(گزشتہ سے پیوستہ)
دنیا کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ کو ہم نے الوداع کہا تو اس وقت کے جذبات و احساسات کیا تھے، سچی بات ہے اِس وقت اُس بارے میں سوچتا ہوں تو کچھ تاسف، محرومی اور اپنی بد بختی کا ملا جلا احساس ابھرتا ہے۔ کچھ اس طرح کی سوچ پیدا ہوتی ہے کہ ہم انسان واقعی نا شکرے واقع ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک نعمت حاصل ہوتی ہے تو ہم اس کی پوری قدر نہیں کرتے یا اس سے پورا استفادہ نہیں کرتے اور جب اس نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں تو پھر تاسف کا اظہار کرنے لگتے ہیں اور محرومی کا احساس ہمیں چین نہیں لینے دیتا۔ میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ مکہ مکرمہ میں قیام کے آخری دن کے آخری لمحات میں ہوٹل میں جدہ کے لیے بس کے طویل انتظار اور ہوٹل سے بس تک سامان پہنچانے اور ان سے جڑے دیگر کچھ معاملات ذہن پر ایسے حاوی رہے کہ جدہ روانگی سے قبل آخری وقت میں شارع ابراہیم خلیل پر کبوتر چوک سے آگے مسجد الحرام کے بیرونی احاطوں، اس کے بلند و بالا میناروں اور اس کے پُر شکوہ گیٹ نمبر ۷۹(باب المک فہد) پر الوداعی نظریں ڈالنے کا خیال ہی نہ آیا اور اس کے لیے کچھ بیس پچیس منٹ کا وقت ہی نہ نکال سکا۔ یقینا میں اسے اپنی محرومی اور کسی حد تک بد بختی ہی گردانتا ہوں۔ کبھی کبھار مجھے اس کا اتنی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ ایک بار پھر نورانی فضاﺅں میں لپٹے ان مقدس مقامات میں پہنچوں اور مجھے کوئی فکر نہ ہو، کوئی پریشانی نہ ہو، کسی مصروفیت کا خیال نہ ہو، ذہن پر کسی بوجھ کا احساس نہ ہوا اور میں ان مقدس مقامات کے گرد گھومتا رہوں پھرتا رہوں۔ ان کی آغوش میں بیٹھا رہوں اور ان کو اپنے قلب و روح میں ایسے سما لوں کہ تصور کی آنکھوں سے ان کو ہر وقت دیکھتا ہی نہ رہوں بلکہ اپنے آپ کو ان کے قرب و جوار میں موجود سمجھتا رہوں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کچھ اتنے دور تو نہیں ہیں۔ چلیں اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب ان شاءاللہ اس کا موقع نصیب ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کریم اپنا کرم فرمائیں گے اور میری یہ تمنا ضرور پوری ہو گی۔ اس وقت مکہ مکرمہ سے جدہ کے بس کے سفر کا احوال بیان کرنا ہے کہ یہ سفر کیسے مکمل ہوا۔ یہ بات شاید قابلِ یقین نہ ہو اور اسے عجیب بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ لَش پَش کرتی جدید ترین ماڈل کی اتنی بڑی اور لمبی بس جس میں کم و بیش ساٹھ تک سواریاں بیٹھ سکتی ہوں وہ صرف دو سواریوں کو لے کر مکہ مکرمہ سے جدہ کے تقریباً ۹۰ کلومیٹر کے سفر پر روانہ ہوئی۔ جی بالکل ایسا ہی ہوا، ہمیں جدہ لے جانے والی بس میں ڈرائیور اور بس کے پچھلے حصے میں بیٹھے ایک صاحب کے علاوہ میں اور اہلیہ محترمہ دو ہی سواریاں تھیں۔ شارع ابراہیم خلیل پر میں اور اہلیہ محترمہ بس میں سوار ہوئے تو میں خیال کر رہا تھا کہ کچھ اور سواریاں اس میں آ کر بیٹھیں گی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ بس چل پڑی تو خیال تھا کہ اگلے کسی سٹاپ سے اس میں کچھ لوگ سوار ہوں گے لیکن یہ بھی نہ ہو ا اور مکہ مکرمہ سے جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹر نیشنل ائیر پورٹ تک میں اور میری اہلیہ محترمہ دو ہی مسافر رہے۔
شارع ابراہیم خلیل سے جدہ کے لیے بس روانہ ہوئی تو مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے سامنے مکہ مکرمہ رائل کلاک ٹاور کی عظیم الجثہ گھڑی کی سوئیوں پر وقت دیکھا تھا یا اپنی کلائی کی گھڑی پر وقت دیکھا۔ ہاں اتنا ضرور یاد پڑتا ہے کہ یہ رات ساڑھے آٹھ بجے کے لگ بھگ وقت تھا جب ہماری بس رات کو دن کا روپ دینے والی روشنیوں میں مکہ مکرمہ کی بلند و بالا عمارات، کشادہ سڑکوں اور ان کے اطراف میں بنے اونچے ہوٹلوں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی اندرونِ مکہ کی شاہراﺅں پر بنے کئی طرح کے انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برجز سے گزرتی ہوئی مکہ سے جدہ کی شاہراہ پر رواں دواں ہوئی۔ مکہ مکرمہ کے مضافات میں پہاڑوں اور پہاڑیوں کی ڈھلانوں اور اونچی نیچی جگہوں پر بنے دو، دو، تین، تین، منزلہ روشنی میں نہائے مکانات نگاہوں کے سامنے سے گزر رہے تھے تو آگے کھلی شاہراہ پر روشنیوں کا ایک سیلاب تھا جو ہمارے سامنے اور ہمارے دائیں بائیں سے اُمڈا چلا آ رہا تھا۔
دو ہفتے قبل جدہ سے مکہ مکرمہ آئے تھے تو دن کا وقت تھا اور میں بس کی اگلی سیٹ پر بیٹھے راستے کے سارے مناظر دیکھتا آیا تھا۔ اب بھی میں اور اہلیہ محترمہ بس کی اگلی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں حسبِ عادت باہر کے مناظر دیکھنے کے لیے کوشاں تھا لیکن سوائے روشنیوں کے سیلاب کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ روشنیوں کا یہ سیلاب سڑک کے دونوں کناروں پر بجلی کے اونچے کھمبوں پر جلنے والی روشنیوں کے ساتھ ان گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کی روشنیاں تھیں جو ہمارے بائیں ہاتھ سڑک کے دوسرے حصے میں ہماری مخالف سمت میں تیز رفتاری سے دوڑی چلی جا رہی تھیں۔ ان کے علاوہ ایسے مقامات جہاں مکہ مکرمہ جدہ شاہراہ پر کچھ دوسری شاہرائیں ملتی ہیں یا اس کے اوپر اوور ہیڈ برجز سے گزرتی ہیں وہاں روشنیوں کے جھرمٹ اتنے زیادہ تھے کہ آنکھیں چُندھیا رہی تھیں۔
ہماری بس کی سپیڈ اتنی زیادہ تھی کہ کم ہی گاڑیاں (کاریں وغیرہ) اس کو کراس (اوور ٹیک) کر کے اس سے آگے نکل پا رہی تھیں۔ شاندار نئی بس، ہموار سڑک، ماہر ڈرائیور اور آرام دہ سیٹیں یقینا یہ ایک اچھا سفر تھا۔ ہم نے عشاءکی قصر نماز بس کے اندر ہی اد ا کی اور ارادہ کیا کہ کچھ دیر کے لیے آنکھیں موند لیں۔ اہلیہ محترمہ کی تو کچھ وقت کے لیے آنکھ لگ گئی لیکن میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ پھر یہ فکر بھی ذہن پر سوار تھا کہ جدہ ائیر پورٹ پر پہنچیں گے تو وہاں بھاری سامان کو لاﺅنج میں پہنچانے کے لیے کہیں مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے اب کوئی سوا گھنٹہ یا اس سے کچھ زیادہ وقت ہو چکا تھا کہ ہمارے سامنے اور دائیں بائیں روشنیاں بہت بڑھ گئیں۔ کسی حد تک سامنے مگر دائیں ہاتھ روشنیوں کی ایک طویل قطار نظر آ رہی تھی۔ یہ شاید مدینہ منورہ سے جدہ آنے والی شاہراہ پر رواں دواں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس تھیں۔ روشنیوں کا یہ پھیلاﺅ اور اضافہ ظاہر کر رہا تھا کہ جدہ انٹر نیشنل ائیر پورٹ کے ہم قریب پہنچ چکے ہیں۔ بس کچھ دیر اور چلتی رہی پھر اس نے شاہراہ کی انتہائی دائیں طرف والی لائن کو اختیار کر لیا کہ یہ کنگ عبدالعزیز انٹر نیشنل ائیر پورٹ جدہ کے بین الاقوامی روانگی (Internation Departure) کے لاﺅنج کی طرف جا رہی تھی۔ یہاں آگے ائیر پورٹ میں داخلے کے لیے چیکنگ پوسٹ پر بس کو رکنا پڑا۔ ذرا سی دیر میں چیکنگ کا مرحلہ مکمل ہوا اور اگلے چند منٹوں میں ڈرائیور نے بڑی تیزی سے ہمیں انٹر نیشنل روانگی کے لاﺅنج کے باہر پہنچا دیا اور خود بڑی سرعت کے ساتھ بس کے نچلے حصے سے ہمارا سامان باہر نکال کر رکھا اور فوراً چل پڑا شاید اسے مکہ مکرمہ واپس جانے کی جلدی تھی یا کچھ اور بات تھی۔
اب سامان کو ائیر پورٹ کے اندر لے جانے کا مسئلہ تھا جس کے لیے میں کچھ پریشان تھا۔ میں نے سامان کے بیگ کھینچ کر آگے کیے کہ اندر سے ٹرالیاں لا کر ان پر رکھوں۔ وہاں پر مجھے صفائی پر مامور ایک شخص جو پاکستانی لگتا تھا نظر آیا۔ اس سے میں نے سامان اندر لے جانے کے لیے لوڈر کا پوچھا ۔ وہ ذرا سی دیر میں ایک لوڈر کو بلا لایا۔ وہ اچھا معقول آدمی تھا، اس نے بتایا کہ آپ کے سامان کے چار بڑے بیگ یا اٹیچی کیس ہیں۔ آپ نے ان کی مقررہ فیس کے طور پر چالیس ریال(فی نگ دس ریال) سامنے کاو¿نٹر پر جمع کرانا ہوں گے۔ اس کے علاوہ مجھے الگ اجرت (بیس پچیس ریال) دینا ہو گی۔ میں نے اسے کہا کہ ٹھیک ہے۔ سامنے کاﺅنٹر پر میں نے چالیس ریال جمع کرا کر رسید لی اور پچیس ریال لوڈر کو دئیے جس نے کچھ فاصلے پر آبِ زم زم کاﺅنٹر پر ہمارے پاسپورٹ دکھا کر ہمارے لیے آبِ زم زم کی پانچ پانچ لٹر والی ڈبوں میں بند دو بوتلیں لے لیں۔ جن پر میں نے اپنے اور اہلیہ محترمہ کے نام لکھے تا کہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر انہیں سامان میں سے ڈھونڈنے میں آسانی ہو۔ (جاری ہے)۔