Wed, September 16, 2026

ٹیکس کے کاغذی اہداف اور اعتماد کابحران !

ٹیکس کے کاغذی اہداف اور اعتماد کابحران !

پاکستان میں ٹیکس کے اہداف اور وصولی ان مسائل میں شامل ہے جس پرتقریباً ہمیشہ بات ہوتی رہتی ہے اور اس کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی جاتی رہتی ہیں۔ لیکن بہت سارے تجربات کے باوجود بھی ابھی تک ٹیکس اہداف میں ہمیشہ شارٹ فال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ 
موجودہ مالی سال کے بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے14,131 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں خبریں آئیں کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر اپنے مقررہ ہدف سے 199 ارب روپے پیچھے رہ گیا۔ جولائی تا ستمبر کے دوران 3.083 کھرب روپے کا ہدف مقرر تھا مگر وصولی 2.884 کھرب روپے رہی۔ اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن ٹارگٹ سے کم ہے۔ یہ صورتحال نئی نہیں۔ گزشتہ مالی سال میں بھی ایف بی آر 163 ارب روپے کم وصول کر پایا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی بنیادی وجوہات ہیں جو ہر سال ایف بی آر کو ہدف کے حصول سے روکتی ہیں؟ اور کیا یہ صرف انتظامی ناکامی ہے یا ٹیکس کے پورے ڈھانچے میں کوئی گہری خرابی موجود ہے؟ اس حوالے سے جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔
سب سے بڑی حقیقت تو یہی ہے کہ جب نظام کا بوجھ چند طبقات پر ڈالا جائے تو نہ صرف اعتماد ختم ہوتا ہے بلکہ لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر نکلنے کے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس نیٹ انتہائی محدود ہے۔ محض چند لاکھ افراد اور کمپنیاں ٹیکس دیتے ہیں جبکہ ملک کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہی وہ بنیادی خلیج ہے جسے پُر کیے بغیر ایف بی آر کے تمام اہداف کاغذی ثابت ہوں گے۔
ایسا نہیں کہ ایف بی آر ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوشش نہیں کرتا لیکن مسئلہ عملدرآمد اور حقائق سے منافی بنائی گئی پالیسیز کا ہے۔ ایف بی آر نے 2018-19 میں پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کے ذریعے ریٹیل سیکٹر کو ڈیجیٹلائزکرنے کی کوشش کی تھی، مگر سات سال بعد بھی یہ منصوبہ اپنی اصل روح کے مطابق کامیاب نہیں ہو سکا۔ ملک میں ایک لاکھ سے زائدٹیئر۔ون ریٹیلرز موجود ہیں جبکہ ان کے علاوہ لاکھوں دیگر ریٹیلرز بھی موجود ہیں لیکن ٹیکس کی دو دھاری تلوار کی زدمیں صرف 11 ہزار ٹیئر ۔ون ریٹیلرز ہی آتے ہیں۔ جن کو ٹیکس، پھر مزید ٹیکس اور پھر انتہائی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔غیررجسٹرڈ کاروبار تو کسی نہ کسی طرح خود بچالیتے ہیں لیکن تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے باوجود کمپلائینٹ ریٹیلرز کو 18 فیصد جی ایس ٹی، پیچیدہ فائلنگز، اور بلند انکم ٹیکس ریٹس برداشت کرنا پڑتے ہیں جو 29 فیصد سے 45 فیصد تک ہیں۔ جبکہ دیگر کاروبار صرف بجلی کی سیلز ٹیکس سرچارجز یا خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ محتاط اعداد و شمار کے مطابق کمپلائینٹ ریٹیلرز مختلف ٹیکسز میں اپنے ٹرن اوور کا 20 سے 25 فیصد ادا کرتے ہیں جو قومی ٹیکس ٹوجی ڈی پی کے شرح تناسب سے تقریباً دگنا ہے۔ اتنا توشاید کمزور معاشی حالات نے کاروبار کو نقصان نہ پہنچایا ہو جتنا اس غیر مساوی ٹیکس نظام نے دیانت دار کاروباری طبقے کو نقصان پہنچایا ہے۔ 
کاروباری طبقہ اکثر شکایت کرتا ہے کہ جو ادارے قانون کے مطابق چلتے ہیں، انہی کو سب سے زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے۔ POS سسٹم میں بار بار خرابی، بلاوجہ جرمانے اور دکانیں سیل کرنے کی کارروائیاں ٹیکس کمپلائینس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب ایمانداری کا صلہ سزا کی صورت میں ملے تو نئے کاروبار کیوں نظام کا حصہ بنیں؟ نتیجتاً غیر دستاویزی معیشت کو غیر اعلانیہ تحفظ حاصل ہے، اور ریاست اپنے ہی ریونیو سے محروم رہتی ہے۔ تاجر دوست سکیم کی ناکامی اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ حکومتی نظام میں موجود فیصلہ سازوں کو یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ پاکستان میں ٹیکس وصولی کا مسئلہ محض ادائیگی کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔ جب حکومت ایک منصفانہ نظام دے گی، سہولت اور احترام فراہم کرے گی، تب ہی عوام ٹیکس دینے میں دلچسپی لیں گے۔ بصورتِ دیگر، ہر سال یہی کہانی دہرائی جائے گی کہ ہدف بڑا رکھا، وصولی کم ہوئی، اور خسارہ بڑھتا گیا۔ 
اگر پاکستان کو اپنے ٹیکس نظام کو پائیدار بنانا ہے تو سب سے پہلے اسے بزنسزکے لیے یکساں، سادہ، منصفانہ اور قابلِ بھروسہ بنانا ہو گا۔ نظام کی درستی کے لیے ایف بی آر کو نہ صرف ماڈرن ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ورکنگ کرنے والا ادارہ بنانا ہوگا بلکہ اسکے رویے کو حقیقی طور پر تاجر دوست سانچے میں ڈھالنا ہوگا تاکہ تاجر ایف بی آر کو نظرانداز کرنے کی بجائے پارٹنر سمجھیں۔ ایک طویل مدتی ٹیکس پالیسی روڈ میپ تیار کیا جائے تاکہ پالیسیوں کا تسلسل قائم رہے اور کاروباری طبقہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ ایک اور تجویز یہ ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے رعایتی شرح اور صارف دوست انعامی سکیمیں متعارف کرائی جائیں۔ مثال کے طور پر 2019 سے 2022 کے دوران جب POS ریٹیلرز کے لیے سیلز ٹیکس کو 17 فیصد کے مقابلے میں 10 سے 15 فیصد تک محدود رکھا گیا تو کاروباروں کی ٹیکس شمولیت میں واضح اضافہ ہوا۔ مگر جیسے ہی یہ رعایت ختم ہوئی تو یہ رجحان رک گیا۔ پنجاب حکومت نے جب ریستورانوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 11 فیصد رعایت دی تو آمدن میں اضافہ دیکھا گیا، اور یہی ماڈل اب سندھ بھی اپنا رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پالیسی میں تسلسل اور مراعات کا صحیح امتزاج ریونیو میں حقیقی اضافہ لا سکتا ہے۔ ایک مضبوط ریاست کا خواب اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب ٹیکس دینا بوجھ نہیں بلکہ ذمہ داری اور فخر کی علامت بن جائے۔

ٹیگز: