سیماب طبیعت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر معمولی اور بے ربط ٹیرف پالیسی نے دنیا بھر میں واشنگٹن کے حلیفوں اور حریفوں کے معاشی سسٹمز کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک کے اقتصادی نظاموں کو ہنوز آفٹر شاکس کا سامنا ہے۔ چین تو اس غیر متوقع معاشی جنگ میں کمر کس کے امریکہ کے سامنے آ چکا ہے تاہم ایسے ممالک کی بھی کمی نہیں جو امریکہ بہادر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا تو درکنار ان پر تواس کی جانب دیکھنے کے خیال سے بھی کپکپی طاری ہو رہی ہے۔ یوں ایک متوقع عالمی جنگ سے قبل تیسری ’’عالمی معاشی جنگ‘‘ کے نقارے بج چکے ہیں۔ دنیائے افق پر رونما ہوتی تبدیلیوں سے یقیناً پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
بھاری ملکی و غیر ملکی قرضوں میں جکڑی معیشت اور ایسے میں امریکہ کی جانب سے پاکستانی برآمدات پر عائد بھاری ٹیرف ، مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق ہے ۔ اگر پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف برقرار رہتا ہے تو اس کے مہلک اثرات پاکستانی برآمدادات اور اس سے متعلقہ اداروں، انڈسٹری اور افراد پر پڑیں گے۔ ایک ارب 40 کروڑ ڈالر تک جہاں برآمدات میں کمی واقع ہو سکتی ہے وہاں پانچ لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔جہاں پوری دنیا اس امر کا اندازہ لگانے میں مصروف عمل ہے کہ کس طرح اس معاشی دباؤ اور بحران سے نپٹا جائے وہاں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت جس منفرد حکمت عملی اور حل کے ساتھ دنیا کے سامنے آئی ہے وہ غیر معمولی، بروقت اور قابل ستائش ہے ۔
یہ امر یقینی ہے کہ کامیابی کی صورت میں پاکستان پر غیر ملکی بھاری قرضہ تو ایک طرف ، پاکستان ہر طرح کے معاشی و اقتصادی بحران سے کچھ ہی عرصے میں نکل جائے گا۔ پاکستان کی موجود قیادت نے پاکستانیوں کے قدموں کے نیچے موجود عظیم معدنی ذخائر کو دنیا کے سامنے پیش کر کے پاکستانی مسائل کے حل کا ایک منفرد ، مثبت اور قابل عمل منصوبہ پیش کیا ہے
جس کے اثرات آنے والے کئی دہائیوں پر محیط ہوں گے۔ پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم کی شکل میں ممکنہ طور پر اٹھائے جانے والے اقدامات میں اگر شفافیت ، برق رفتاری اور درست سمت کو برقرار رکھا گیا تو کامیابی یقینی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم سے خطاب میں کہا کہ بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں معدنیات کے کھربوں ڈالر مالیت کے ذخائر ہیں جن کو نکال کر قرضوں کے پہاڑ سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بڑے مدلل انداز میں کہا کہ پاکستان عالمی معدنی معیشت میں رہنما کے طور پر ابھرنے کے لیے پوری تیار اور سرگرمٍ عمل ہے۔
پاکستان فوج اپنے شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ آرمی چیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے وسیع معدنی وسائل، تربیت یافتہ افرادی قوت اور شفاف پالیسیوں کی بدولت معدنی شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں جن سے اجتماعی قومی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ملک کے پالیسی سازوں کو اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ معدنیات نکالتے وقت نہ صرف پاکستانی نوجوانوں کو کان کنی کے تکنیکی اور جدید ہنر سے آشنا کرنا ہو گا بلکہ یہاں آنے والی ہر انویسٹمنٹ کمپنی کو تکنیکی مہارت اور مشینری پاکستان منتقل کرنے کے لیے پابند کرنا ہوگا جیسا کہ بھارت اور چین میں کیا گیا ہے۔ پورے ملک میں فنی تعلیم کے معیاری اداروں کا جال بچھانا ہوگا ملک بھر میں موجود چیمبرز آف کامرس سے وابستہ بزنس مینوں اور تاجروں کو اعتماد میں لینا ہو گا تاکہ اس تاریخی اقدام کے ثمرات تمام پاکستانیوں اور بحیثیت مجموعی پاکستان کو مل سکیں نہ کہ ایک مخصوص طبقے کو ایسے میں ایک اور خبر بھی قابل غور ہے جس کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے وفد نے ماحولیات کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے پٹرول پر مزید پانچ فیصد لیوی بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
مہنگائی کے بوجھ تلے دبے پاکستانیوں کے لیے یہ اطلاع کسی مژدہ جاں فزا سے کم نہیں۔ پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جہاں ماحولیاتی آلودگی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے۔ آلودگی کی بنیادی وجوہات میں جہاں بہت سے دیگر محرکات شامل ہیں تو وہاں متعلقہ سرکاری اداروں میں دھائیوں سے موجود کرپشن، نااہلی اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی سر فہرست ہے۔
آلودگی میں خطرناک اضافے کی وجہ لاہور کے اصل ماسٹر پلان سے روگردانی ہے۔ لاہور کو عملاً سریے اور سیمنٹ کے جنگل میں تبدیل کیا جا چکا ہے جو یقیناً ایل ڈی اے، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور ، ڈی ایچ اے اور روڈا جیسے اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی کارستانیوں،چیرہ دستیوں اور بدعنوانیوں کی ہوشربا داستانوں کے بغیر ممکن نہیں۔ سبزے اور زرعی رقبے کا بے دریغ خاتمہ اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا قیام موسم سرما میں سموگ اور موسم گرما میں ٹمپریچر میں اضافہ کا باعث ہے۔ روڈا کا منصوبہ شروع کیا گیا تو دعوی کیا گیا کہ اس منصوبے سے بیراجوں کی تعمیر اور وسیع رقبے پر جنگل اگائے جائیں گے جس سے شہر کی نہ صرف فضا بہتر ہوگی بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہوگی تاہم یہ منصوبہ بھی اس وقت اپنے اصل مقاصد سے ہٹ کر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام میں مصروف عمل نظر آتا ہے۔ انڈیا کی جانب سے دریائے راوی میں پانی کی بندش کے باعث پورا منصوبہ ہی خطرے سے دو چار ہے اگر بی آر بی نہر سے پانی لیا گیا تو زراعت کے لیے ایک وسیع رقبہ جس کا انحصار اس نہر پر ہے بری طرح متاثر ہوگا۔ روڈا کی اپنی حالت یہ ہے کہ یہاں میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے بڑی تنخواہوں پر افسران اور اہلکاروں کی فوج ظفر موج بھرتی کی جا چکی ہے۔