Wed, September 16, 2026

سیلاب نہیں قیامت

سیلاب نہیں قیامت

ہماری قسمت واقعی بہت خراب ہے، ایک تو ہمیں اس صوبے میں حکمران ایسے نااہل، بے حس اور لاپرواہ ملے اوپر سے روز کسی نئے حادثے، واقعے اور سانحے سے ہمار اواسطہ بھی پڑ رہا ہے۔ ہم ابھی تک سوات سانحے کو نہیں بھولے تھے کہ صوبے میں طوفانی بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے ہمارے دامن میں وہ وہ غم ڈال دیئے ہیں کہ جنہیں برداشت کرنے کی اب ہم میں سکت بھی نہیں۔ ہمارے آبائی ضلع بٹگرام، مانسہرہ، بونیر، سوات اور باجوڑ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ ان علاقوں میں درجنوں معصوم بچے، جوان، مائیں، بہنیں اور بیٹیاں لمحوں میں سیلاب کی نذر ہو گئی ہیں، بٹگرام سے سوات اور شانگلہ سے بونیر و باجوڑ تک گاﺅں کے گاﺅں، بستیوں کی بستیاں اجڑ چکی ہیں اور اس بے رحم سیلاب میں خاندانوں کے خاندان ڈوب چکے ہیں۔ ان سانحات میں سینکڑوں افراد شہید اور درجنوں لاپتہ ہو گئے ہیں، نعشوں کے ڈھیر اور ہر طرف تباہی کے مناظر، صوبے میں گویا قیامت کا منظر ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں کل تک گھر اور جیتے جاگتے و ہنستے مسکراتے انسان تھے اب وہاں ہر طرف تباہی ہی تباہی اور بربادی کے نشان ہیں۔ بارشیں یہاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، ندی نالوں میں طغیانی بھی یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن اس بار اس صوبے میں بارشوں سے جو تباہی ہوئی ہے ایسا تاریخ میں کبھی پہلے نہیں ہوا۔ ہمارا اپنا چودہ اگست جشن آزادی کا دن طوفانی بارش اور گلیوں میں سیلاب آنے کی وجہ سے گھر میں گزرا۔ بٹگرام، مانسہرہ، سوات، بونیر اور باجوڑ میں تو زیادہ تر دیہی و پہاڑی علاقے ہیں اور ایسے علاقوں میں اس طرح کے موسم میں لینڈسلائیڈنگ اور طغیانی کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں لیکن دیہی و پہاڑی علاقوں سے ہٹ کر بھی اگر ہم خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں کو دیکھیں تو ایسے موسم اور ہنگامی حالات میں یہ بھی انسانوں کے لئے کوئی محفوظ نہیں۔ مانا کہ قدرتی آفات کا کوئی مقابلہ نہیں پر اپنی طرف سے حفاظتی اقدامات یہ تو ہر انسان کے بس اور وس میں ہے مگر افسوس کہ پہاڑی اور دوردراز علاقوں کے ساتھ صوبے کی شہری آبادی میں بھی اس طرح کے موسم اور حالات سے نمٹنے کے لئے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں۔ طوفانی بارش اور سیلاب کے معاملے میں ہمارے ریسکیو انتظامات نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ حقیقت میں ہم سانحہ سوات و کوہستان کے موقع پر اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ سیلاب اور طغیانی سے بچاﺅ کے لئے ہمارے اقدامات بھی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن اور کارروائی کے اعلان تو ہر دور میں ہوتے رہتے ہیں مگر سچ یہ ہے کہ ایبٹ آباد سمیت صوبے کے اکثر شہروں میں آج بھی نکاسی آب کا کوئی خاص نظام موجود نہیں۔ اول تو نکاسی آب کے لئے کوئی نظام نہیں۔ جہاں نکاسی کے لئے غلطی سے کہیں کوئی ندی نالہ چھوڑا گیا ہو اس پر بھی لوگوں نے اس قدر تجاوزات قائم کی ہوتی ہیں کہ اس جگہ ندی نالے کا نام و نشان ہی نظر نہیں آتا۔ ہم ایبٹ آباد میں جس جگہ رہتے ہیں یہاں محلے اور کالونی کے کنارے نکاسی آب کا ایک نالہ ہے۔ پہلے اس نالے پر لوگوں نے اس قدر تجاوزات قائم کر دی تھیں کہ نالے کا وجود ہی مٹ گیا تھا۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ہمارے بھائیوں جیسے دوست اسامہ وڑائچ شہید کو جو اس وقت ایبٹ آباد کے اسسٹنٹ کمشنر تھے اور پھر ڈپٹی کمشنر چترال بننے کے کچھ عرصہ بعد حویلیاں طیارہ حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔ اس نے ہماری درخواست پر اس نالے سے نہ صرف ہر قسم کی تجاوزات ختم کیں بلکہ اس نالے کو اس نے پختہ اور کشادہ بھی کیا۔ اس کالونی اور علاقے کے مکین گواہ ہیں کہ پھر کئی سال تک مسلسل اور طوفانی بارش سے بھی کبھی لوگوں کے گھروں میں پانی نہیں آیا ورنہ اس سے پہلے جب بھی بارش ہوتی تو پانی فوراً لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا تھا۔ اب پھر سے جب لوگوں نے اس نالے کو دوبارہ کچرہ کنڈی بنا دیا ہے تب سے اس نالے کا رخ ایک مرتبہ پھر گھروں کی طرف مڑ گیا ہے۔ اس بار بھی نالے سے گھروں اور گلیوں میں اتنا پانی آیا کہ لوگوں کو لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جب لوگ نکاسی آب کے نالوں اور گزرگاہوں کو فلتھ ڈپو بنائیں گے تو پھر وہاں اس طرح کے حالات اور دن تو دیکھنے پڑیں گے۔ ہم مانتے ہیں کہ سارے کام حکمرانوں کے کرنے کے نہیں ہوتے کچھ کام عوام کو خود بھی کرنے پڑتے ہیں لیکن نکاسی آب کے معاملے میں حکمران اور عوام دونوں ایک دوسرے سے ایک نہیں سو سو قدم آگے ہیں۔ نہ ہی حکمرانوں کو اس چیز کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی عوام کو اس کا کوئی ہوش اور شعور۔ حکمرانوں کو سال بھر ندی نالوں کا کوئی خیال نہیں ہوتا اور عوام بھی سال کے بارہ مہینے یا تو ندی نالوں پر تجاوزات قائم کرتے رہتے ہیں یا پھر گھروں کا سارا کچرا ان نالوں اور پانی کے گزرگاہوں میں پھینک کر ان سے فلتھ ڈپو کا کام لیتے ہیں لیکن جب آسمان میں بادل گرجنے لگتے ہیں تو پھر حکمران بھی آنکھیں ملنے لگتے ہیں اور عوام بھی ہائے ہائے شروع کر دیتے ہیں۔ حکمران اور عوام اگر یہی ہائے ہائے سیلاب آنے سے پہلے شروع کریں تو ہمیں بارشوں میں اس طرح کا جانی و مالی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ ہمیں جہاں تک یاد ہے ملک کے کئی صوبوں میں پہلے ہر سال بھل صفائی کا کام ہوتا تھا شائد کہ کہیں اب بھی ہو پر ہمارے ہاں نہ پہلے اس طرح ثواب کا کوئی کام ہوا اور نہ اب ہوتا ہے۔ یہاں نکاسی آب کے نالے تجاوزات کے باعث مٹ چکے ہیں یا پھر کچرے اور گندگی سے بھر چکے ہیں۔ جہاں پانی گزرنے کا راستہ نہ ہو وہاں پھر پانی مکانوں، دکانوں اور آبادیوں میں نہیں جائے گا تو کہاں جائے گا۔ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے جنم لینے والے اس طرح کے واقعات، حادثات اور سانحات کو ہم لوگ فوراً اللہ کا عذاب قرار دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں، یہ اللہ کے عذاب بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ جس طرح کے ہمارے اعمال ہیں ان کی روشنی میں عذاب والی باتیں کم وزن بھی نہیں لیکن یہ اگر اللہ کا عذاب نہ بھی ہو تب بھی یہ ہماری اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ تو ہے۔ جب سے ہم نے قدرت کے نظام کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ہے تب سے ہمیں ایسے سانحات اور واقعات سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ جن راستوں سے پانی قدرتی طور پر بہتا ہے، ہم نے وہاں گا¶ں، گھر، پلازے اور ہوٹل تعمیر کر دیئے ہیں۔ آج ہاﺅسنگ سوسائٹیاں اور میاں خلیفہ برج جیسے لمبے لمبے پلازے تو ہر جگہ ہیں پر نکاسی آب کا معقول نظام کہیں نہیں۔ یہ صرف بٹگرام، سوات، باجوڑ اور بونیر نہیں ہم سب سیلاب کے نشانے پر ہیں۔ قدرت کے بنائے گئے نظام سے چھیڑ چھاڑ اگر ہم نے جاری رکھی تو ہمارے یہ گاﺅں، بستیاں، گھر، مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بچے اسی طرح سیلاب کے ریلوں میں تنکوں کی طرح بہتے رہیں گے۔ 

ٹیگز: