نئی دہلی :مودی سرکار کے نام نہاد "وشو گرو" بننے کے خواب کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب بھارتی فضائیہ نے اپنے مقامی ساختہ "تیجس" جنگی طیاروں کی پوری فلیٹ کو خاموشی سے گراؤنڈ کر دیا۔ 16 مارچ 2026 کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، پے در پے حادثات نے بھارت کے دفاعی صنعتی نظام کی نااہلی کو عالمی سطح پر رسوا کر دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، تیجس پروگرام جس کا آغاز 1981 میں ہوا تھا، ساڑھے چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ایک مکمل 'دیسی' طیارہ بننے میں ناکام رہا ہے۔ طیارے کے انجن، ایویونکس اور ریڈار سسٹمز کے لیے بھارت مکمل طور پر امریکہ اور اسرائیل کا دستِ نگر ہے۔
7 فروری 2026 کو تیسرے بڑے حادثے کے بعد 30 طیاروں پر مشتمل پوری فلیٹ کو روکنا اس بات کا اعتراف ہے کہ طیارے کے ڈیزائن میں سنگین فنی خرابیاں موجود ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فضائیہ (IAF) اس وقت تاریخ کے بدترین آپریشنل بحران سے گزر رہی ہے۔
دفاعی ضرورت کے لیے 42 اسکواڈرن درکار ہیں، لیکن حادثات اور گراؤنڈنگ کی وجہ سے یہ تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔تیجس کے ساتھ ساتھ 6 مارچ کو روسی ساختہ SU-30MKI کا گرنا بھارتی فضائی طاقت کی ساختی کمزوریوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ تیجس کی ناکامی محض ایک تکنیکی حادثہ نہیں بلکہ بھارت کی طویل المدتی دفاعی منصوبہ بندی کا جنازہ ہے۔ بھارت اپنی مطلوبہ عسکری صلاحیت حاصل کرنے سے اب بھی دہائیوں دور ہے، جبکہ مودی سرکار کا "میڈ ان انڈیا" نعرہ صرف سیاسی اشتہار بازی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔