واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ اب اچھے تعلیمی معیار پر پورا نہیں اُترتا، اس لیے اسے مزید سرکاری فنڈنگ نہیں دی جانی چاہیے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ ہارورڈ اب دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں شمار نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ نفرت اور بے وقوفی سکھا رہی ہے۔
یہ کشیدگی اُس وقت بڑھی جب ہارورڈ نے حکومت کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلوں میں مداخلت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے اب یونیورسٹی کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ 2.2 ارب ڈالر کی وفاقی فنڈنگ پہلے ہی روک دی گئی ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ہارورڈ اپنی داخلہ پالیسی، اساتذہ کی بھرتی، اور تعلیمی پروگرامز میں تبدیلی کرے اور حکومت کو اپنے تعلیمی شعبوں کا آڈٹ کرنے دے۔
دوسری طرف، ہارورڈ کے صدر ایلن گاربر نے کہا ہے کہ یونیورسٹی اپنی آزادی اور آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی کئی یونیورسٹیاں اسرائیل کے خلاف طلبہ مظاہروں کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں، جن پر ’یہود مخالف‘ جذبات پھیلانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔