Wed, September 16, 2026

دل دریا، قلزم اور تنہائی!!!

دل دریا، قلزم اور تنہائی!!!

آج میرا دل ہے کہ میں اپنی تنہائی شیئر کروں
روح کی روح میں سرایت
محبت اب وہ سودا ہے، جو ہر کوچہ و بازارمیں بکنے لگا
کہاں وہ جذبہ بے نام، کہاں وہ دل، کہاں وہ لگا!
قیمت لگی ہے چاہتوں کی، وصل قسطوں میں ملا
خواب بیچے جا رہے ہیں، نیند بھی باندھ کے چلا!
کہاں وہ عشق جو سجدے میں بھی خاموش رہتا تھا
نہ حرف مانگے، نہ وعدے، بس روح کو مہکتا تھا
اب حرف بھی نرخ پہ تولے جاتے ہیں بازاروں میں
لفظ ”محبت“ معانی بدل چکا زندہ ہے بس فسانوں میں!
اب عشق معاہدہ ہے فقط، جذبہ و مودت نہیں رہا
دل کے بجائے اب کاغذوں میں وعدہ لکھا گیا
باتوں میں بھی تاریخیں ہیں، یادوں میں بھی حد بندیاں
لمحوں کو بھی ناپا جاتا ہے، وصل کی بھی قسطیں جتائیں!
مگر....
اسی حساب و کتاب کے درمیان
اک تعلق ایسا بھی ہے .... بے نام، مگر کامل
جو نہ طلب ہے، نہ سوال، نہ کسی موسم کی شرط
جو خاموشی میں بولے، اور صدا میں چپ ہو جائے
جو سناٹے کے شور بقا پائے
جو دور ہو کر بھی سانسوں میں مہک جائے
پاس ہو تو پیاس بنے، جدائی میں عشق ہو جائے
جو تنہائی میں بھی تنہا نہ کرے، اور
ہجوم میں بھی صرف وہی دکھے .... بس وہی، وہی!
یہ کیا ہے؟
یہ وہ لمس ہے جو جسم سے آزاد ہے
یہ وہ سجدہ ہے جو آنکھوں کی نمی میں ادا ہوا
یہ وہ نیند ہے جو جاگتی پلکوں پہ رک گئی
یہ وہ دعا ہے جو مانگی نہیں گئی .... مگر قبول ہو گئی!
اوہ خدایا!
یہ سرگوشی میں ”الااللہ“ کون کہہ گیا؟
میں تو کہیں اور تھا، مگر جاں میں جاں وہی بھر گیا!
کیا یہ وہی ہے جسے دل پکارتا نہیں،
مگر ہر دھڑکن میں وہی بازگشت کرتا ہے؟
اب نہ میں رہا، نہ تُو رہا
رہ گئی فقط اک روشنی، جو ”ہم“ بھی نہیں....
جو نام بھی نہیں، مگر ہر نام اسی کا سایہ ہے
جو کلام بھی نہیں، مگر ہر خاموشی میں وہی آیا ہے!
قلزم سے قلزم نکلا، سمندر بھی چھان ڈالے
نہ گہرائی ملی، نہ کوئی دل جو دل سے بولے
ہر جاندار، ہر انس و جن سے پوچھا....
نہ کسی نے پہچانا، نہ کسی نے جانا!
تو آخر....
اس رشتے کو کیا کہیں؟
یہ جو ”روح کی روح“ میں سرایت کر گیا ہے
میرے پاس فقط
اک ادھورا شعر ہے....
جس کی ردیف بھی تُو
قافیہ بھی تُو....
اور مفہوم بھی صرف تُو!
جنگل.... اور میں
زندگی....
کبھی آواز تھی
پھر.... سانسوں میں دھواں بن کر
خاموشی کی دیواروں پر
چپ کی تحریریں لکھنے لگی
میں
اک ظرف تھا
جو خالی بھی تھا
بھرا بھی ہوا
لیکن....
اپنا بوجھ خود نہیں اٹھا سکا
اللہ نے
آدم بنایا تھا
مٹی سے
پر شاید....
میرے حصے کی مٹی
کسی جنگل کی جڑوں سے آئی تھی
کہاں کے پیر؟
کہاں کے جج؟
کہاں کی عدالتیں؟
جہاں فیصلے
دفتروں کے دستخط پر مرتے ہوں
سنا ہے
جنگلوں میں نہ رشوت چلتی ہے
نہ دربار لگتے ہیں
اور نہ ہی
کوئی انسان، انسان کا خدا بنتا ہے
میں سوچتا ہوں....
اگر قانون نہ ہوتا
تو شاید
آج ہر جانور مر چکا ہوتا
مگر وہ زندہ ہیں....
اور ہم؟
یہاں عشق بھی نیلام ہوتا ہے
صوفی کے خرقے پر قیمت لکھی ہے
تصوف، اک پرانا پوسٹر ہے
جو اب نعت سے زیادہ
نعرہ لگتا ہے
اور وفا....
بس اک قصہ ہے
جو محبت کے کمرے میں
ادھ کھلے الماری میں رکھا ہے
پرانی خوشبو کی طرح....
کاش
میں وفادار نہ ہوتا
نہ حساس
نہ سودائی
نہ جذباتی
کاش
مجھے بس جنگل مل جاتا
جہاں لفظ نہ ہوتے
پر سچ ہوتا
جہاں کوئی نطقِ ریا نہ ہوتا
جہاں چہرے .... صرف چہرے ہوتے
بس
اک ”اِلّا اللہ“ ہے
جو تھامے ہوئے ہے
ورنہ....
میں کب کا
ٹوٹ چکا ہوتا

ٹیگز: