Wed, September 16, 2026

انتساب

انتساب

(گذشتہ سے پیوستہ)
٭یثرب کو مدینة النبی کی بشارت پانے والی گھڑیوں کے نام۔
٭مدینہ منورہ میں پہلے خطبہ کے نام جس میں آپ نے فرمایا کہ جو شخص چاہے خود کو نار جہنم سے بچا سکتا ہے اگرچہ کھجور کے ایک دانہ سے یہ بھی نہ ہو تو ایک میٹھا بول ہی سہی ہر نیکی کا اجر دس گنا ملے گا۔
٭مسجد نبوی میں اُس مبارک درخت کے نام جس کو آپ کی پشت مبارک پر بارہا مس ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ منبر بننے پر جدائی کے غم میں یہ رویا اور سرکار نے اسے جنت میں لگا دیا۔
٭مسجد نبوی کے دالان میں اس ستون کے نام جہاں سرکار ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے۔
٭اس تین درجہ منبر کے نام جہاں سرکار بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے۔
٭اس عصا کے نام جس سے ٹیک لگاتے ہوئے سرکار بسا اوقات اپنے دولت کدہ سے باہر نکلتے ہوئے جلوہ افروز ہوتے۔
٭ان لمحوں کے نام جب سرکار اپنے پیرو کاروں میں برابری کی سطح پر تشریف فرما ہوتے، مزاح میں شامل ہوتے بچوں سے کھیلتے، مساکین، غلاموں اور کنیزوں کو برابری کی سطح پر سنتے۔
٭ان لمحوں کے نام جب حسنین کریمین سلام اللہ علیہان دوران نماز سرکار کے کندھوں پر کھیلا کرتے تھے۔
٭رحمت اللعالمین کے حیوانات کے ساتھ بھی حسن سلوک کے نام۔
٭اس پتھر کے نام جو فاقہ میں سرکار شکم مبارک پر اکثر باندھ لیتے۔
٭کھجوروں کی پتیوں سے بھری ہوئی چمڑے کی توشک کے نام جو آقا کا بستر تھا۔
٭کبھی کبھار میسر آنے والی جو کی روٹی، ستو، کھجوروں ، کدو، برہ کی ران شہد اور حلوہ (بخار کے وقت) گوکہ میرے آقا شکم سیر ہو کر کھانا جیسے جانتے ہی نہ تھے، متواتر دو روز تک جو کی روٹی دستر خوان پر نہ آنے پاتی، ثرید اور اکثر فاقہ کے نام جو سرکار کی غذا ٹھہرے۔
٭سرکار کی سادہ پوشاک، یمنی قبا، اون یا سوت یا سنی (ٹاسہ) کی نجاشی کی تحفہ کردہ چادر، سر اویل (ازقسم شلوار) اور سادہ ترین چمڑے کے جوتوں کے نام۔
٭سرکار کی اپنی ہی بیان کردہ کہ ”میری دولت معرفت ہے، میرے دین کی بنیاد عقل پر ہے، محبت میرے کام کی اساس ہے، شوق میرا مرکب (سواری) ہے، خدا کی یاد میری ہمدم ہے اعتماد میرا خزانہ ہے، غم رفیقِ زندگی ہے، علم اسلحہ ہے صبر چادر ہے، رضا مالِ غنیمت ہے، فقر فخر ہے، زہد میری صنعت ہے، یقین میرے دست و بازو ہیں، صداقت میری شافع ہے، عبادت میرے لیے سبب کفایت ہے، جہاد میری فطرت میں مضمر ہے اور نماز میری تسکین قلب ہے، کے نام۔
٭سرکار کے نعلین مبارک کو چھونے والی مٹی کے نام۔
٭کعبة اللہ کو قِبلہ قرار دئیے جانے کی خواہش کی تکمیل کے نام۔
٭اُن ساعتوں کے نام جب یہودِ مدینہ نے مباہلہ سے راہِ فرار اختیار کی۔
٭پنجتن پاک سلام اللہ علیہان کے نام۔
٭مہمات ابوا، بواط، بدراولیٰ کے نام جن میں سعد بن عبادہؓ، ابو مسلمؓ بن عبدالاسد، زیدؓ بن حارثہ کو بالترتیب اپنا نائب مقرر کر کے خود کمان کرتے ہوئے گئے۔ (یہ واقعات غزوہ بدر سے پہلے کے ہیں جو جنگی مشقوں کا درجہ بھی رکھتے ہیں جن کو دیکھ کر مخالفین دبک گئے)۔
٭میدان بدر کے اُس برج کے نام جِس میں سرکار تشریف فرماتھے اور جہاں فتح کیلئے دعا فرمائی۔
٭اُس سجدہ مبارک کے نام جو آپ نے بدر کی جنگ میں جانے سے پہلے فرمایا۔
٭کنکریوں/ خاک کی اُس مُٹھی کے نام جو سرکار نے بدر کے میدان میں کفار کی طرف پھینکی اور زبان سے فرمایا ”ان کا منہ کالا ہو“، اللہ نے وحی بھیجی، اے پیغمبر جب تم نے میدان میں مٹھی بھر کر خاک پھینکی تو حقیقت یہ ہے کہ تم نے نہیں پھینکی تھی اللہ نے پھینکی تھی۔ اُن فضاو¿ں کے نام۔
٭معاذؓ اور معوذ ؓکے نام جنہوں نے دلیری سے اپنے کٹے ہوئے بازوو¿ں کو اپنے تن سے جدا کیا تا کہ لڑائی میں رکاوٹ نہ ہو۔
٭معاذ بن عمرو ؓکے نام جس نے ابوجہل کو واصلِ جہنم کیا۔
٭اُس ڈلیا کے نام جو خندق کھودنے کے دوران سرکار نے سر پر اُٹھایا تھا۔
٭غزوہ خندق کی اُس گھڑی کے نام جب کافر عمرو بن عبدود حضرت علیؓ کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچا۔
٭سیّدہ صفیہ ؓبنت عبدالمطلب کی بہادری کے نام
٭وحی الٰہی کی طرف سے آقا کریم کے عورت کو دیئے گئے مقام اور حقوق کے نام۔
٭حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ طیبہؓ کے متعلق نازل ہونے والی آیت مبارکہ کے نام۔
٭حضرت مغیرہؓ بن شعبہ کے نام جو حدیبیہ کے وقت سرکار کے عقب میں کھڑے رہے۔
٭بیعت رضوان کی ساعتوں اور فدائیان آقا کے نام۔
٭صلح حدیبیہ کے معاہدے کی فتح مبین کے نام۔
٭حضرت ابو جندلؓ کے نام۔
٭حضرت ابو بصیرؓ کے نام۔ (جاری ہے)

ٹیگز: