اسلام آباد:وفاقی حکومت نے ملک بھر میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ فارمولا نافذ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کے خاتمے اور نئی پالیسی کے نفاذ کے لیے باضابطہ طور پر ورکنگ شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیٹ بلنگ فارمولے کے تحت صارفین کی جانب سے گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی (امپورٹ یونٹس) پر قومی ٹیرف لاگو ہوگا، جبکہ سولر سسٹم کے ذریعے گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی (ایکسپورٹ یونٹس) کے لیے 27 روپے فی یونٹ کی قیمت مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق امپورٹ اور ایکسپورٹ ہونے والے یونٹس کا حساب الگ الگ کیا جائے گا۔ قومی ٹیرف کی بنیاد پر تیار ہونے والے بل سے ایکسپورٹ شدہ یونٹس کی رقم منہا کی جائے گی، اور اگر نتیجتاً اضافی رقم بنتی ہے تو صارفین کو وہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
حکام کے مطابق موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے باعث صارفین کو بجلی کے بلوں میں اربوں روپے کا ریلیف مل رہا ہے، جس کے مالی اثرات کے پیش نظر پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی نیٹ بلنگ پالیسی کا اطلاق صرف نئے نیٹ میٹرنگ کنٹریکٹس پر ہوگا، جبکہ موجودہ صارفین اپنے سات سالہ کنٹریکٹ کی مدت پوری ہونے تک پرانے نظام کے تحت ہی مستفید ہوتے رہیں گے۔ کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد تجدید نئی نیٹ بلنگ پالیسی کے مطابق کی جائے گی۔