Wed, September 16, 2026

اندرونی سہولت کاروں کا خاتمہ ضروری

اندرونی سہولت کاروں کا خاتمہ ضروری

اسرائیل کی جانب سے فلسطین ، حماس پر جاری ننگی جارحیت جس میں نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہے، ہزاروں جانیں گئیں ننھے بچے اپنے والدین سے محروم ہوگئے ، وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں نہائت ہی پرزو ر الفاظ میں دنیا پر زور دیا تھا کہ اسرائیل کو اس خون ریزی سے روکا جائے انہوںنے اس جارحیت میں ہلاک ہونے والے بچوںکا ذکر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ننھے بچے کا جنازہ بہت بھاری ہوتا ہے ، انسانی قتل عام کا روکنا مہذب دنیا کا اولین فرض ہونا چاہئے ، صدر ٹرمپ کی کوششوںسے اس قتل عام کو روکنے کیلئے اقداما ت ہوئے اور تمام وہ ’’اسٹیک ہولڈرز‘‘جو کسی نہ کسی طرح اسرائیل اور حماس پر اپنا اثر رسوخ رکھتے تھے صدر ٹرمپ کے عرب امن منصوبے پر ترکی ، اردن، قطر، مصر اور بطور ضمانت کنندہ صدر ٹرمپ نے اس معاہدے پر دستخط کئے ، اس معاہدے میں براہ راست اسرائیل ، یا حماس کے دستخط نہیں بلکہ دونوں پر متحارب اثر رسوخ رکھنے والوں نے دستخط کئے ،اور ان کے دستخطوں نے معاہدے کو بین الاقوامی قانونی حیثیت اور نفاذ کی صلاحیت فراہم کی۔ میزبان مصر ہمیشہ اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان اہم علاقائی ثالث رہا ہے، خاص طور پر حماس (جس کی سرحد رفح کے راستے مصر سے ملتی ہے)۔ مصر سرحدی کنٹرول، قیدیوں کے تبادلے، اور غزہ میں امداد کے داخلے کی ضمانت دے گا۔ قطر طویل عرصے سے حماس کے اہم مالی معاون اور سفارتی تعاون کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ اس کے دستخط نے اس بات کو یقینی بنایا کہ حماس اس منصوبے پر بھروسہ کرے گی اور اس کی تعمیل کرے گی، ترکی سیاسی اثر و رسوخ اور اسلام پسند صف بندی میں اپنا مقام رکھتا ہے ترکی فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہے اور حماس کی جلاوطن قیادت کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات ہیں۔ اردن اسلامی سائٹس اور علاقائی استحکام کا نگران اردن کا اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ ہے (1994 سے) اور وہ یروشلم کی مسجد الاقصیٰ کا محافظ ہے۔ امریکی صدر نے بطور عالمی ضامن کے دستخط کئے۔ ایک طرف عالمی کوششوںکی وجہ سے فی الحال علاقے میٰں جاری قتل اور تباہی رک گئی ہے مگر ان عقل کے اندھوںکا کیا کریں جنکی نظر حماس ، اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر نہیں انہیں پتہ نہیںکہ مزید کتنی قتل وغارت رک گئی وہ پاکستان میں اس مسلئے کو لیکر سڑکوںپر ، اور شہروں میں پاکستانی عوام کو مذہب کے نام پر بھڑکا رہے ہیں اور ایسے مسائل لیکر معصوم عوام کو بے وقوف بناکر مذہب کے نام پر سڑکوںپر لے آئے جس کا سارے فسانے میں کہیں ذکر نہیں پاکستان میںحالیہ ہفتے میں مظاہرے (''لبیک یا اقصیٰ'') غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ حامی چاہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت اسرائیل اور اس کے اقدامات کے خلاف سخت موقف اپنائے۔وہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے باہر امریکی پالیسیوں اور اسرائیل کی مخالفت حمایت کی علامت کے طور پر ریلی نکال رہے ہیں انہیں کون بتائے کہ وزیراعظم شہباز شریف یا حکومت پاکستان نے کب اسرائیل کی حمائت کی؟؟ یہ لوگ آتشیں اسلحہ کے ساتھ لیس ہوکر قانون نافذ کرنے والے معصوم لوگوں کو قتل اور زخمی کر رہے ہیں کیا یہ حکومت کا فرض نہیںکہ انہیں روکے ؟ اور تادیبی اقدمات کرے ، دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان میںافراتفری پھیلانے والے کے مقامی حمائت کار ہیں ، ایک طرف سرحدوںپر مسلح افواج پاکستان کی سرحدوںپر خوارج کے خلاف نبردآزما ہے اور یہ لوگ ملک کے اندر افراتفری پھیلارہے ہیں، یہ مظاہرے اس وقت شروع کئے گئے جب پاکستان پر رات کے اندھیرے میں بھارت کی پشت پناہی میں افغانستان نے پاکستان کی سرحدوںپر حملہ کیا، نمک حرامی کا مظاہر یہ ہے کہ آج تک کی گئی اس میں ستر ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید کیا گیا، یہ پاکستانی نظام کی غلطی ہے کہ کوئی بھی پاکستان میں گھس کر کاروبار شروع کردے اور جب ان سے کہاجائے واپس جانے کا تو پاکستان کے خلاف مسلح جددجہد شروع کردے ،حالیہ واقع اور افغانستان اور پاکستان میں ناچاقی کی اہم وجہ یہ ہی ہے ۔ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین گھس بیٹھیوں کو کیونکر برداشت کرے۔ مئی میں پاکستان نے بھارت کو جو دھول چٹائی جسکے نتیجے میں دنیا بھر میں بھارت کے دوست اس سے منہ موڑ گئے ،بھارت نے اب سہارا لیا ہے ، افغانستان کی طالبان حکومت کا ، بھارت جو گزشتہ ستتر سال سے کشمیری عوام پر دہشت گردی کررہا ہے، یہاں تک کہ کینیڈا میں بھی دہشت گردی کے سلسلے میں معروف ہے وہ ا ب افغانستان کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف معاہدہ کررہا ہے ، اورجھوٹے ہندوستانی میڈیا کے مطابق پاکستان دہشت گردی کا بہت بڑا نیٹ ورک ہے یہ نہائت بے شرمی کا مظاہرہ ہے افغانیوںاور ہندوستان کا ، دونوںممالک کے سابقہ موقف میں اہم تبدیلی کے ساتھ ہندوستان نے دہلی میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی میزبانی کی۔ یہ دورہ ہندوستان اور طالبان حکومت کے درمیان 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے پہلی اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔  بات چیت میں سفارتی، تجارتی اور اقتصادی 
تعلقات کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں براہ راست پروازیں شامل ہیں۔دورے کے دوران، طالبان نے جموں و کشمیر پر ہندوستان کی خودمختاری کی حمایت کا اظہار کیا، ملاقات میں ہندوستان نے پاکستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کی مسلسل مذمت کی ہے۔ ستمبر 2025 میں، ہندوستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں مقیم دہشت گرد گروہوں، جیسے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو اپنی سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے۔اکتوبر 2025 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد، ہندوستان نے علاقائی استحکام اور امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، افغانستان کی خودمختاری کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اس عمل کوچین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا مقابلہ کرنے سے تعبیر کی جاسکتا ہے ۔ اسی صورتحال میں بیرونی دہشت گردوں کے ملک میں موجود سہولت کاروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے ایسے میں سرحد کے نئے وزیراعلیٰ اور انکی جماعت افغانستان کی حمائت کا اعلان کرتے ہیں، اور غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوںکے ملک سے نکالنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

ٹیگز: