ایک سیاسی جماعت کی طرف سے لیوی کے خلاف دھرنے پر میری تجویز ہے کہ ان پر عمل کر کے وزیراعظم آسانی سے پٹرول لیوی ختم کرسکتے ہیں۔ مالی سال 27-2026 میں پٹرولیم لیوی کا ہدف 1,677 ارب روپے ہے، پٹرول کی قیمت کا مسئلہ اب صرف پٹرول کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ مہنگائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور عام آدمی کے ماہانہ بجٹ کا مسئلہ بن چکا ہے۔
پٹرولیم لیوی: اصل اعداد کیا ہیں؟ وفاقی بجٹ 27-2026 کے مطابق حکومت نے ایف بی آر ٹیکس ریونیو کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا ہے، جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5.336 ٹریلین روپے ہے۔ کل وفاقی وسائل کا ہدف تقریباً 18.771 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔ اسی بجٹ میں پٹرولیم لیوی سے 1,677 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پٹرولیم لیوی گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔ جولائی تا مارچ 26-2025 میں پٹرولیم لیوی سے حکومت نے 1,205 ارب روپے وصول کیے تھے، جبکہ پورے مالی سال کے لیے نظر ثانی شدہ ہدف 1,498 ارب روپے تھا۔ 15 ستمبر 2026 کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4.42 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا، جس کے بعد پٹرول 380.24 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 409.42 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ ایک ٹرک کا ڈیزل مہنگا ہوگا تو مال برداری مہنگی ہوگی۔ مال برداری مہنگی ہوگی تو آٹا، سبزی، پھل، دودھ، تعمیراتی سامان اور دیگر اشیا مہنگی ہوں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا سوال اگر 1,677 ارب روپے پٹرولیم لیوی سے نہ آئیں تو یہ رقم کہاں سے آئے گی؟۔ یہ رقم ایک ہی جگہ سے نہیں، دس مختلف معاشی ذرائع سے پیدا کی جاسکتی ہے۔ اور ان میں سے بعض ذرائع ایسے ہیں جہاں حکومت پہلے ہی بڑی رقم چھوڑ رہی ہے۔ سب سے پہلے مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹیں دی ہوئی ہے انہیں ختم کیا جائے، ایف بی آر کے مطابق مختلف ٹیکس استثنا، رعایتوں، زیرو ریٹنگ اور خصوصی ٹیکس سہولتوں کے باعث 26-2025 میں حکومت کی متوقع ٹیکس آمدن میں تقریباً 2,352.81 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ پہلا حل تو یہ ہے وزیراعظم ایک
Tax Expenditure Review Commission قائم کریں۔ ہر بڑی ٹیکس چھوٹ کے سامنے تین سوال ہوں: 1۔ اس سے خزانے کو کتنے ارب کا نقصان ہے؟۔ 2۔ اس کے بدلے کتنے روزگار پیدا ہوئے؟ 3۔ اس سے برآمدات یا سرمایہ کاری میں کتنا اضافہ ہوا؟۔
جس رعایت کا کوئی معاشی جواز نہ ہو، اسے مرحلہ وار ختم کیا جائے۔ اگر صرف ٹیکس رعایتوں کا ایک محدود حصہ بھی واپس حاصل کرلیا جائے تو پٹرولیم لیوی کم کرنے کے لیے بڑا مالیاتی راستہ نکل سکتا ہے۔
دوسرا شعبہ: ایف بی آر کا موجودہ نظام جسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے، 2026-27 میں ایف بی آر کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے ہے، جو 26-2025 کے نظر ثانی شدہ 12.983 ٹریلین روپے سے تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ لیکن یہاں اصل مسئلہ صرف ٹیکس کی شرح نہیں۔ اصل مسئلہ Tax Base ہے۔ ایف بی آر کو انہی لوگوں سے مزید ٹیکس نہیں لینا چاہیے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں۔ نئے ٹیکس دہندگان تلاش کیے جائیں۔ تیسرا شعبہ جہاں سے ریوینیو حاصل کیا جا سکتا ہے وہ رئیل اسٹیٹ ہے۔ اصل توجہ ہونی چاہیے: بڑی کمرشل جائیدادوں پر، بڑے پلازوں پر، مہنگی غیر پیداواری زمین پر، بڑے پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر، غیر معمولی کیپٹل گین پر اور حقیقی مارکیٹ ویلیو سے کم ظاہر کی جانے والی جائیدادوں پر۔
اگر کوئی شخص کروڑوں روپے کی پراپرٹی خریدتا ہے تو حکومت کے پاس یہ جاننے کا حق ہونا چاہیے کہ اس رقم کی آمدن کہاں سے آئی۔ پٹرول خریدنے والے کا ڈیٹا حکومت کے پاس ہے، تو کروڑوں کی جائیداد خریدنے والے کا ڈیٹا بھی ہونا چاہیے۔ چوتھا شعبہ ریونیو، بڑی زرعی آمدن ہے، پاکستان کی FY2025-26 معیشت میں زراعت نے 2.89 فیصد، صنعت نے 3.51 فیصد اور خدمات کے شعبے نے 4.09 فیصد نمو کی۔ مجموعی GDP نمو 3.7 فیصد رہی۔ زراعت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا مطلب چھوٹے کسان کو مزید بوجھ دینا نہیں۔ بلکہ حکومت کو دو الگ طبقات بنانے چاہئیں:
چھوٹا کسان = سہولت۔ بڑی تجارتی زرعی آمدن = مناسب ٹیکس۔ بڑے زرعی کاروبار، کمرشل فارمز اور غیر معمولی زرعی آمدن کو جدید ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے دستاویزی بنایا جائے۔
پانچواں اہم شعبہ: اسمگلنگ کی روک تھام ہے
سمگلنگ صرف کسٹمز ڈیوٹی کا نقصان نہیں۔ یہ مقامی صنعت کو بھی تباہ کرتی ہے۔ اگر غیر قانونی طور پر آنے والا سگریٹ، کپڑا، الیکٹرانکس، پٹرول یا دوسری اشیا قانونی کاروبار کا مقابلہ کرے گی تو ٹیکس دینے والا کاروباری شخص پیچھے رہ جائے گا۔ لہٰذا حکومت کو سرحدی اسمگلنگ کے خلاف ڈیجیٹل ٹریکنگ، اسکیننگ، بینکنگ ڈیٹا اور اداروں کے مشترکہ آپریشن کا نظام بنانا چاہیے۔
چھٹا شعبہ جہاں سے ریوینیو حاصل کیا جا سکتا ہے، توانائی کے شعبے میں ضائع ہونے والی رقم بھی روکنا ہو گی۔
ساتواں شعبہ: سرکاری اخراجات میں کمی، وفاقی بجٹ 27-2026 میں کل اخراجات 18.771 ٹریلین روپے دکھائے گئے ہیں۔ ان میں 8.054 ٹریلین روپے سود/مارک اپ ادائیگیوں کے لیے مختص ہیں، جبکہ دفاع کے لیے 3.000 ٹریلین روپے، پنشن کے لیے 1.169 ٹریلین روپے اور سبسڈیز کے لیے 1.091 ٹریلین روپے رکھے گئے ہیں۔ صرف سود کی ادائیگی کل وفاقی بجٹ کے تقریباً 43 فیصد کے برابر ہے۔ یہ پاکستان کے مالیاتی مسئلے کی اصل سنگینی ہے۔ اس لیے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی بحث کو صرف پٹرول تک محدود نہیں کرنا چاہیے اصل سوال قرض، سود، حکومتی اخراجات اور کمزور مالیاتی ڈھانچے کا ہے۔
آٹھواں اہم شعبہ ہے آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت, یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کو ٹیکس وصولی کے بجائے آمدن پیدا کرنے کی پالیسی اپنانا چاہیے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی کی برآمدات تقریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ فری لانسرز کی آمدن تقریباً 1.7 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ نواں شعبہ: معدنیات۔ پاکستان کے معدنی وسائل کو صرف خام مال نکالنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ نعدنیات کی مقامی پروسیسنگ ریفائنگ اور ویلیو ایڈیشن کی جائے۔ دسواں شعبہ: برآمدات۔ پاکستان کی معیشت FY2025-26 میں 3.7 فیصد بڑھی، مگر حکومت کا ہدف 4.2 فیصد تھا۔ یہ معمولی فرق نہیں۔ ہمیں 3 سے 4 فیصد کی معیشت سے آگے بڑھ کر 5، 6 اور 7 فیصد کی پائیدار نمو کی طرف جانا ہوگا۔ ٹیکس بڑھا کر جی ڈی پی کو نہیں بڑھایا جاسکتا۔ جی ڈی پی کو بڑھا کر ٹیکس ریونیو بڑھایا جاسکتا ہے۔ یہ بنیادی فرق حکومت کو سمجھنا ہوگا۔