکِ انصاف دونوں کی حکمتِ عملی ایک جیسی نظر آتی ہے۔ حکومت مخالف قوت اپنی سیاست میں شدت پیدا کرنے اور لوگوں کی توجہ سمیت ہمدردی کے حصول کے لئے حکومت کو مجبور کرتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سیاسی غلطیاں کرے، تاکہ ان کا فائدہ اٹھا کر وہ اپنے سیاسی مٔوقف میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ ہمدردیاں حاصل کر سکے۔ جس میں اس وقت اپوزیشن کافی حد تک کامیاب نظر آ رہی ہے۔ وہ اپنے ورکرز کو جوڑے رکھنے میں نہ صرف کافی حد تک کامیاب ہے بلکہ خصوصاً پنجاب حکومت کے کئی اچھے حکومتی اقدامات کے باوجود اپنا ووٹ بینک بڑھا رہی ہے۔
اگر ہم گزشتہ تین سال کے واقعات کا احاطہ کریں تو میری ذاتی رائے میں مسلم لیگ (ن) نے غلطیاں زیادہ کی ہیں، جس کی وجہ سے تحریکِ انصاف کے مردہ گھوڑے میں جان پڑ گئی۔یہ ساری صورتحال حکومت کی غلط سیاسی حکمتِ عملیوں کی وجہ سے ہوئی ورنہ پی ٹی آئی اپنا دورِ اقتدار پورا کرتی تو اس کے امیدواروں کی انتخابات میں ضمانتیں ضبط ہو جاتیں۔حکومت کے وزراء کے بیانات اور ترجمانوں کے خیالات پی ٹی آئی کے لئے آکسیجن کا کام کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا نقصان حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر پابندی لگا کر ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی سے وابستہ لوگ اور بانی پی ٹی آئی کے عزیز و اقارب جب اڈیالہ جیل ملنے جاتے ہیں تو انہیں ملنے نہیں دیا جاتا اورا س طرح وہ اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے دے کر بیٹھ جاتے ہیں، جسے حکومت واٹر کینن کے استعمال اور دیگر طریقوں سے ختم کرانے کی کوشش کرتی ہے، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بالفرض اگر وہ افراد بانی پی ٹی آئی سے مل بھی لیں تو وہ کیا کر لیں گے۔ ان کے نہ ملنے سے جتنا نقصان حکومت کو ہو رہا ہے اتنا ان کے اپنے قائد کو ملنے سے نہیں ہونا تھا۔ جو بھی حکومت کو یہ مشورہ دے رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں پر پابندی لگائی جائے وہ حکومت کا دوست کم دشمن زیادہ ہے۔
عمومی طور پر حکومت مخالف قوتوں کی سیاسی چالوں کو انتظامی نوعیت کے معاملات سے پر امن طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ کیونکہ سیاست میں جب ایک مخالف فریق سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کو ردِ عمل کی سیاست کے طور پر نمٹا جائے گا تو اس کا نقصان خود حکومت کو ہی ہو گا۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست کسی بھی صورت میں حکومت کے حق میں نہیں ہوتی۔ اب کسی حد تک مذاکرات کی باتیں ہونے لگی ہیں یہ ہے بھی بالکل درست ہر چیز کا حل مذاکرات میں ہی مضمر ہوتا ہے۔ اگر مذاکرات کے بجائے اپنی اپنی انا کے زیرِ اثر رہا جائے تو اس کا نقصان عمومی طورپر اس معاشرے کو ہی ہوتا ہے۔ یہ جو محاذ آرائی کا منظر غالب ہے اس میں مفاہمت یا مذاکرات کا عمل کہاں تک برقرار رہ سکتا ہے اور کیسے کامیاب ہو سکتا ہے خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایک طرف تو مذاکرات کی بحالی کی باتیں اور دوسری طرف ایک دوسرے پر سنگین الزامات کی تواتر سے کی جانے والی بوچھاڑ میں اعتماد سازی یا مذاکرات کی بحالی کیسے ممکن ہو گی، سوالیہ نشان ہے۔ بنیادی طور پر جب سیاسی فریقین میں ڈیڈ لاک یا بد اعتمادی کی سیاست غالب ہو، اس میں سیاسی بریک تھرو کے لئے پہلے سازگار ماحول پر توجہ دی جاتی ہے۔ دوسری طرف تحریکِ انصاف کو بھی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی باتوں سے باہر آنا چاہئے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ابتدا کرنی چاہئے۔
بالخصوص ایسے ملک میں جس کے چاروں طرف سازشوں کے جال بنے جا رہے ہوں اور جسے اپنی سلامتی کے چیلنجوں سمیت سنگین مسائل کا سامنا ہو، وہاں یقیناً احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی حکومتی اور اپوزیشن اراکین جس طرح کی سخت بیان بازی کر رہے ہیں اس میں صورحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ میری ذاتی رائے میں جمہوری قوتوں کے لئے میثاقِ جمہوریت پر عملدر آمد ہی بہترین راستہ ہے۔ مفاہمتی سیاست کو آگے بڑھاتے ہوئے بات چیت اور میثاقِ جمہوریت پر عمل کرتے ہوئے تمام مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔ اگر چہ بعض حلقوں کے خیال میں اس وقت حالات ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا مگر قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ انتہائی مشکل اور پیچیدہ حالات میں بھی بات چیت کے ذریعے مفاہمت کے راستے نکالے جا تے رہے ہیں ۔ اس لئے افہام و تفہیم کی راہ اختیار کرنے میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے۔جہاں تک ملک میں سیاسی ماحول میں استحکام لانے کا تعلق ہے اس کی اہمیت اور افادیت سے کسی بھی صاحبِ دانش کو کوئی انکار نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک طرف اپوزیشن تصادم کی پرانی عصبیتوں سے جان چھڑا کر حکومت سے کم سے کم مشترکہ نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا اہتمام کرے اور دوسری طرف اربابِ اختیار اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگانے کی پالیسی کو ترک کر کے اپنے اختلافات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی راہ نکالیں اورا س حقیقت کو کبھی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں کہ ڈائیلاگ اور مکالمہ ہی جمہوریت کی اصل روح ہے اور اسے کسی حالت میں ترک نہیں کیا جانا چاہئے۔ اقتدار میں ہونے کے باعث حکومت کی ذمہ داری نسبتاً زیادہ ہے۔ جمہوریت اور جمہوری پارلیمانی نظام میں مفاہمت اور آپس میں اچھے تعلقات کار کا قیام اس سسٹم کی روح ہے۔