نفسا نفسی کے دور میں ہماری روایات اور ثقافت سب دوراہے پر ہیں۔ قحط الرجال ہے۔ مادہ پرستی کی وجہ سے ہر انسان خود غرض ہو گیا ہے۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوئی ہے ایسے میں سب سے اہم بات کے زندگی تجھے کیسے بسر کیا جائے کہ مادیت کے اس دور میں انسانی خدمت، امن سکون اور آشتی کا دور دورہ ہو۔ انسان گلوبلائزیشن، جدید ترین تیکنیکی فتوحات اور انٹر نیٹ کی سہولیات کی زائیدہ صارفینی تہذیب اور اس کے مسائل و حقائق کی وجہ سے آج کی مقابلہ جاتی زندگی میں معاشرت اور ثقافت کو آزاد فطری، تکثیری اور تعمیری سانچے میں ڈھالنے پر یقین رکھتا ہے۔ در اصل صارفینی تہذیب کے سبب آج کا انسان ہر چیز کو نفع اور نقصان کی نظروں سے دیکھنے کا عادی ہو چکا ہے۔ آج ہر شخص ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہے چین و سکون غارت ہو گیا ہے ذہنی انتشار کی وجہ سے آج معاشرے میں طرح طرح کی جسمانی بیماری اور ذہنی دباؤ کا لوگ شکار ہو رہے ہیں۔
ایک زمانہ وہ بھی تھا جب کوئی محترم شخص کچھ بولتا تھا تو سننے والے ان کی کہی باتوں کو اپنی شخصیت میں اتارنے کی بھرپور کوشش کرتا تھا۔ وہ شخصیت چاہے اس کے والدین ہوں ، یا خاندان کے کوئی بزرگ ہوں، استاد ہوں یا کوئی مذہبی یا سیاسی شخصیت ہوں۔ بزرگوں کی باتوں کو از بر کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اب مادہ پرستی دلوں میں سرائیت کرتی جا رہی ہے، لوگ مال و دولت کی پرستش کرنے لگے ہیں، ہمدردی اور محبت جیسی چیزیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں، والدین تنہائی کا شکار ہیں جب کہ بچے محبت کو ترس رہے ہیں گویا قیامت کا منظر ہے۔
مادہ پرستی جب دلوں میں سرائیت کر جاتی ہے اور مال و دولت اور اعزاز و مفادات کی پرستش پر مجبور کر دیتی ہے تو نہایت خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اس بیماری نے انسان کو اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہر دل میں بغض و عداوت کے بیج ڈال دئے گئے ہیں۔ لوگ اس کی نزاکت کی جانب دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ اگر کچھ دھیان دیتے بھی ہیں تو وہ اس برائی سے گلو خلاصی کی ہمت یا طاقت نہیں رکھتے۔ اسے کوئی پرواہ نہیں کہ اس کی وجہ سے وہ دوسروں کی نظروں میں گر رہا ہے یا نہیں، دوسروں کی نظروں میں اس کی شخصیت مجروح ہو کر رہ جائے گی تو اسے کوئی غم نہیں۔ آج بڑی سے بڑی شخصیت جسے عام طور پر کامیاب انسان سمجھا جاتا ہے، وہ اندر سے ٹوٹا ہوا اور بکھرا ہوا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس مرض کاعلاج کیا ہے کیا سبیل کی جائے کہ انسانیت ترقی کرنے لگے اورانسانیت کو عروج ملے ۔ جس سے مادہ پرستی کی دبیز چادر کو ہٹایا جا سکے تا کہ انسان کا دل سچ پر آمادہ ہو، ہر انسان انسانیت کو اپنا پیمانہ بنانے لگے۔ سچائی ایک روشن پہلو جو تمام انسانیت کے لئے نعمت سے کم نہیں۔ اس پر عمل کرتے ہوئے سبھی سچائی امانت اور دیانت کے راستے پر چل پڑیں؟ کیا کوئی ایسا راستہ ہے جس پر چل کر انسانیت اپنے اس طفلی دور سے نکل کر ترقی کرے؟ جی ہاں اگر ہم تھوڑا سا سوچیں اور اپنے اندر کی آواز کو سننے کی کوشش کریں اور ساتھ ساتھ عقل و فہم کے گھوڑے دوڑائیں تو معلوم ہو گا اس کا علاج ممکن ہے۔
بالکل ایسا ممکن ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان کو اپنے حیوانی خصائل و عادات کو بدلنا ہو گا اور اپنے باطن کو حیوانی فطرت سے پاک و صاف کرنا ہو گا۔ جو کہ بظاہر بہت مشکل کام ہے، میں نے زندگی کی طویل مسافت طے کرتے ہوئے بہت سے ایسے پڑھے لکھے، سلجھے، مہذب، خوش پوش اور بعض بلند و بالا عہدوں پر فائز انسان دیکھے ہیں جن میں کسی کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ سانپ کی مانند ڈستا ہے اورکسی کے بارے میں اس کے نام نہاد دوستوں کی رائے ہوتی ہے کہ وہ کتے کی مانند بھونکتا ہے۔ قارئینِ کرام یقیناً آپ کے عزیزوں، دوستوں اور رشتے داروں میں بھی ایسے خواتین و حضرات کی کمی نہیں ہو گی جو موقع ملنے پر آپ پر حسد، غیبت، عیب جوئی اور نفرت کے پتھر پھینکتے ہوں گے کچھ ایسے بھی ہوں گے جو آپ پر بہتان لگاتے ہوں گے، بڑی دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہوں گے اور آپ کو نقصان پہنچا کر خوش ہوتے ہوں گے ۔ میں جب اپنی بات کرتا ہوں میرے ارد گرد عزیز و اقارب دوست احباب سب میرے سے بڑا ناروا رویہ رکھتے ہیں، میری چھوٹی موٹی دنیاوی کایابیوں پر حسد کا رویہ اپناتے ہیں۔ خصوصاً میرے خونی رشتے مجھے استعمال بھی خوب کرتے ہیں لیکن جھنجھوڑتے بھی بہت ہیں، کبھی کبھی میں ان کی ان چیرہ دستیوں پر پریشان بھی بہت ہوتا ہوں۔مگر اس ضمن میں میرا ایک عجیب مشاہدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر آپ صبر کریں ایسے لوگوں سے انتقام لینے کی بجائے محض رضائے الٰہی کی خاطر معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں تو پھر آپ کو اس کا انعام بھی ملتا ہے۔ یعنی بعض لوگوں کے گناہ کا ثواب آپ کو ملتا ہے۔ میں جب مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے کھاتے میں کامیابیاں اور اللہ پاک کی رحمتیں ہی نظر آتی ہیں اور جب ان لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں تو اللہ پاک کی رحمتوں کے حوالے سے انہیں کہیں پیچھے پاتا ہوں۔