Wed, September 16, 2026

ڈگریوں کے ہجوم میں ہنر کا قحط

ڈگریوں کے ہجوم میں ہنر کا قحط

یہ ملک شاید اْن چند بدقسمت خطوں میں شامل ہے جہاں تعلیم کا شعبہ ذہنی اور معاشی ترقی سے زیادہ دباؤ کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہاں علم کو روزگار سے اور روزگار کو عزت سے الگ کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے محض خواب بیچنے والی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ان فیکٹریوں سے ڈگریاں تھامے نکلتے ہیں مگر ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔ نہ ہنر، نہ رہنمائی، نہ سمت۔ بس ایک کاغذ کا ٹکڑا ، جس پر "بی اے، ایم اے، ایم فل, پی ایچ ڈی"لکھا ہوتا ہے، جیسے معاشرہ اْسے جادو کا تعویذ سمجھ کر روزگار کی ضمانت دے گا۔یہ قوم کتنی عجیب ہے،ہم ڈاکٹر بننے کا خواب اس وقت سے دیکھتے ہیں جب گھر میں کوئی بزرگ بیمار ہوتا ہے اور انجینئر کا تب جب پنکھا خراب ہو جاتا ہے۔ کسی نے کبھی یہ خواب نہیں دیکھا کہ بچہ ایک ہنرمند بنے، ایک کاریگر، ایک مکینک، ایک شیف، ایک ٹیکنیشن، ایک ڈیزائنر کیونکہ یہاں ہنر کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے نوجوان بے روزگار کیوں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ قابلِ روزگار کیوں نہیں؟کیونکہ ہمارا پورا تعلیمی ڈھانچہ "رٹّا لگاؤ، نمبر لاؤ، نوکری پاؤ"کے فارمولے پر کھڑا ہے۔
 اس نظام میں سوچنے والے نہیں، یاد رکھنے والے کامیاب ہیں۔ اس میں سوال اٹھانے والے بدتمیز کہلاتے ہیں۔ یہاں بچے کی تخلیقی صلاحیت کا گلا اس وقت گھونٹ دیا جاتا ہے جب وہ پہلی بار کتاب کے حاشیے پر کوئی الگ خیال لکھتا ہے۔ہم نے تعلیم کو فیشن بنا دیا ہے۔میٹرک کے بعد کالج، کالج کے بعد یونیورسٹی اور یونیورسٹی کے بعد بے بسی۔ ہزاروں نوجوان پنجابی، فلسفہ، عربی، سرائیکی، یا سوشیالوجی میں ماسٹرز کرتے ہیں مگر ان کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے، لیکچرر شپ اور جب وہ نہیں ملتی، تو باقی زندگی احساسِ ناکامی میں گزرتی ہے۔ یہ مضامین بْرے نہیں مگر ان کی تدریس اور روزگار کا کوئی متبادل نظام نہیں۔ حکومت کے پاس نہ سمت ہے نہ وژن۔کبھی کسی وزیر تعلیم نے سوچا کہ ہر میٹرک کے بعد ایک ہنر لازمی قرار دیا جائے؟ بچہ چاہے سائنس 
پڑھ رہا ہو یا آرٹس، اْسے کم از کم ایک عملی مہارت دی جائے؟گرافکس، کمپیوٹر ، فوٹوگرافی، شیف، الیکٹریشن، کارپینٹر، یا کوئی چھوٹا کاروبار، کچھ بھی مگر نہیں۔ یہاں نصاب میں آج بھی وہی گھسے پٹے اسباق ہیں جن سے کوئی مستقبل نہیں بنتا۔
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں "ووکییشنل ایجوکیشن" کو قومی پالیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جرمنی، جاپان، چین سب نے صنعت و تعلیم کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ ہمارے ہاں البتہ تعلیم ایک علیحدہ جزیرہ ہے اور معیشت ایک دوسرا۔ اس کے درمیان کوئی پْل نہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود کسی کام کے نہیں سمجھے جاتے یعنی تعلیم عام نہیں ہوئی بلکہ بے معنی ہوئی ہے۔ڈگری یافتہ ہاتھ بے کار ہیں جبکہ کام کی کمی نہیں۔ ہنرمند مزدور ناپید ہیں مگر ماسٹرز کی قطاریں طویل تر۔ ایک طرف سی این سی مشینیں، سولر پینل اور ڈیجیٹل مارکیٹ کی مانگ ہے، دوسری طرف ہمارے اب بھی طلبہ کو غیر علمی نظریات سمجھانے میں مصروف ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ آج کے دور میں خودی کیسے زندہ رکھی جائے۔مدارس بھی اس دوڑ سے الگ نہیں۔ وہاں بھی نظام فرسودہ ہے کوئی نہیں سوچتا کہ یہ بچے جب عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو ان کے ہاتھوں میں صرف سند ہوگی، روٹی نہیں۔ کاش وہاں حفظ کے ساتھ ساتھ کسی فنی تربیت کو بھی لازمی کر دیا جائے۔ اگر ہر عالم ایک ہنرمند بھی ہو، تو وہ کسی کے دست نگر نہیں رہے گا۔
پالیسی بنانا حکومتوں کا کام ہے، مگر نیت اگر "سیلفی" اور "سوشل میڈیا بیانات" تک محدود ہو تو پھر یہ خواب ہی رہتا ہے۔ ہر سال دو، تین، چار لاکھ ڈاکٹر، انجینئر، ایم بی اے اور ایم فل فارغ التحصیل ہو کر نوکری ڈھونڈنے نکلتے ہیں اور نظام انہیں واپس گھر بھیج دیتا ہے۔یہ وہ معاشرہ ہے جو بچے کو پیدائش کے وقت ہی خواب بیچ دیتا ہے مگر پورا ہونے کا موقع نہیں دیتا۔تعلیم کی بنیاد مقصد پر ہوتی ہے۔ جب مقصد صرف نوکری بن جائے، تو علم غلامی کا دوسرا نام بن جاتا ہے۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو بچے کو پڑھانے کے ساتھ کام کرنا بھی سکھائے تاکہ جب وہ ڈگری لے، تو وہ محض ایک "امیدوارِ نوکری"نہیں بلکہ "خود روزگار پیدا کرنے والا فرد" ہو۔کبھی کبھی سوچتی ہوں اگر کسی دن کوئی حکومت واقعی عوام کے لیے پالیسی بنا دے،اگر نصاب میں"اسکلز " کو "نمبر" سے زیادہ اہمیت مل جائے اگر یونیورسٹیوں کے باہر لگے "پاس آؤٹ" بینر کے ساتھ "کامیاب کاروباری نوجوان" کی فہرست بھی لگنے لگے تو شاید یہ ملک واقعی بدل جائے۔مگر فی الحال تو منظر یہی ہے ،تعلیمی ادارے ہر سال خوابوں کی فصل کاٹتے ہیں اور سماج ان خوابوں کو روند دیتا ہے۔اساتذہ نمبر بانٹتے ہیں، حکومت وعدے بانٹتی ہے اور نوجوان خالی ہاتھ بھٹکتے ہیں۔یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں سب شریک ہیں اور کوئی شرمندہ بھی نہیں۔شاید ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہم نے علم نہیں، ڈگریوں کا کاروبار کیا ہے۔ہم نے سوچنے والے ذہن پیدا نہیں کیے، بس نظام کے پرزے بنائے ہیں۔اور اس سارے ہجوم میں، اگر کبھی کوئی بچہ پوچھ بیٹھے کہ میں پڑھ لکھ کر کیا بنوں گا؟تو اس کے لیے کوئی جواب نہیں۔صرف خاموشی ہے۔وہی خاموشی جو اس نظام کا سب سے بڑا اعترافِ جرم ہے۔
اور کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے اس ملک کا تعلیمی نظام ایک ایسی ریل پکڑے کھڑا ہے جو کبھی چلتی ہی نہیں۔ ہم 78 برسوں سے ایک ہی پلیٹ فارم پر انتظار کر رہے ہیں۔ والدین قرض لے کر فیسیں دیتے ہیں، نوجوان عمر دے کر امیدیں دیتے ہیں، لیکن بدلے میں انہیں صرف بیروزگاری ملتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات پر کبھی شرمندگی محسوس نہیں ہوئی۔ ہم نے نمبر اور گریڈز کی ایسی پوجا کی کہ اصلی قابلیت کہیں پیچھے رہ گئی۔ ہم نے بچوں کے ذہنوں کو اس قدر دبوچ دیا کہ وہ سوچنے سے پہلے ہی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ یہاں ذہانت کا معیار یہ نہیں کہ بچہ کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس نے وہی کیا جو اس سے کہا گیا۔ یہ نظام تخلیق نہیں اطاعت پیدا کرتا ہے اور اس اطاعت کے نتیجے میں ہم نے وہ نسل پیدا کی ہے جو ہاتھ میں ڈگری رکھتے ہوئے بھی خود کو ناکام سمجھتی ہے، جو محنت کے باوجود خود اعتمادی سے محروم ہے جو ہر صبح یہ سوچ کر جاگتی ہے کہ شاید مسئلہ اس میں ہے حالانکہ مسئلہ پورے نظام میں ہے۔جب تک ہم یہ سچ مان نہیں لیتے کوئی اصلاح ممکن نہیں۔

ٹیگز: