کچھ دن پہلے ایک میچ کی بہت دھوم تھی۔ وہ میچ کل ہو گیا۔ نتیجے سے سب واقف ہیں، سو اس پر اب زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں لیکن چونکہ پاکستانی عوام اس شکست پر بہت دل گرفتہ ہیں، اس لیے ان کے دل کی تسلی کا کچھ سامان ضروری ہے۔ اس ضمن میں گزارش یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کو یہ میچ ہار تو جانا ہی تھا کیونکہ کرکٹ کے ماہرین اور تجزیہ کار ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی یہ کہنا شروع ہو گئے تھے کہ ہماری قومی کرکٹ ٹیم بھارتی حریف کے مقابلے میں بہت کمزور ہے اور اگر پاکستان جیت گیا تو یہ اپ سیٹ ہو گا۔ مراد یہ کہ قوم کو اس متوقع نتیجے پر اس قدر افسردہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی بجائے ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ پاکستان یہ میچ ہار کر بھی جیت گیا ہے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت میں بھارت سے میچ نہ کھیلنے کی دھمکی دے کر نہ صرف آئی سی سی سے اپنے مطالبات منوائے بلکہ بنگلہ دیش کی نظر میں بھی اپنا مقام مزید بلند کیا۔ پاکستان کی اسی مثبت سفارت کاری کا نتیجہ ہے کہ بنگلہ دیش بھی ہمارے ساتھ تعلقات میں ایک قدم آگے آیا ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش کے انتخابات کے بعد پاکستانی قیادت کو بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت ملی ہے۔ پاکستان سے وفاقی وزیر احسن اقبال بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کی بطور وزیر اعظم بنگلہ دیش تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف جلد بنگلہ دیش کا دورہ کرکے نئے وزیراعظم کو مبارکباد دیں گے۔
بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے سے انکار کے بعد سری لنکا نے بھی پاکستان سے میچ کھیلنے کی درخواست کی تھی جسے مان کر پاکستان نے سری لنکا کا مان رکھ کر ایک اور بڑی سفارتی کامیابی سمیٹی۔ اسی ضمن میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے اعزاز میں سری لنکا کرکٹ کی جانب سے خصوصی تقریب بھی ہوئی۔ چیئرمین پی سی بی کو کھیل کے فروغ کیلئے گراں قدر خدمات پر خراج تحسین کیا گیا۔ محسن نقوی سے صدرسری لنکن کرکٹ بورڈ شامئے سلوا اور دیگر عہدیداروں نے ملاقات کی۔ چیئرمین مین پی سی بی نے شاندار مہمان نوازی پر سری لنکن کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب اسی چال سے پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارت کا منفی چہرہ بھی مزید آشکار کر دیا۔ اس کے باوجود اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نو ہینڈ شیک کی پالیسی برقرار رکھی۔۔ بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ بھارت کی اس کمینگی پر بھارت کے اندر سے ہی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سابق بھارتی کرکٹر سنجے منجریکر نے بھارت کی نو ہینڈ شیک پالیسی پر کڑی تنقید کی۔
جہاں تک بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں شکست کی بات ہے تو ہمیں اپنے کرکٹ کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ آخر بھارت میں ایسا کیا ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم جب بھی اس کا سامنا کرتی ہے تو ہار جاتی ہے حالانکہ اسے پاکستان سے کبھی جیتنا نہیں چاہیے۔ پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں بھی بھارت سے جیتنے کی اسی طرح تیاری کرنی چاہیے جیسے ہم نے معرکہ حق میں بھارت کو شکست فاش دینے کی تیاری کی تھی کیونکہ یہی وہ واحد مقابلہ ہوتا ہے جس میں فتح کے لیے پاکستانیوں کا جوش و جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے اور اس جیت کے لیے باقاعدہ دعائیں کرتی ہے جبکہ میچ ہارنے پر شدید غم و غصے کا شکار ہو جاتی ہے۔
حالیہ میچ میں بھارتی ٹیم نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دی۔۔قومی ٹیم 176رنز کے تعاقب میں صرف 114 رنز بنا سکی۔ پاکستان کی طرف سے عثمان خان نے سب سے زیادہ 44رنز بنائے جبکہ شاہین آفریدی بھی 23رنز ناٹ آئوٹ کے ساتھ نمایاں رہے۔ شاداب خان نے14اور فہیم اشرف نے10رنز بنائے۔ سات کھلاڑی ڈبل فگر ہی میں داخل نہیں ہو سکے جن میں سے تین کھلاڑی صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ صفر پر آؤٹ ہونے والوں میں پاکستان کے اوپنر صاحبزادہ فرحان بھی شامل تھے جبکہ ان کے مقابلے میں بھارتی اوپنر نے صرف 40 گیندوں پر77رنز کی اننگز کھیلی جس میں تین چھکے اور دس چوکے بھی شامل تھے۔ انھوں نے میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ بابر اعظم جن پر پاکستان کا بیٹنگ میں بہت زیادہ انحصار تھا، وہ بھی صرف پانچ رنز بنا سکے۔ بھارت کے دیگر بلے بازوں نے بھی ہمارے بلے بازوں کے مقابلے میں کہیں بہتر کھیل پیش کیا۔ باؤلنگ کا مقابلہ کیا جائے تو اس شعبے میں بھی پاکستان کمزور رہا۔ بھارت کا صرف ایک باؤلر کوئی وکٹ حاصل کرنے سے محروم رہا جبکہ پاکستان کے تین باؤلر وکٹ حاصل نہ کر پائے۔ پاکستان نے اس میچ میں چھ سپنرز کو کھلایا اور اس طرح ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں اتنے سپنرز کو ایک اننگز میں کھلانے والی پہلی ٹیم بن گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کبھی دنیا بھر میں پاکستان کی شہرت اچھے فاسٹ باؤلرز پیدا کرنے والے ملک کی تھی۔ پاکستان کے فضل محمود، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر اور محمد عامر ایسے فاسٹ باؤلرز ہیں جن کے نام سن کر حریف کھلاڑیوں کی ٹانگیں کانپتی تھیں۔ اور اب پاکستان کو فاسٹ باؤلرز سے زیادہ سپنرز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے پاس عبدالقادر، مشتاق احمد، ثقلین مشتاق اور سعید اجمل جیسے شاندار سپنر بھی رہے لیکن فاسٹ باؤلرز کا تناسب زیادہ ہے۔
یہ تو میچ کا ایک اجمالی سا موازنہ تھا لیکن اگر دیکھا جائے تو اس میچ کے علاوہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان نے نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف دو میچ جیتے بھی ہیں۔ پاکستان کو پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر چار میچ کھیلنا تھے جن میں سے کم ازکم تین میچ جیتنا اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان کا اب صرف ایک میچ باقی ہے جو نمیبیا کے خلاف 18 فروری کو ہو گا۔ نمیبیا یوں تو پاکستان کے مقابلے میں بہت کمزور ٹیم ہے اور اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستان یہ مقابلہ آسانی سے جیت سکتا ہے لیکن کھیل کے میدان میں اپ سیٹس بھی ہوتے ہیں اور اس ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اپ سیٹ آسٹریلیا اور زمبابوے کے درمیان ہو چکا ہے جس میں زمبابوے جیسی کمزور ٹیم نے آسٹریلیا جیسے ہیوی ویٹ کو شکست دے دی تھی۔ اس لیے اپ سیٹس کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا چنانچہ پاکستان کو نمیبیا کے خلاف میچ اسی سوچ کے پیش نظر کھیلنا ہو گا کیونکہ اب پاکستان کے پاس کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔
پاکستان کو سپر ایٹ مرحلہ کھیلنا ہے تو نمیبیا کو ہر صورت ہرانا ہوگا۔ نمیبیا نے اپ سیٹ کردیا تو گرین شرٹس سپر 8 کی دوڑ سے باہر ہوجائیں گے۔۔ بھارت سے شکست کے بعد پاکستان کا نیٹ رن ریٹ منفی اعشاریہ چار صفر تین ہوگیا۔۔امریکا کے 4 میچز میں 2 فتوحات کے ساتھ 4 پوائنٹس اور رن ریٹ اعشاریہ سات آٹھ آٹھ ہے۔
امید ہے کہ پاکستان نمیبیا کے خلاف اپنا میچ بہ آسانی جیت جائے گا تاہم ملک کے عوام کو حقیقی خوشی دینے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئندہ کے لیے بھارت کو شکست دینے کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔