مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے، اسرائیل نے ٹرمپ سے مشاورت کے بعد 13 جون کو علی الصبح چار بجے ایران پر حملہ کردیا اور پورے ایران میں پھیلے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے جاسوسوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق 10 منٹ کے میزائل حملہ میں ایرانی فوجی قیادت اور 6 سائنس دانوں سمیت 80 افراد شہید کردیے اس حملے میں تبریز اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ اسرائیل نے ایران پر پہلی بار حملہ نہیں کیا۔ اپریل 2024ء میں دونوں ملکوں کے مابین جنگ 18 روز جاری رہی، 31 جولائی کو ہتھیاروں کی طاقت جانچنے کے لیے پھر لڑائی 26 اکتوبر تک چلتی رہی تیسری بار 13 جون 2025ء کو اسرائیل نے پھر پنگا لیا ہے۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے قوم سے خطاب میں اسرائیل کو اس غلطی کی سزا دینے کا اعلان کیا اور ہفتہ کی رات 12 بجے کے بعد 150 بیلسٹک میزائلوں سے تل ابیب میں اسرائیل کی وزارت دفاع اور فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے حساب چکا دیا۔ چند میزائل شہر کے وسطی علاقہ میں گرے ۔ رات پھر تل ابیب اور بیت المقدس میں سائرن بجتے رہے بھگڈر مچ گئی شہری پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم مزید جوابی حملوں کے خوف سے خود بھی بنکر میں جاچھپا جہاں سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس نے اعلان کیا کہ شہری آئندہ دو ہفتوں تک بنکرز میں رہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ جنگ وقت گزرنے کے ساتھ ایٹمی جنگ میں بدل گئی تو اس کے اثرات پڑوسی ممالک (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) تک پھیل سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں پاکستان کے بارے میں کہا کہ پاکستان ریڈیکل اسٹیٹ ہونے کے باعث اسرائیل کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت 10 مئی کی شکست فاش کے بعد زخمی سانپ کی طرح بل کھا رہا ہے اور اس نے اسرائیل کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ اس حصہ داری سے مودی ٹرمپ کی ناراضی دور کرنے کا اپنا مقصد بھی حاصل کرسکتا ہے۔ ایران نامعلوم وجوہ کی بنا پر اب تک بھارتی حکومت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتا رہا ہے۔ بد قسمتی سے مسئلہ کشمیر پر اس نے کھل کر پاکستان کی حمایت نہیں کی۔ بی ایل اے کے مختلف گروپوں کے دہشتگرد ایران کے سرحدی شہر میں محفوظ سمجھتے ہیں جہاں را کے اہلکار انہیں فنڈز فراہمی کے علاوہ عسکری تربیت اور جدید ہتھیار بھی فراہم کرتے رہتے ہیں لیکن چار روزہ جنگ میں پاکستان نے جس مہارت جذبہ ایمانی اور جدید ترین اسلحہ سے مودی کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا اس سے ایران کی پالیسی میں تبدیلی نظر آئی ہے اس کے علاوہ بھارتی جاسوسی نیٹ ورک جس طرح ایرانی فوجی قیادت کی شہادتوں کا باعث بنا ہے اس نے ایرانی حکومت اور عوام کو پاکستان کے قریب کردیا ہے۔ اسرائیل پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اس کی کئی وجوہات ہیں پاکستان کے امریکا کے ساتھ قریبی روابط بحال ہوئے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ٹرمپ کی دعوت پر امریکی دورے پر ہیں۔ وہ پاک امریکی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھی مذاکرات کریں گے۔ اس فیلڈ میں خاصے تجربہ کار ہوچکے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے، نیتن یاہو اس پر دانت پیس سکتا ہے۔ سر پر خاک ڈال سکتا ہے کپڑے پھاڑ سکتا ہے لیکن پاکستان پر حملے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ حالیہ جنگ میں بھی اسرائیل کے لیے خطرات موجود ہیں ایران 4 ہزار کلو میٹر کی رینج رکھنے والے جدید ترین خیبر میزائل سے جو ایک دوست ملک نے اسے دیے ہیں اسرائیل کو سرپرائز دے سکتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب خان نے جس وفاقی بجٹ کا اعلان کیا اس پر قومی اسمبلی میں بحث جاری ہے۔ اپوزیشن ارکان نے تو اسے یکسر مسترد
کر دیا نہ کرتے تو خان پارٹی سے نکال دیتے۔ لیکن حکومتی ارکان بھی بجٹ کو چیلنج کر رہے ہیں قسم لے لیجئے کسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔ اعداد کا گورکھ دھندہ، پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس غالب جیسے لوگوں کی دل بہلانے کی کوشش، بجٹ کی خبریں دینے و الے بھی نہ بہل سکے اور بائیکاٹ کرگئے۔ بہلا پھسلا کر واپس لانا پڑا۔ 17 ہزار 573 ارب کا بھاری بھرکم بجٹ دفاع کے لیے 2550 ارب مختص حالیہ جنگ کے بعد اضافہ ناگزیر تھا۔ بھارت نے حال ہی میں 30 ہزار ارب کے میزائل خریداری کا سودا کیا ہے۔ باقی بجٹ اشرافیہ کے گرد گھوم رہا ہے۔ ججز، ارکان اسمبلی ارکان سینیٹ کی تنخواہوں میں پہلے سے اضافہ کردیا گیا۔ اب اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین کی تنخواہوں میں 600 فیصد تک اضافہ اسپیکر کی تنخواہ 2 لاکھ 5 ہزار سے 21 لاکھ ہوگئی جسے خواجہ آصف جیسے سینئر اور اپنے لیڈر نے ’’مالی فحاشی‘‘ قرار دے دیا۔ اربوں ڈالر کے قرضے لے کر ریلیف دینا چہ معنی دارد، شکر ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے نوٹس لے لیا ہے مگر یہ کافی نہیں جن کے گھر بھرے ہیں انہیں نوازنے کی بجائے خالی گھروں پر توجہ دی جائے بقول حبیب جالب مرحوم ’’وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے، ہر بلاول ہے قول کا مقروض، پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے‘‘ حکومت گڈ گورننس کا آغاز گھر سے کرے۔ 25 سے 35 کروڑ دے کر سینیٹ کے رکن اور کروڑوں خرچ کر کے قومی اسمبلی میں آنے والوں سے ملک کی خاطر 5,5 کروڑ عطیہ لیا جائے تو ملک آئی ایم ایف کے سودی چنگل سے نکل سکتا ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، اونٹ کے منہ میں زیرہ، غیر سرکاری ملازمین کہاں جائیں گے۔ پرائیویٹ ادارے تنخواہیں نہیں خیرات دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رزاق ہے ورنہ تین چار کروڑ غیر سرکاری ملازمین روٹی بوٹی کو ترس جائیں۔ وزیر اعظم تنخواہ نہیں لیتے باقی کیوں لے رہے ہیں۔ 11 کروڑ غریبوں کا خیال کریں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں سے مہنگائی پر قابو پائیں۔ فلور اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کی بلیک میلنگ سے بچیں یہ نسخہ ہمارا نہیں حکیم لقمان کا ہے۔ اللہ شافی اللہ کافی۔