Wed, September 16, 2026

پاکستان ہمیشہ زندہ باد

پاکستان ہمیشہ زندہ باد

کتنے بہادر بیٹے ہیں وہ جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ جویونیفارم آج نصیب ہو ا ہے عمر بھرزندگی اور موت کے درمیان ایک مسلسل جنگ کیلئے پہنایا جا رہاہے ۔ اس کے باوجود ان کے چہروں پر استقامت ٗ جوش ٗخوشی ٗ بے خوفی اور دئیے گئے مقصد کیلئے سب کچھ کرگزرنے کا جذبہ ہے ۔ حالت ِ جنگ میں مرد و زن کیڈٹس کا اپنی ٹریننگ مکمل کرنا اور پاسنگ آوٹ پریڈ میں اپنے ماں باپ اور عزیز و اقارب سمیت شرکت کرنا کتنے دل گردے کا کام ہے۔ یہ کیڈٹس جو آج پاکستان ملٹر ی اکیڈمی سے پاس ہو کر وطن عزیز کی حفاظت کیلئے سب کچھ کر گزرنے کا عز م لے کرمیدان عمل کی جانب رواں دواں ہور ہے ہیں اِن کے نزدیک مال غنیمت یا کشور کشائی نہیں بلکہ وہ لذتِ آشنائی ہے جو دونوںعالم سے مومن کو بیگانہ کردیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر روزانہ ہمارے شہید فوجی افسران اورجوانوںکی تصویروں نے وطن ِ عزیز کے جوانوں کو جذبہ شہادت سے معمور کر دیا ہے ۔ عوام اپنی بہادر سپاہ کے ساتھ ہندوستان اور اُس کی ہر پراکسی کے ساتھ نمٹنے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔ فیلڈمارشل آرمی چیف جناب عاصم منیر کا ان بہادر بیٹوں کی پاسنگ آوٹ پریڈ کا جائز ہ لینے کیلئے پاکستان ملٹری اکیڈمی پہنچنا جہاں ملکی اورغیر ملکی مہمانوں کی ایک بڑی تعدا د کیڈٹس کے عزیز اقارب کے علاوہ بھی موجود تھی ٗ لائق تحسین ہے ۔ اس پاسنگ آئوٹ پریڈ کے موقع پر فیلڈ مارشل کا خطاب اس حوالے سے بھی تاریخی تھا کہ حال ہی میں بزدل دشمن بھارت کو دنیا بھر میں ذلیل و رسواء کرنے کے بعد افغانستان کے جانب سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا پیچھے کرتے ہوئے افواج پاکستان نے بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کی ۔اُن کی چوکیاں برباد کیں اور افغان حکومت جس کو عرصہ دراز سے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو پاکستان میں داخل ہو کرکارروائیاں کرنے سے روکنے کا دوستانہ پیغام دیا جا رہا تھا لیکن افغان حکومت نے انہیںروکنا تو کیا تھا الٹا وہ بھارت کے ساتھ مل کران دہشتگردوں کی سرپرستی کا بھارتی فریضہ سرانجام دینا شروع ہو گئی جس کا منطقی نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا ۔ ممکن ہے کہ افغان اپنی کسی تہذیبی نرگسیت کا شکار ہوں اور انہیں یہ بھی زعم ہو کہ افغانستان کو روس اور امریکہ فتح نہیں کرسکا لیکن ایسے واہیات اور فضول نعرے ان کے سامنے لگائیں جنہوں نے انہیں صرف کتابوں میں پڑھا ہے لیکن پاکستان کے سامنے ان کی حیثیت بھگوڑوں سے زیادہ نہیں ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک بار پھر بھارتی رافیل طیاروں کو گرانے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی کو شکست دی گئی ہے ۔پاکستان اپنے دشمن کے سامنے زیادہ بہادری ٗ بہترین تربیت اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ آیا جس کا نتیجہ ساری دنیا نے دیکھا۔ بلاشبہ بھارت کے خلاف فتح نے قوم کو متحد کیا ہے اور پاکستان کے نوجوانوں میں یہ اعتماد بڑھ کر سامنے آیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کا ایک لازمی عنصر ہیں ۔ہم اللہ کی رحمت ٗ مدد اورعوامی تعاون سے ہمیشہ سرخرو رہیں گے اور دشمن کبھی پاکستان کے ایک انچ پر بھی قابض نہیں ہو سکے گا ۔ فیلڈ مارشل نے پاکستانی عوام کی بہادری کو سلام پیش کیا اور ہر سپاہی، ملاح، ایئر مین، بہادرمرد، خواتین، بچے اور بوڑھے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیااُن پر فخر ہونے کا کھلا اظہار کیا۔ آزمائش کی اس گھڑی میں غازیوں ٗ شہیدوں ٗ قومی قیادت ٗ بیوروکریسی ٗ علماء سائنسدانوں ٗ میڈیا ٗ اکیڈمی اور سب سے زیادہ پاکستان کے نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔یقینا پاکستانی قوم اپنے شہداء اور اُن کے اہل ِ خانہ کی مقروض ہے جن کی وجہ سے ہم آزاد ی کا لطف اٹھا رہے ہیں ۔ بلاشبہ افواج ِ پاکستان کیلئے اپنے لوگوں کی حفاظت اور سلامتی سے زیادہ مقدس اور کچھ نہیں اور افواج نے اپنی اس ذمہ داری کو ہمیشہ پورا کیا ہے۔ بھارت دوبارہ ایسی ناپاک جسارت کرے گا تو اسے پہلے سے زیادہ سخت جوا ب دیا جائے گا خواہ اُس کیلئے ہمیں فیصلہ کن جنگ لڑنا پڑے۔ پاکستان اپنے دوستوں اور دشمنوں سے باخبر ہے اور ہم اُن کے ارادے خاک میں ملانے کی مکمل صلاحیت اور جذبہ رکھتے ہیں ۔ پاکستان کے عوام اپنے افواج سے محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ افواج کے شانہ بشانہ رہے ہیں۔ پاکستان کا وقار دنیا میں بلند ہو رہا ہے اور مجھے جنرل عاصم منیر کی طویل تقریر سن کر یہ حوصلہ تو ہوا کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اور یہ کسی اندرونی یا بیرونی دشمن کی خواہش کے مطابق تو نہیں چل سکتا ۔ میں اس بات پر کلیئر ہوں کہ افغانوں کے ساتھ ہر طرح کے مذاکرات ناکام ہو ں گے کیونکہ یہ مذاکرات درحقیقت بھارت کے ساتھ ہیں اور بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور اکھنڈ بھارت کاخواب ابھی اُسے افواج ِ پاکستان کے ہاتھوں مزید ذلیل کرائے گا۔ افغانستان صدیوں نہیں ہزاریوں سے پرانے جنگجوئوں اورجدید دہشتگردوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہے لیکن چند دہشتگرد مسلمانوں کو نیل کے ساحل سے لے کر تابحاک ِکاشغر اکھٹے ہونے سے نہیں روک سکتے ۔ہم ان سے آج لڑ لیں یا کل آخری حل افغانیوں کی ٹھکائی کے علاوہ میرے نزدیک اورکوئی نہیں کہ یہ اُن کی خواہش بھی ہے ۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد تھا اورہمیشہ زندہ بادرہے گا ۔ 
اتوار کو بہت عرصہ بعد پارک ویو سوسائٹی لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ جی وہی سوسائٹی جہاں راوی میں شدید سیلاب کے بعد پی ٹی آئی کے تمام یوٹیوبرز ٗ ہینڈلرز اور سوشل میڈیا پیج چلانے والے پہنچ کر اپنا روایتی منفی کردار ادا کر رہے تھے۔ اب وہاں کوئی نظر نہیں آیا کیونکہ سیلاب تو گزر گیا لیکن عبد العلیم خان نے پارک ویو کے رہائشیوں سے جو وعدے کیے اُن کی تکمیل روزانہ کی بنیاد پر ہو ر ہی ہے ۔ دریا کنارے آسمان سے باتیں کرتا بند باندھ دیا گیا ہے اور اب تو طوفان نوح ہی آئے تو اس کا نقصان ہو سکتا ہے ۔عبد العلیم خان یقینا پہلا اورآخری شخص ہے جس نے تمام وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے لوگوںکے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جو اب تک جاری ہے ۔ لوگ چیک وصول کرنے کے بعد شکریے کے ویڈیو کلپس بھی اپنی خوشی سے بنوا رہے ہیں۔ عبد العلیم خان نے دریا کے ساتھ بند باندھنے کے وعدے کے ساتھ اُس پر پارک ویو کے رہائشیوں کیلئے جوگنگ ٹریک بنوانے کا بھی وعدہ کیا تھا جو پایہ تکمیل کو پہنچا چکا ہے لیکن اب وہاں کوئی یوٹیوبر نہیں جو بتائے کہ اُس کے منفی پراپیگنڈا کے بعد بھی عبد العلیم خان نے اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔ سوسائٹی کے حسن میں اضافہ کیا جا رہے لیکن خوبصورتی کو تو ایک طرف رکھیں عبدالعلیم خان نے جس انسان دوستی سے وعدے کی تکمیل کی ہے وہ لائق تحسین ہے۔

ٹیگز: