غزہ: اسرائیل کے حملوں نے غزہ میں تباہی مچادی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 17 فلسطینی شہید ہوئے ہیں اور 69 زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے آخری فعال ہسپتال کو بھی تباہ کر دیا، جس سے صحت کی سہولتوں پر مزید بوجھ پڑا ہے۔
جنوبی غزہ میں ایک فیلڈ ہسپتال پر بھی اسرائیلی فضائی حملے ہوئے، جس میں کئی فلسطینی شہید اور زخمی ہو گئے۔ اسرائیل کی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں طبی سامان اور ادویات کی کمی شدید ہو چکی ہے، جس سے سیکڑوں مریضوں کی زندگی خطرے میں ہے۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، غزہ میں اب تک 51 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 116,343 فلسطینی زخمی ہیں۔
سعودی عرب اور قطر سمیت کئی دیگر ممالک نے غزہ کے ہسپتال پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی ہے اور اس جنگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے بات کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی ترسیل کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے فلسطین کے دو ریاستی حل کی اہمیت پر بھی بات کی۔دوسری طرف حماس نے اسرائیل کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بات سننے کے قابل نہیں ہے۔