Wed, September 16, 2026

زیاراتِ مکہ مکرمہ....تذکرہ ہنوز نا تمام!

زیاراتِ مکہ مکرمہ....تذکرہ ہنوز نا تمام!

 (گزشتہ سے پیوستہ) 
میدانِ عرفات میں ہماری بس ایک کھلی جگہ پر جہاں پہلے سے تین چار بسیں کھڑی تھیں ، آ کر رکی۔ گائیڈ بنے صاحب نے بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سامنے جبلِ رحمت ہے، جو خواتین و حضرات اس تک جانا چاہتے ہیں ضرور جائیں لیکن زیادہ وقت نہیں لگانا کہ ابھی ہم نے کئی اور مقامات کی زیارت کرنی ہے اور ظہر کی نماز تک مسجد الحرام میں واپس پہنچنا بھی ہے۔ گائیڈ صاحب کی یہ ہدایت سننے کے بعد ہم بھی اوروں کے ساتھ بس سے نیچے اتر آئے اور بائیں سمت ادھر چل پڑے جدھر کچھ عمارات بنی ہوئی ہیں اور درمیان میں پیدل چلنے کے لیے ایک سے زائد پگڈنڈی نما راستے اور کناروں پر درمیانی اونچائی والے پیڑ یا درخت کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہم ان کے بیچ میں سے گزر کر ایک صاف ستھری عمارت جس کے باہر گھاس والا لان اور اندر وضو خانے بنے ہوئے ہیں تک پہنچے۔ کچھ فاصلے پر سامنے جبلِ رحمت اور اس پر بنا مینار نظر آ رہا تھا۔ جبلِ رحمت پر کچھ لوگ چلتے پھرتے بھی نظر آ رہے تھے لیکن میرا اور اہلیہ محترمہ کا چڑھائی والے ذرا اونچے اور مشکل راستے سے گزر کر جبلِ رحمت پر جانا آسان نہیں تھا۔ ہم وہیں رُک گئے، اپنے موبائل کے کیمرے پر میں نے جبلِ رحمت کی ایک دو فوٹو بنائیں۔ وضو کیا اور اللہ کے حضور گڑ گِڑا کر دعا مانگنے کے بعد واپس بس کی طرف آنے کے لیے چل پڑے۔ جبلِ رحمت کے بارے میں یہ بتانا کافی ہو گا کہ میدانِ عرفات میں سبزی مائل چھوٹے بڑے پتھروں سے بنا ہوا یہ پہاڑ وہ متبرک جگہ ہے جس کے دامن میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ہجرت کے دسویں برس حجتہ الوداع کے موقع پر وقوفِ (عرفات) کیا تھا اور یہیں پر اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر صحابہِ کرام کے ایک لاکھ (یا سوا لاکھ) کے مجمع سے خطاب کیا تھا۔ جبلِ رحمت کو جبلِ عرفہ بھی کہا جاتا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 60 میٹر اور اس کا قطر 100میٹر تک ہے۔ حج کے موقع پر حجاج کرام اس کے اوپر یا اس کے دامن میں وقوف کرنا باعثِ برکت اور سعادت سمجھتے ہیں۔ 
مجھے اور اہلیہ محترمہ کو جبلِ رحمت کے انتہائی قریب یا اس کے اوپر پہنچ نہ سکنے کی محرومی کا اب تک احساس ہے لیکن بہ امر ِ مجبوری ہمیں ایسا کرنا پڑا ۔ خیر ہم واپس بس کی طرف چلے تو میں نے وہاں کے درختوں کو ذرا غور سے دیکھا ۔ ان کے نیچے پتے وغیرہ گِرے ہوئے تھے اور مجھے لگا جیسے یہ ہمارے 
ہاں کے نیم کے پیڑوں یا درختوں کی مانند کے پیڑ یا درخت ہیں۔ ہم بس میں آ کر بیٹھے تو کچھ دیر میںباقی لوگ بھی پہنچ گئے ۔ بس روانہ ہوئی تو گائیڈ بنے صاحب نے اعلان کیا کہ اب یہاں سے ہماری مزدلفہ کی طرف واپسی ہو گی اور اس کے بعد ہم منیٰ سے گزر یں گے۔ بس مزدلفہ کی طرف جا رہی تھی تو مجھے ۱۹۸۳ءمیںاپنا حج کرنا یاد آ رہا تھا کہ نویں ذی الحجہ کو جمعة المبارک کا دن تھا کہ ہم نے حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفات کیا تھا۔ اس طرح بفضلِ تعالیٰ ہمیں حجِ اکبر کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ نویں ذوالحجہ کی شام کو ہم عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوئے تھے کہ نویں اور دسویں ذی الحجہ کی درمیانی رات مزدلفہ میں گزارنے کے حج کے رُکن کو پورا کر سکیں تو ہم پیدل عرفات سے مزدلفہ چل کر آئے تھے۔ والدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ بڑی ہمت، حوصلے اور صبر و شکر سے ہمارے (میرے اور بڑے بھائی محترم حاجی ملک غلام رزاق) کے ساتھ پیدل چل رہی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہم عرفات سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے عرفات آنے جانے والی ایک دوسرے کی متوازی پختہ سڑکوں پر چلنے کی بجائے درمیان میں کُھلی کچی جگہوں پر چلتے رہے تھے۔ کہیں کہیں ببول کی جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں اور چٹیل میدان میں ہمارے پاﺅں ریت میں دھنس بھی جاتے تھے۔ سورج غروب ہو رہا تھا ۔ ،ملجگا اندھیرا پھیل رہا تھا اور ہماری خواہش تھی کہ ذرا سی روشنی میں ہی میدانِ عرفات کی حدود سے نکل کر مزدلفہ کی حدود میں پہنچ جائیں۔ سچی بات ہے کہ بے جی محترمہ و مغفورہ کی ہمت تھی کہ اتنی کمزور اور لاغر ہونے کے باوجود انہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ خدا خدا کر کے ہم مزدلفہ کی حدود میں داخل ہوئے اور سڑک کے ساتھ ہی ایک کُھلی جگہ دیکھ کر اس پر اپنی چٹائیاں بچھا کر نیم دراز ہو گئے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ رات یہیں گزار لیں گے لیکن اس سے پہلے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں پانی کا کوئی نلکا یا کوئی پائپ یا وضو کرنے کی جگہ دیکھنا تھی تاکہ وضو کریں اور مغرب اور عشاءکی قصر نمازیں ادا کرسکیں۔ میں نے والدہ محترمہ بے جی اور بھائی صاحب سے کہا کہ آپ یہیں آرام کریں اور میں آگے جا کر دیکھتا ہوں کہ کہیں وضو کرنے کی جگہ نظر آئے یا پانی وغیرہ مل سکے۔ میں سڑک پر چلتا ہوا کافی آگے نکل آیا لیکن کہیں سے بھی پانی وغیرہ نہ مل سکا۔ واپس ہوا تو جہاں اندھیرا پھیل چکا تھا وہاں سڑک کے کنارے اور آس پاس اِدھر اُدھر عرفات سے آنے والے بہت لوگ ڈیرے ڈال چکے تھے۔میرے لیے اپنے پڑاﺅ کی جگہ جہاں میں والدہ محترمہ بے جی اور بھائی صاحب کو چھوڑ کر گیا تھا پہنچنا کسی حد تک مشکل ہو گیا تھا کہ سڑک کنارے ہجوم بڑھ گیا تھا۔ شکر الحمدللہ کہ میں نے اپنے پڑاﺅ کی جگہ کے سامنے سڑک کی دوسری طرف ٹیلی فون انٹینا والے ایک بڑے پول کی نشانی ذہن میں بٹھا رکھی تھی ، اس کی مدد سے میں جیسے تیسے وہاں پہنچ گیا۔ محترمہ بے جی اور بھائی صاحب جو میرے واپس آنے میں تاخیر کی وجہ سے کچھ پریشان تھے انہیں تسلی ہوئی ۔ بھائی صاحب کو ہلکا سا بخار تھا اور سردی بھی لگ رہی تھی لیکن بڑا مسئلہ وضو کے لیے پانی کا نہ ملنا تھا۔ ہمارے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ ہم تیمم کریں اور جیسے حکم ہے مغرب اور عشاءکی اکٹھی قصر نمازیں ادا کرلیں۔ 
۱۹۸۳ ءمیں اپنے حج کے دوران منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات میں گزارے گئے وقت کے بارے میں اور بھی بہت ساری باتیں اور یادیں ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہیں لیکن یہاں ان کی تفصیل کا شاید محل نہیں۔ لہذا اِن مقامات کی زیارت کے ذکر کو آگے لے کر چلتے ہیں۔ بس مزدلفہ سے آگے منیٰ کی طرف جا رہی تھی تو ہمارے گائیڈ صاحب نے بتایا کہ دائیں طرف پہاڑیوں کے دامن میں جو بے آب و گیاہ اور کسی حد تک ویران سا قطعہ نظر آتا ہے یہ وادیِ محسر ہے ۔ یہاں رکنا نہیں ہوتا بلکہ یہاں اس کے پاس سے تیزی سے گزرنا ہوتا ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں یمن کے بادشاہ ابرہہ کے لشکر پر جس میں ہاتھی بھی شامل تھے اللہ کریم کا عذاب نازل ہوا تھا۔ سیرتِ طیبہ کی کتابوں میں مرقوم ہے کہ یہ اپریل ۵۷۱ءمیں نبی پاکﷺ کی پیدائش سے باون یا پچپن دن قبل کا واقعہ ہے کہ یمن کا عیسائی بادشاہ ابرہہ جو ہاتھیوں پر مشتمل ایک بڑے لشکر سمیت خانہ کعبہ کو گرانے کی نیت سے آیا تھا اُس پر اسی وادیِ محسر میں اللہ کریم کا عذاب نازل ہوا تھا ۔ قرآنِ پاک کی سورت الفیل میں اس واقعہ کا تفصیل سے ذکر موجود ہے کہ کیسے اللہ کریم نے ہاتھی والوں پر پرندوں (ابابیلوں) کے جھنڈ کے جھنڈ بھیجے جنہوں نے اپنے پنجوں اور چونچوں میں کنکریا ں اٹھا رکھی تھیں جو انہوں نے ہاتھیوں (ابرہہ) کے لشکر پر برسائیں اور انہیں کھائے ہوے بُھس (چارے) کی مانند کر دیا ۔ وادیِ محسر جس کو مزدلفہ یا منیٰ کا باقاعدہ حصہ نہیں سمجھا جاتا اور اس کی لمبائی دو کلومیٹر اور چوڑائی تقریباً چھ سو میٹر بتائی جاتی ہے کے بارے میں نبی پاک ﷺ کی سنت ہے کہ اس کے پاس سے تیزی سے گزرا جائے۔ (جاری ہے)

ٹیگز: