تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا ہے۔ ہم غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جاتے ہیں‘ چاہے یہ انفرادی سطح پر ہوں یا اجتماعی اور قومی سطح پر‘ ہم بار بار ان غلطیوں کو دہراتے بھی ہیں لیکن ان سے کوئی اصلاح کا پہلو لیکر ان کی درستگی نہیں کرتے ۔ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں تو ہمیں بے شمار ایسی مثالیں ملیں گی کہ ہم بار بار انہی ناکام تجربات کو آزماتے ہیں جو ہم یا ہمارے بڑے پہلے بھی کر چکے تھے۔ قومی سیاست کی بات کی جائے تو بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے سیاسی زعماء بھی تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی حالات پہیے کی طرح ایک ہی دائرہ میں گھوم رہے ہیں ۔کبھی ایک جماعت زیر عتاب تو کبھی دوسری ، کبھی ایک اقتدار کے ایوانوں میںبراجمان تو دوسری زندانوں میں ۔رونا تو اس بات کا ہے کہ کوئی سیاستدان اپنی غلطی تسلیم کرنے کو بھی تیار نہیں، شاید غلطی تسلیم بھی کر لی جائے لیکن اس سے سبق کوئی بھی نہیں سیکھتا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک مقبول سیاستدان کیلئے یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ سیاستدانوں کا کام قوم کو متحد کرنا ہوتاہے مگر ہمارے ہاں اس کے برعکس تقسیم نظر آتی ہے۔ اپنے مفادات اور حصولِ اقتدار کی خاطر ہر منفی حربہ استعمال کیا جارہاہے۔نفرت اور انتشار کی سیاست کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے‘ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اس طرزِ سیاست نے ماضی میں بھی نقصان پہنچایا لیکن ’’ میں نہ مانوں‘‘ کی صدائیں اب بھی مسلسل آ رہی ہیں۔سانحہ سقوط ڈھاکہ سے بھی ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہمارے لیڈر ایک دوسرے کے بیانات کے علاوہ شاید اور کچھ نہیں پڑھتے خاص کر تاریخ کا مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے۔نامور تاریخ دانوں ہیروڈوٹس اور ابن خلدون کے نام تو انہوں نے ضرور سن رکھے ہوں گے لیکن ان کا مطالعہ کرنے کیلئے ان کے پاس وقت نہیں ہوگا۔تاریخ کا مطالعہ کریں تو بنی نوع انسان کی معلوم تاریخ میں ہم کروڑوں خوفناک اور تباہ کن غلطیاں کر چکے ہیں۔ کچھ ایسی غلطیاں ہیں جن پر ہم بہت پشیمان ہوئے‘ سوگ منایا‘ برسوں تاسف کا اظہار کیالیکن پھر وہی غلطیاں دہرائیں۔
تاریخ ہر قسم کے سبق آموز واقعات سے بھری ہوئی ہے مگر ہم میں سے کوئی شخص جب کام کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اکثر وہ انہی ناکام تجربات کو دہراتا ہے جو اس سے پہلے بار بار پیش ا ٓچکے ہیں ۔وہ تاریخ کے قانون کو جانتے ہوئے اپنے آپ کو شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سے الگ کر لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ تاریخ مسلسل طور پر یہ سبق دیتی رہی ہے کہ کوئی قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب اس کے افراد میں کردار کی طاقت پیدا ہو جائے مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم افراد میں کردار کی طاقت پیدا کیے بغیر ترقی کی طرف چھلانگ لگا نا چاہتے ہیں ۔ساری تاریخ کا فیصلہ ہے کہ قوموں کی سربلندی کا راز ابتدائی سطح پر تعمیر و استحکام ہے مگر ہمارے ہاں لوگ موقع ملتے ہی مقابلہ آرائی شروع کر دیتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قوم کے افراد کے درمیان باہمی اتحاد خواہ کسی بھی قیمت پر بھی ہو باقی رکھنا انتہائی ضروری ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ معمولی معمولی باتوں پر ہمارے یہاں لوگ ایک دوسرے کے خلاف محاذ بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ حقیقت پسندی کسی بھی کامیابی تک پہنچنے کا واحد زینہ ہے مگر ہمارے رہنما نہایت بے دردی کے ساتھ قوم کو جذباتی ہنگاموں میں مشغول کر دیتے ہیں۔ ملت کو اوپر اٹھانے کا کوئی منصوبہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ ملت کے افراد کواوپر اٹھایا جا ئے۔ تاریخ کا سبق یہ بھی ہے کہ ملت کی ترقی کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو کہنے سے زیادہ کرنا جانتے ہوں‘جو بولنے سے زیادہ چپ ر ہنا جانتے ہوں ‘جو الفاظ سے زیادہ معانی کی زبان سمجھتے ہوں‘ جو طاقت سے زیادہ دلیل کے آگے جھکنے والے ہوں‘ جو آگے بڑھنے سے زیادہ پیچھے ہٹنے کے بہادر ہوں۔ اصلاحِ قوم کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو اصلاحِ فرد سے شروع کیا جائے نہ کہ انقلابِ حکومت سے۔ ہمیں کم ازکم یہ بات تو یا درکھنی چاہئے کہ جن اسباب نے پاکستان کو جنم دیا تھا اور جنہیں ملکی سیاست سے آہستہ آہستہ رخصت کیا جارہا ہے ان کے بغیر اس ریاست کا ڈھانچہ قائم رکھناہمارے لئے ممکن ہوگا؟قیام ِپاکستان کے دو ہی اسباب تھے۔پہلا سبب یہ تھا (اور اس کا اظہار قائداعظم نے بڑے واشگاف الفاظ میں بیورلے نکلس کوانٹرویو دیتے ہوئے کیا تھا )کہ مسلمان ایک قوم ہیں اور دوسرا سبب یہ تھاکہ اگر مسلمان ایک قوم ہیں تو انہیں برصغیر میںایک الگ آزاد وطن بھی چاہئے جہاں وہ اسلام کے مطابق آزادانہ انداز میں اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران ’’ پاکستان کا مطلب کیا… لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ زبان زدِ عام تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد ہم اس نعرہ کو بھول گئے۔
انسانی تاریخ میں جنگوں کا طویل سلسلہ اس کی غلطیاں مسلسل دہرانے کی ایک مثال ہے۔ پہلی جنگ عظیم کو دیکھ لیں۔ اس سے ہم نے بہت نتائج اخذ کیے۔ جنگ کے اختتام پر اس کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں پر تقاریر کیں‘ فلمیں بنیں ، ناول لکھے گئے ادب تخلیق ہوا۔ مگر اس سے سبق نہ سیکھا گیا، اگر سیکھا ہوتا تو دوسری جنگ عظیم کیوں برپا ہوتی۔ پھر اس کے بعد جنگوں کا ایک سلسلہ کیوں چلتا، جو ہنوز جاری ہے۔امریکہ جانتا تھا کہ دو سپر پاورز روس اور برطانیہ افغانستان سے ناکام و نامراد لوٹی ہیں لیکن اس نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور افغانستان پر حملہ آور ہوا لیکن ناکامی مقدر ٹھہری۔ ہمارے ہاں تو تاریخ سے نہ سیکھنے پر اصرار کچھ زیادہ ہی ہے۔ ہم تو کل کی غلطی آج دوبارہ دہرانے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ایسے میں تاریخ سے سبق سیکھنے کا درس دینا اپنے آپ کو خیالی دنیا میں رکھنے کے ہی مترادف ہے۔ یاد رکھیں جو تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا پھر تاریخ اسے سبق سکھاتی ہے۔