Wed, September 16, 2026

فتح مبین کے یوم تشکر کے بعد

فتح مبین کے یوم تشکر کے بعد

پاک بھارت جنگ ہوئی، ہمارے شاہینوں نے جو بھارت کو دھول چٹائی۔ پوری دنیا میں ہندوستانی قیادت بشمول عسکری اور سیاسی کا جو حشر ہوا وہ صرف شرمناک ہی نہیں بلکہ حیران کن اور پریشان کن بھی ہے۔ ہندوستان بڑی وضاحت کے ساتھ یہ جنگ ہار چکا ہے۔ پاکستان نے روایتی جنگ میں وضاحت کے ساتھ اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ ایٹمی صلاحیت کے اعتبار سے دونوں ممالک برابر ہیں، دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں، ایٹم بم گرانے کی صلاحیت کے اعتبار سے بھی دونوں ممالک برابر کے باصلاحیت ہیں لیکن کنونشنل جنگی صلاحیت کے اعتبار سے ہندوستان کو پاکستان پر واضح برتری حاصل تھی۔ عسکریت، جارحیت کی صلاحیت، فوجی طاقت کے حجم یعنی فوج کی تعداد، یعنی عددی برتری، ہتھیاروں کی تعداد، دفاعی بجٹ وغیرہ کے اعتبار سے ہندوستان کو پاکستان پر واضح برتری حاصل ہے۔ مذکورہ جنگ، جس کی ابتداء22اپریل 2025ءکو پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن سے ہوئی جسے بھارت نے انجام دیا یعنی جنگ بھارت نے شروع کی جبکہ پاکستان نے 10مئی کو آپریشن ”بنیان مرصوص“ کی شاندار کامیابی کے ذریعے ختم کیا۔ اس جنگ نے بھارت کی کنونشنل وار میں برتری کے تاثر کو نہیں بلکہ حقیقت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ دنیا جو پہلے پاکستان کو بھارت کے برابر حیثیت نہیں دیتی تھی اس جنگ کے بعد ان کی آنکھیں ہی نہیں کھلیں بلکہ دماغ بھی کھل گئے ہیں، انہیں احساس ہو گیا ہے، انہیں بھارت کی بڑائی کے بارے میں اپنی سوچ تبدیل کرنا پڑی ہے۔ ٹرمپ نے برابری کی بنیاد پر دونوں ممالک کو مذاکرات کرنے کی دعوت دی ہے جس میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے۔ ہندوستان نے 5اگست 2019ءمیں مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرکے اپنے تئیں مسئلہ کشمیر حل کر دیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے انڈین یونین کا حصہ بنا ڈالا۔ یہ سب کچھ اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور بھارتی قیادت کے اقوام عالم کے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کی صریحاً خلاف ورزی تھی لیکن مودی سرکار تو ہندو توا کے فلسفے پر عمل پیرا تھی اس لئے مسلم دشمنی اور مسلم کشی ان کا دھرم تھا اس لئے وہ اسی پر عمل پیرا رہے۔ ہندوستان ہو یا مقبوضہ کشمیر، ہر جگہ مسلم کشی جاری ہے۔ مودی سرکار مسلم دشمنی میں پاکستان کو بھی نشانے پر رکھے ہوئے ہے اس لئے دوبار کوشش کر چکی ہے کہ پاکستان کو نیچا دکھایا جائے، نقصان پہنچایا جائے لیکن اسے ہر دفعہ منہ کی کھانا پڑی ہے۔ قوم نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار یعنی بنیان مرصوص بن کر اپنے سے کئی گنا طاقتور اور کمینے دشمن کا مقابلہ کیا ہے بلکہ اسے شکست فاش سے بھی ہمکنار کیا ہے۔ اس حوالے سے قوم میں ایک عظیم الشان ولولہ دیکھنے میں آیا ہے کل یعنی بروز منگل قوم نے یوم تشکر بھی منایا ہے جس میں اپنی قومی قیادت اور مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔ قوم اپنے دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکی ہے۔ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو عسکری ہزیمت سے دوچار کرنے کے بعد ہمارے نہ صرف حوصلے بڑھے ہیں اور ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اپنی فوج کے ساتھ محبت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے منفی بیانیے کے باعث مسلح افواج کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی گئی تھیں ان کا بھی کسی نہ کسی حد تک ازالہ ہوا ہے پھر فوج کے سیاسی کردار کے باعث فوج کی توقیر میں جو کمی دیکھنے میں آئی تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔ ویسے جنرل باجوہ نے جس طرح سیاست میں دخل دیا اور ملک و قوم کو ہی نہیں بلکہ قومی ادارے فوج کو بھی نقصان پہنچایا۔ موجودہ چیف جنرل عاصم منیر اس جنگ سے پہلے ہی فوج کے سیاست میں کسی قسم کے کردار سے برا¿ت کا اعلان ہی نہیں کر چکے بلکہ عملاً اس پر کاربند نظر آ رہے ہیں۔ اس جنگ میں شاندار کامیابی نے عوام اور فوج کے درمیان اعتماد اور محبت کی گہری فضا قائم کر دی ہے۔ فوج کے خلاف دشمن اور ایک سیاسی جماعت کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے۔ فوج کو داغدار کرنے کی کاوشیں حتمی ناکامی سے ہمکنار ہو چکی ہیں۔ ہماری مسلح افواج جنگ کے کڑے امتحان میں سرخرو ہو گئی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف عوامی خواہشات کے مطابق دشمن کو ذلیل و رسوا کر دیا ہے بلکہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا حق بھی ادا کر دیا ہے۔ اس وقت ہماری مسلح افواج قوم کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی ہیں۔ قوم بالفعل بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہوئی ہے۔ پوری دنیا، عرب و عجم، مشرق و مغرب، سب پاکستان کے لئے رطب اللسان ہیں۔ امریکہ جیسا ملک پاکستان کی حمایت میں کھڑا ہے۔ امریکہ اس وقت خود اپنی عالمی حیثیت برقرار رکھنے کی سرتوڑ کاوشوں میں مصروف ہے۔ ٹرمپ جیسی صہیونی متعصب قیادت امریکہ کو نمبرون رکھنے کے جنون میں تمام عالمی ضابطوں کو پامال کرتی چلی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے اقدامات نے عالمی تجارت کو الٹ پلٹ کر دیا ہے۔ عالمی سیاست بھی لرزہ براندام ہے۔ ٹرمپ جہاں جاتا ہے، حکم چلاتا ہے۔ سعودی عرب کے دورے کے دوران اس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عربوں میں حکم کی سرتابی کی ہمت نہیں ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل ختم کر دی ہے، غزہ مکمل طور پر برباد کیا جا چکا ہے۔ غزہ کے فلسطینی معدوم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اسرائیل نے انہیں ایسے ختم کیا ہے جیسے مکھی، مچھر مارے جاتے ہیں۔ عربوں کو غیرت نہیں آئی کہ ان کے بھائی بندوں کے ساتھ کئے جانے والے غیر انسانی سلوک پر ری ایکٹ کر سکیں۔ مظلوم فلسطینیوں کی مدد کر سکیں۔ اسرائیل نے بڑی یکسوئی کے ساتھ غزہ کو راکھ کا ڈھیر بنایا ہے۔ یہاں بسنے والے فلسطینیوں کا خاتمہ کیا ہے۔ اسرائیلی حکمران، صہیونی حکمران طے کردہ، اعلان 
شدہ گریٹر اسرائیل کی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں رنگ بھر رہے ہیں۔ عالم عرب کو مکمل طور پر اپاہج کر دیا گیا ہے۔ تمام وسائل ہونے کے باوجود عربوں میں اسرائیل کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کوئی مسلم ریاست عسکری طور پر اسرائیل کو للکارنے یا اس کا مقابلہ کرنے کے لائق نہیں ہے۔ عالم اسلام میں ترکی اور پاکستان مضبوط اسلامی ریاستیں ہیں جو اسرائیل کے لئے چیلنج بن سکتی ہیں۔ پاکستان آبادی کے اعتبار سے بھی اور فوجی قوت کے اعتبار سے بھی اسرائیل کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ واحد ایٹمی قوت ہونے کے باعث پاکستان اسرائیل کی آنکھوں میں بری طرح کھٹکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دانت کھٹے کرنے کے لئے 22اپریل کو پہلگام آپریشن لانچ کرنے سے لے کر 10مئی سیزفائر ہونے تک اسرائیلی ماہرین بھارتی جنگی آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔ ایک ارب ڈالر کے 700ڈرونز بھی اسرائیلی تھے، ہندوستانی افواج کو اسرائیل کی تکنیکی مہارت بھی دستیاب تھی کیونکہ پاکستان کو عسکری طور پر شکست دینا اور اسے کمزور کرنا اسرائیل کی قومی پالیسی ہے۔ اسی لئے پاکستان کے خلاف بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ایک زمینی حقیقت بن چکا ہے۔

ٹیگز: