Wed, September 16, 2026

پاکستان.... ہمیشہ زندہ باد! 

پاکستان.... ہمیشہ زندہ باد! 

عالمی برادری سمیت چشمِ فلک نے یہ مناظر کہاں دیکھے ہوں گے کہ جدہ میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے بغل گیر ہی نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ان کی بلائیں لے رہے ہیں تو تہران میں ایران کے وزیرِ خارجہ سیدعباس عراقچی پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہوائی اڈے پر انتہائی پُرتباک اور پر جوش استقبال کر رہے ہیں۔بلا شبہ یہ پاکستان اور پاکستان کے حکومتی اور ریاستی قائدین کی انتہائی عزت افزائی کی بات ہے جس کے بارے میں ماضی قریب میں شاید کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ 
آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران میں جس طرح گرم جوشی سے استقبال ہوا ہے اور ایران کی اعلیٰ ترین قیادت سے ان کی جو ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ سب کچھ بھی ایسا ہے جسے غیر معمولی کہا جا سکتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی کی ایران کی اعلیٰ ترین قیادت سے ملاقاتیں بھی پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے روابط اور دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔ اس تناظر میں کہ پچھلے ہفتے اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے دوران مذاکرات کے پہلے دور سے دو دن قبل ایران نے سعودی عرب میںتیل کی تنصیبات کے ایک بڑے مرکز کو نشانہ بنایا تھا تو پاکستان نے اس پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا تھا۔ کور کمانڈر کانفرنس میں اس پر ایران کی مذمت کی گئی۔ اس کے ساتھ تین چار دن بعد پاکستان نے اپنی فضائیہ کا ایک سکواڈرن اور فوجی دستے سعودی عرب تعیناتی کے لیے روانہ کر دئیے۔ ظاہر ہے کہ یہ اقدامات سعودی عرب کے خلاف ایرانی جارحیت کے مقابلے میں حفظِ ما تقدم کے طور پر کیے گئے ہیں۔ اس طرح ان اقدامات سے ایرانی قیادت کا پاکستان سے بر گشتہ ہونے کا احتمال ہو سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر علی باقر قالیباف کی قیادت میں امریکہ سے مذاکرات کے لیے ایرانی وفد اسلام آباد آیا، مذاکرات میں شریک رہا اور مذاکرات کے اختتام کے دو تین دِن بعد دوبارہ اسلام آباد میںمذاکرات میں شرکت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔ اب چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی کی قیادت میں پاکستانی وفد کا ایران میں اتنی گرم جوشی اور والہانہ پَن سے استقبال ہوا ہے اور اس کے ساتھ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور باہمی خیر سگالی اور گہرے دوستانہ جذبات کا اظہار سامنے آیا ہے تو بلا شبہ اسے پاکستانی حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی، بہترین ڈپلومیسی اور بر وقت صحیح فیصلے کرنے کا مظہر قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایک اور پہلو ایران اور امریکہ کے مابین جاری تنازعات کو حل کرنے میں پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کرنے اور وزیرِ اعظم میا ں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف و تحسین کرنے سے متعلق ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ تہران نے واشنگٹن کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں۔ دونوں فریق جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے قریب ہیں۔ اگر معاہدہ طے پا گیا اور اسلام آباد میں اس پر دستخط ہوئے تو شاید وہاں چلا جاو¿ں۔ پاکستان میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف زبردست شخصیات ہیں۔ دونوں نے مذاکرات میں بہترین کردار ادا کیا۔ میرا خیال ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کر نے کے بہت قریب ہیں اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور رواں ہفتے کے آخر میں ہو سکتا ہے۔
پاکستان معاشی اور اقتصادی میدان میں مشکلات اور اپنے اوپر دباو¿ کو کم کرنے میں بڑی حد تک سُرخرو ہوا ہے۔ اُسے آئی ایم ایف کی طرف سے سٹاف لیول معاہدے کے تحت ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی جہاں راہ ہموار ہوئی ہے وہاں سعودی عرب سے بھی اس کو دو ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو جہاں مستحکم کرنے میں مدد ملی ہے وہاں پاکستان اس پوزیشن میں بھی آ گیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کو اس کے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کو بھی واپس کر سکے۔ ۱۷ اپریل کو جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو پاکستان متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر کی ادائیگی کرنے جا رہا ہے اور ۲۳ اپریل کو متحدہ عرب امارات کے باقی ایک ارب ڈالر بھی ادا کر دئیے جائیں گے۔ 
متحدہ عرب امارات کے حکمران پاکستان کو دباو¿ کا شکار کیے ہوئے تھے کہ وہ سٹیٹ بینک آف پاکستان میں اپنے تین ارب ڈالر کو مزید مدت کے لیے رول اوور کرنے کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ اُلٹا پاکستان کے خلاف ایک طرح کا تحقیر آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ڈیپازٹس واپس کر رہا ہے تو یہ پاکستان کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے لیے ایک مسکت جواب ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو حالیہ ایران و عرب اسرائیل جنگ میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اور ایران نے جس طرح اس کی تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر جگہوں کو نشانہ بنایا ہے اُس سے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کے غرور اور تکبر میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ امارات کے حکمران اپنی قدر افزائی پر شکرگزار ہونے کے بجائے اسے پاکستان کی ایک طرح کی کمزوری اور مجبوری سمجھ کر پاکستان کو جائز مقام دینے کے لیے تیار نہیں تھے، اب انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان بفضلِ تعالیٰ کس مقام اور مرتبے پر فائز ہے اور متحدہ عرب امارات اور ان کے حکمرانوں کی کیا صورتِ حال ہے۔ آنے والے وقتوں میں متحدہ عرب امارات کو مزید اس کا اندازہ ہو جائے گاجب دوبئی میں عیش و آرام کے اڈوں کی رونقیں ہی نہیںماند پڑ جائیں گی بلکہ ان کے کاروباری مراکز بھی ویران ہو جائیں گے۔ 

ٹیگز: