Wed, September 16, 2026

بپھرے دریا۔۔۔ چناب، راوی اور ستلج۔۔۔!

بپھرے دریا۔۔۔ چناب، راوی اور ستلج۔۔۔!


اپنے گاو¿ں کے تین اطراف سے بہہ کر گزرنے والے دریائے سواں میں اپنے بچپن سے لے کر طویل حیاتی کے ان برسوں تک مختلف اوقات میں آنے والے بیسوں سیلابوں اور طغیانیوں جن میں بعض انتہائی اونچے درجے کے سیلاب بھی شامل ہیں کو سامنے رکھتے ہوئے میرے ذہن کے نہاں خانے میں ندی، نالوں اور دریاﺅں میں سیلابوں کے حوالے سے کچھ مناظر ایسے ثبت ہیں کہ ان کو مٹانا آسان نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیلابوں کے نتیجے میں جہاں کئی طرح کے نقصانات اور تباہی و بربادی کے واقعات رو نما ہوتے ہیں ، وہاں ان کے کچھ مثبت اثرات بھی ہیں کہ ان سے جہاں پانی کی کمی دور ہوتی ہے ، ڈیم اور بیراج پانی سے بھر جاتے ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور دریا کی گزرگاہ کی آس پاس کی زمینوں میں سیلاب کے اترنے کے بعد تازہ مٹی کی تہہ بچھ جانے کی بنا پران کی زرخیزی میں اضافہ اور اگلے کئی سال تک وہاں اچھی فصلیں پیدا ہونے کی راہ بھی ہموار ہو جاتی ہے۔یقینا ایسا ہوتاہے لیکن جب برسوں بعد سندھ ، چناب ، راوی اور ستلج جیسے دریا بپھر جاتے ہیں ، ان میں لاکھوں کیوسک فٹ پانی کے ریلے اچانک آن شامل ہوتے ہیں ، اُن کے آس پاس کے اور بالائی علاقوں میں طوفانی بارشیں ہوتی ہیںاور ان میں شامل ہونے والے نالوں، ندیوں میں سیلاب آ جاتا ہے اوران کے پانی کے ریلے بھی دریاﺅں میں آن ملتے ہیں تو پھر صورتِ حال تبدیل ہی نہیں ہو جاتی بلکہ تباہی و بربادی اور غارت گری کے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو پچھلے تقریباً تین ہفتوں یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصے کے دوران شمالی، شمال مشرقی، وسطی، مشرقی، جنوب مشرقی اور جنوبی پنجاب کے وسیع و عریض علاقوں اور اضلاع میں دیکھنے میں آ رہے ہیں کہ ایک طرف شہروں کے شہر اور بستیاں اور آبادیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں یا ڈوب رہی ہیں۔ لاکھوں کی تعدادمیں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے ، اُن کے مال مویشی بہہ گئے ہیں ، گھر ، مکانات اور کھڑی فصلیں غرقاب ہو چکی ہیں، دریا کے کناروں پر بنے بند ٹوٹ چکے ہیں یا ان میں خود شگاف ڈالے گئے ہیں، سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں اور لاکھوں ایکڑ رقبے میں کئی کئی فٹ تک پانی پھیلاہوا ہے جس کی نکاسی آسان نہیں اور اس کے ساتھ قیمتی جانوں کا ضیاع اور بھی تکلیف دہ ہے۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ چناب ، راوی اورستلج دریاﺅں میں برسوں بعد آنے والے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب یا سیلابوں کیے نتیجے میں پنجاب کے وسیع و عریض علاقے متاثر ہوئے ہیں اور ان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی تفصیل ، مناظر اور تازہ ترین صورتِ حال اخبارات کے علاوہ ٹی وی سکرینوں اور وی لاگز وغیرہ کے ذریعے ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ امدادی کارروائیوں اور سرکاری اہلکاروں بالخصوص وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی بھاگ دوڑ اور متاثرینِ سیلاب کے لیے کی جانے والی امدادی سر گرمیوں اور حفاظتی اقدامات کی تفصیل بھی ہمیں پتہ چلتی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ بھارت کی طرف سے چناب، راوی اورستلج دریاﺅں میں پانی کے تازہ ریلوں کے چھوڑے جانے کے بارے میں خبریں بھی آتی رہتی ہیں ۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ اہم اوردرست سمجھا جا سکتاہے لیکن پھر بھی یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پچھلے اڑھائی تین ہفتوں کے دوران چناب ، راوی اور ستلج دریاﺅں میں انتہائی اونچے درجے کے مسلسل سیلابوں کے نتیجے میں جو نقصانا ت ہوئے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں لوگ ان سے متاثرہوئے ہیں ان کی مشکلات، مصائب اور پریشانیوں کا صحیح اندازہ لگانا شاید آسان نہیں ہے۔ اس لیے کہ جو کچھ بتایا جاتا ہے ، جو کچھ سنایا جاتا ہے اورجو کچھ دکھایا جاتا ہے، برسر زمین صورت ِ حال کی وہ پوری طرح عکاسی نہیں کر پاتا۔ اس ضمن میں یہاں ان دنوں اسلام آباد سے فیصل آباد اور وہاں سے آگے جڑانوالہ تک موٹرویز پر سفر کے دوران موٹر وے ایم ٹو (اسلام آباد تا لاہور) پر بھیرہ انٹرچینج سے تقریباً پچاس ساٹھ کلومیٹر کے موٹروے کے بائیںطرف کے علاقوں میں سیلاب کے جو مناظرمیرے مشاہدے میں آئے، اُن کا ذکر کرناچاہوں گا۔
ہوا یوں کہ اتوار کو صبح آٹھ بجے مجھے اپنے گھرانے کے کچھ افراد کے ساتھ فیصل آباد اور آگے جڑانوالہ تک جانا تھا ۔ ہماری کوچ اسلام آباد سے روانہ ہوئی تو طوفانی بارش برسنا شروع ہو گئی ۔ موٹر وے پر (ایم ٹو اسلام آبادتالاہور) پر ہم جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے ، بارش تیز سے تیز تر ہو رہی تھی۔ کلر کہار سے آگے بائیں طرف کھیوڑہ اور پنڈدادن خان کو نکلنے والی سڑک کے بعد بھیرہ انٹر چینج سے آگے دریائے جہلم کے پل پر پہنچے تو دریا میں کچھ زیادہ پانی نہیں تھا۔ اس کے بعد موٹر وے سے بائیں منڈی بہاﺅالدین، ملکوال، بھلوال، سیال ، سالم ، گجرات اور سرگودھا وغیرہ کو نکلنے والے انٹر چینجز کے پچاس ساٹھ کلومیٹر کی مسافت کے دوران موٹر وے کے بائیں طرف جو کچھ دیکھا وہ صحیح معنوں میں دریائے چناب میں شروع میں آنے والے اونچے درجے کے سیلاب کے اثرات اور نقصانات کی غمازی کر رہا تھا۔ موٹر وے کے ساتھ ساتھ بائیں طرف دور دور تک پانی کھڑانظر آ رہا تھا، جس میں لوگوں کے ڈیرے، مکانات اور گھر کچھ آدھے آدھے یا کچھ زیادہ ڈوبے ہوئے تھے تو اس کے ساتھ کماد، مکئی، جوار وغیرہ کی قد آور فصلیں تقریباً آدھی آدھی اور مونجی اور چاولوں کے گھٹنے تک اونچی فصل کے کھیت ڈوبے ہوئے تھے۔ کسی ڈیرے پر اِکا دُکا کوئی شخص بیٹھا ہوا نظر آ رہا تھا تو کچھ مال مویشی بھی دکھائی دے رہے تھے۔ موٹر وے کے بائیں جانب یہ مناظر آگے حافظ آباد کو نکلنے والی سڑک بلکہ پنڈی بھٹیاں انٹر چینج تک پھیلے ہوئے تھے۔ موٹر وے کے دائیں طرف کھیت اور فصلیں وغیرہ موٹر وے کی رکاوٹ کی وجہ سے البتہ سیلابی پانی سے بچے ہوئے تھے تاہم دریائے چناب کے پُل پر نیچے بائیں طرف دریا کاپاٹ اگر کافی چوڑائی میں پھیلا ہوا تھاتو دائیں طرف نیچے اس سے بھی زیادہ چوڑا اور دُور دُور تک پھیلاہوا تھا۔ 
دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب آیا تو قادر آباد ہیڈ یا ہیڈ ورکس کو بچانے کے لیے دریا کے کنارے بنے بند یا پُشتوں کو توڑا گیا جس کی وجہ سے دریائے چناب کا سیلابی پانی اتنے وسیع و عریض علاقے میں پھیل گیا، تا ہم دریائے چناب کے سیلابی ریلے آگے بڑھے تو چنیوٹ اور جھنگ اور ان کے آس پاس کے علاقے ان کی زَد میں آئے۔ تریموں 
ہیڈ ورکس کو بچانے کے لیے پُشتے توڑنے پڑے تو اب ملتان اور جلال پور پیر والا کو بچانے کے لیے ادھر بنے کئی بندوں پر شگاف کرنا پڑ رہے ہیں۔ یہ صرف دریائے چناب کے سیلابی ریلوں کی سر گزشت ہے ورنہ دریائے راوی اور دریائے ستلج کے سیلابی ریلے بھی تباہی و بربادی اور غرقابی کے حوالے سے اپنے نشانات چھوڑنے میں پیچھے نہیں رہے ہیں۔ یہ دونوں دریا ایسے ہیں جن کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت نے ان پر کئی بند، ڈیم اور بیراج بنا رکھے ہیں جس کی بنا پر ہمارے ہاں ان دریاﺅں میں پانی کی روانی نہ ہونے کے برابررہ گئی ہے۔ اس دفعہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر ، بھارتی صوبے مدھیہ پردیش اور مشرقی پنجاب وغیرہ میں شدید بارشیں ہوئیں تو بھارت کو ان دریاﺅں پر بنے ڈیموں اور بیراجوں کے دروازے کھولنا پڑے اور راوی اورستلج ایک بار پھر اپنے پرانے راستوں پر ایسے رواں دواں ہوئے کہ سیالکوٹ ، نارووال، شکر گڑھ، شاہدرہ، لاہور، شیخو پورہ، قصور ، خانیوال، وہاڑی، بوریوالہ، ملتان، جلال پور پیر والا، بہاول نگر، رحیم یار خان، خان پور، مظفر گڑھ اور پتہ نہیں اور کتنے قصبات ودیہات اور شہر اوران کے مضافاتی علاقے اوردیہی بستیاں راوی اور ستلج دریاﺅں کے اونچے درجے کے سیلابی ریلوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔

ٹیگز: