پاکستان بنے 77 برس ہونے کو آئے ہیں، کہا تو یہ گیاتھا ایک قوم ہو گی جس میں باہمی مساوت کے اصولوں پر زندگی گزاری جائے گی قانون اور انصاف سب کے لیے یکساں ہو گا، اس ملک کا ہر شہری پاکستانی شہری ہوگا اور سب کے حقوق برابر ہوں گے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا ، عوام اپنی سوچ اور مزاج میں تو تقسیم تھے ہی انہیں سیاسی و مذہبی تقسیم میں بھی الجھا کر رکھا دیا گیا۔
جبکہ فرقہ واریت میں بھی اضافہ ہوا اور اب تو سیاست میں بھی عقیدہ پرستی عروج پا رہی ہے۔ ہم مجموعی طور پر اس قدر منقسم گروہ بن چکے ہیں کہ آج بڑے سے بڑے دانشور کی بھی کسی بات پر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، قانون سازی میں بھی یہ سوچ مشکلات پیدا کر رہی ہے گروہ اور جتھے اتنے طاقت ور ہیں کہ وہ ریاستی پالیسوں اور قانون سازی میں مداخلت کرتے پائے ہی نہیں جا رہے بلکہ اپنی بات منوانے کے لئے اپنی طاقت کا اظہار کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ جس کے مظاہرے ہمیں جگہ جگہ نظر آ رہے ہیں،ہجوم اٹھتا ہے نعرہ لگاتا اور چڑھ دوڑتا ہے نتیجہ خواہ قومی معیشت کے نقصان یادنیا کے ساتھ تعلقات میں خرابی کی صورت نکلے ان جتھوں کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم قومی سطح پر ایک قوم کی پہچان کا حامل معاشرہ بن کر دنیا میں جانے جاتے لیکن ہم ایک منقسم گروہ یا ہجوم کے طور پر اپنی پہچان بنا چکے ہیں جس کی کوئی کلْ سیدھی نہیں۔ فرقہ واریت بھی مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ اب یہی معاملہ نصاب کے مرتبین کو در پیش ہے اٹھارویں ترمیم سے پہلے نصاب سازی کا اختیار وفاق کے پاس تھا۔ اٹھارویں ترمیم میں اسے صوبوں کے سپرد کر دیا۔ لیکن 18ویں ترمیم کے بعد سے چونکہ تعلیم ایک صوبائی موضوع بن گیا تو پورے ملک میں ایس این سی کا نفاذ تو نہیں ہو سکا تاہم گزشتہ دور حکومت میں بنا تحقیق اور مشاورت کئے صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سکولوں میں یہ نصاب رائج کر دیا گیا۔
یکساں نصاب تعلیم کو نافذ کرنے کے ارادے کے پیچھے کارفرما سوچ یہ تھی کہ تمام سرکاری و نجی سکول، حتیٰ کہ دینی مدارس یہ یقینی بنا سکیں کہ ’اعلیٰ معیار کی تعلیم کے لیے بچوں کو مساوی اور منصفانہ مواقع فراہم ہونے چاہیے۔‘طلبا میں رٹے رٹائے علوم کی بجائے تنقیدی و تخلیقی سوچ پیدا ہو۔
اگر بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک اچھا قدام تھا ،لیکن بد قسمتی سے اسے بناتے وقت یا ترتیب دیتے وقت بہت ساری باتوں کا خیال نہیں رکھا گیا بجاے اس کے یہ قومی وحدت پیدا کرتا اس نصاب نے تقسیم ،تفریق اور خواتین کے حوالے سے بے شمار ابہام پیدا کر دیئے، جبکہ ملک کی اقلیتوں کے تحفظات میں بھی اضافہ ہوا۔
ملکی سطح پر اقلیتوں کی طرف سے کی جانے والی شکایات کے علاوہ نئے نصاب کے معیار پر اور بالخصوص ان کتب میں خواتین کی نمائندگی اور عکاسی اور مواد کے بارے میں ماہرین اور والدین، دونوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا ، حکومتی ذمہ داروں نے یہ بات تسلیم کر تے ہوئے کہ نصاب کے مرتب کرتے وقت کچھ خامیاں رہ گئی تھیں جنہیں حکومت یکساں نصاب کے تحت شائع ہونے والی کتابوں پر نظر ثانی کرنے جا رہی ہے تاکہ خواتین اور اقلیتوں کی ان کتب میں عکاسی کے حوالے سے والدین اور ماہرین تعلیم کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔ لیکن یہ سب بھی تک نہ ہو سکا۔
ادھر یکساں قومی نصاب کے حوالے سے کام اور آگاہی فراہم کرنے والے اداروں اور افراد نے کچھ عرصہ پیشتر ایک سیمینار، بعنوان "سکولوں کا نصاب کیسے تیار ہو رہا ہے" میں نصاب تعلیم میں موجود خامیوں اور آئینی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا میں مطالبہ کیا ہے کہ نصابِ تعلیم میں مذہبی مواد شامل کرنے کے فیصلے سے متعلق ماہرین کی آراء کو اہمیت دی جائے، اور مزید برآں مذہبی مواد کے طلباء ، اساتذہ اور نظام تعلیم پر اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے۔
کہا جا رہا ہے کہ حکومت پنجاب تعلیمی نقصانات کو مسلسل نظر انداز کر رہی سکولوں میں سائنس، ریاضی اور سماجی علوم کی تعلیم کا دائرہ کم ہو رہا ہے حکومت، آئین پاکستان کے آرٹیکل 20، (1)22، اور 25اے، کو نصاب تعلیم کی تیاری کے لئے رہنما اصول بنائے۔ قومی نصاب پر کام۔کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اقلیتی طلباء کو انکے اپنے مذہب کی تعلیم دینے کے لئے اساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں، جیسا کہ یکساں قومی نصاب تعلیم میں وعدہ کیا گیا ہے۔ضرورت اس امر کی یکساں قومی نصاب تعلیم کی بجائے حکومت کو کم از کم معیار کو یقینی بنا نے پر توجہ دینی چاہیے تھی کہ اپنے بچوں کو ہم لازمی طور پر کس حد تک تعلیم سے آراستہ کریں گے جدید دور کے مطابق نصاب ترتیب دینا وقت کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ طبقاتی نظام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر آپ کیسے یکساں قومی سوچ کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ہمارا مسئلہ یکساں نصاب سے زیادہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کا ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور جو تمام مسائل کی جڑ ہے۔